• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حج اور قربانی کا فلسفہ.....سید منور حسن…امیر جماعت اسلامی

اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقررکردہ عبادات بالخصوص نماز کو اگر دیکھا جائے تو اس میں کافی حدتک سکون و یقین اور عشق و محبت کے جذبات کے ابلنے اور ان کے فزوں ترہونے کی گنجائش موجود ہے لیکن بہت تھوڑی دیر کے اندر نماز کاسلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔لیکن حج ایک ایسی عبادت ہے کہ جس میں تفصیل کے ساتھ اور ساری جزئیات کا احاطہ کرتے ہوئے بندے کو اس عشق و محبت جو اپنے رب کے ساتھ وہ رکھتا ہے، کے اظہار کا، اپنے رب کی طرف پلٹنے کا ، ہاتھ سے چھونے کا اور آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ان گنت عنوانات ہیں جو اللہ تعالی نے حج کی عبادت میں رکھے ہیں جو مناسک حج شمار ہوتے ہیں،جن کو شعائراللہ کہا جاتا ہے۔ ان شعائر کے احترام اور ان پر ایمان کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرے احترام اور میرے اوپر ایمان لانے کے مترادف ہے۔اور ان شعائر کے حوالے سے کوئی کوتاہی گویا اللہ تبارک و تعالیٰ کی بندگی میں کوتاہی کے مترادف ہے۔
حج کے جس جس عمل کو آپ دیکھیں، اس میں یہ بات نمایاں نظر آئے گی۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کوبھلا کوئی عقل تسلیم کرتی ہے؟ کوئی استدلال اس کے لیے مہیا ہوتاہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک خاتون کے عمل کو اس قدر محبوب و مقبول فرمایاکہ رہتی دنیا تک سارے انسانوں کو اس پر عمل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ سعی کیاہے؟ دو پہاڑوں کے درمیان بھاگ دوڑ لیکن جس کو دیکھودوڑا چلا جارہاہے۔ اصل میں یہ عشق کی اس کیفیت کااظہارہے کہ جو بندہ اپنے رب کے ساتھ رکھتا ہے۔ شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کے اندر بھی تعلق اور وابستگی کے تمام جذبات موجود ہیں اور اس کا پورا فلسفہ طبیعت اورمزاج کے اندر ایک وارفتگی پیدا ، اور اپنے رب سے قریب ہونے اورشیطان سے دور ہونے کا احساس اجاگر کرتا ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دینے کے متعلق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے کہ اے اسود تو صرف ایک پتھر ہے،تیری کوئی حیثیت اور مقام نہیں ہے،اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ کو بوسہ نہ دیا ہوتااور اس حوالے سے اجر و صلے کا اعلان نہ کیا ہوتاتومیں ہرگز تجھے بوسہ نہ دیتا۔یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے مقام و مرتبے کا تعین اور اظہار بھی فرما رہے ہیں اور اس کے محض پتھر ہونے کا عنوان بھی بلاخوف تردید بیان فرمارہے ہیں۔
تمام مناسک حج کے اندر انسانی فطرت میں موجود عشق ومحبت کے جذبات کا ابال نظرآتا ہے۔ انسان چیزوں کو چھونا چاہتا ہے،آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے، اپنے رب کو تو نہیں دیکھ سکتا اس کی صفات سے اس کو پہچانتا ہے۔پھر اس کے احکامات کے نتیجے میں اطاعت کے راستے پرچلتا ہے اور ان اوامر پر عمل کرکے خوشی محسوس کرتاہے اور سکون اور سکینت کے راستوں سے گزرتا ہے۔بہتر سے بہتر اجر اورصلہ پاتااور اپنے رب سے قربت کی منزلوں کو طے کرتاہے۔
اورجو لوگ حج پرجانے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کے لیے بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود سے عشق و محبت کے جذبات کے اظہار کے مواقع فراہم
کیے ہیں جیسا کہ عیدالاضحی کے دنوں میں تکبیریں شروع ہوجاتی ہیں ’ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ واللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمد‘، تکبیر پڑھ کر حج پر نہ جا سکنے والے اپنے رب کی کبریائی کو بھی بیان کرتے ہیں اور حج اورحاجیوں کے ساتھ قربت ویگانگت بھی محسوس کرتے ہیں۔ جو لوگ حج پر نہیں جاسکتے ان کے لیے یہ ہدایت موجود ہے کہ وہ ذی الحج کے پہلے دس دن بالکل حاجیوں کی طرح گزارنے کی کوشش کریں۔ اپنے بالوں کو نہ ترشوائیں، اپنے ناخنوں کونہ کاٹیں، اور نیت اور ارادہ یہ رکھیں کہ ہم یہ سارا کام اس لیے کررہے ہیں،کہ جزوی طور پر ہی سہی لیکن دس دن حاجیوں کے ساتھ مماثلت اور یگانگت ہوجائے اور ہم بھی ان کی طرح اجر و ثواب کے مستحق ٹھہریں۔ احادیث میں ذی الحج کے پہلے عشرہ کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، اور اس میں روزہ رکھنے کو مسنون قرار دیا گیاہے، اس کے خصوصی اجرو صلے اور ثواب کا تواتر کے ساتھ احادیث میں ذکر ملتا ہے۔ خود قرآن پاک میں سورہ فجر میں جن دس دنوں اور راتوں کا ذکر کیا گیا ہے، مفسرین کا کم و بیش اتفاق ہے کہ ان دس دنوں میں کوئی نیکی ایسی نہیں ہے جس کا بہتر سے بہتر اجر نہ ملے ۔حج اور اس کے ساتھ قربانی کے فلسفے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر بکرے اور مینڈھے کی قربانی ہوتی ہے،چاروں طرف خون کے فوارے چھوٹتے نظر آتے ہیں اور فرمایا گیا کہ عیدالاضحی کے تین دنوں میں قربانی کرنے اور خون گرانے سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے۔اسی طرح ارشاد فرمایا کہ قربانی کے جانور کا ایک ایک بال گواہی دے گا، سفارش کا عنوان بنے گااور اس کے نتیجے میں انسان اجر وثواب اور صلے کا مستحق ٹھہرے گا۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا گیاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تک نہ تو خون پہنچتا ہے اور نہ گوشت ، اس کے ہاں توتقوی پہنچتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اسے تمھارا تقوی پہنچتاہے۔(الحج۲۲:۳۷)“
اس تصور کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ فلسفہ قربانی میں بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کی قربانی سے شروع ہوتی ہے۔ وہ بیٹا جو انھیں پیرانہ سالی میں ملاتھا، عمر کے اس دور میں جب انسان اولاد کا تصور نہیں کرتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑی خواہش کے بعد بیٹے کی نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں لیکن حکم ہوتا ہے تو اسی بیٹے کی قربانی کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں، اور جب اس کی گردن پر چھری رکھتے ہیں تو گویاتمام محبتوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت واطاعت اور اس کے احکامات کو بجالانے پر قربان کردیتے ہیں۔یہ حج اور قربانی کا اصل فلسفہ اور پیغام ہے۔ہماری زندگی جس ڈگر پر گزرتی ہے، جن جن میدانواں میں جولانیاں دکھاتی ،اور جس مورچے اور محاذ پر اپنے آپ کو منواتی ہے،یہ زندگی اللہ رب العالمین کی اطاعت اور اس کے حکم کی بجاآوری میں صرف ہونی چاہیے اور اس راہ میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ خواہشات ، تمناؤں اور آرزؤوں ،اور کل سے بہتر آج اور آج سے بہتر کل کے جذبے کی قربانی کے لیے ہردم تیار رہنا چاہیے۔ حج اور قربانی کا یہ فلسفہ ہر لمحے ہم سے تقاضاکرتا ہے کہ زندگی اس ڈگر پرگزرے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے۔ یہ فلسفہ اگر جذب و انجذاب کے مراحل سے گزرے ، دل و دماغ کے اندر سرایت کرے اور رگ و ریشے کے اندر خون کی طرح دوڑے تو پھر وہ انسان اور وہ اجتماعیت وجود میں آتی ہے جو معاشرے کے اندر بڑی سے بڑی شے کو مسخرکرنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔
تازہ ترین