• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے...طلوع…ارشاد احمد عارف

یہ نہ تو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا جذباتی ردعمل ہے اور نہ صدر آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم اور رحمن ملک کی خاطر اپنے جگری دوست کی قربانی دی ہے۔ یاروں کے یار آصف علی زرداری اپنی زندگی بھر کی کمائی ”دوستوں سے وفاداری کی شہرت“ کو داؤپر لگا کر ملک میں اپنی باقی ماندہ ساکھ، پارٹی پر مضبوط گرفت اور سندھ میں سیاست کو خراب کیوں کریں گے؟ یہ حسابی کتابی، سوچی سمجھی پیش رفت ہے انگریز ی زبان میں Calculated Risk
ایم کیو ایم کسی طرح ڈھب پر نہیں آرہی تھی۔ ایک مطالبہ منوا کر دوسرا پیش کردیتی۔ کراچی میں قیام امن کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔ ملک میں بے چینی اور پارٹی کے اندر اختلاف رائے، گزشتہ تین ساڑھے تین سال کے دوران صدر آصف علی زرداری نے مفاہمت کے نام پر مینڈکوں کی پنیری تولنے کا جو تجربہ کیا وہ اے این پی کے خوشدلانہ تعاون کی وجہ سے پروان چڑھتا رہا کیونکہ اے این پی کے مینڈک ترازو سے کبھی نہیں اچھلے مگر اب کے اے این پی پر بھی برہمی غالب آگئی۔ کراچی کی بدامنی نے اندرون سندھ کے علاوہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا کوپیپلزپارٹی سے بدظن کر دیا کیونکہ بیشتر لاشیں انہی صوبوں بالخصوص جنوبی پنجاب نے وصول کیں۔ سرائیکی وسیب میں پیدا ہونے والی اس بے چینی کے سبب سرائیکی صوبے کی بحث سے پیپلزپارٹی نے ہاتھ اٹھا لیااور وزیراعظم گیلانی کا یہ غنچہ بن کھلے مرجھا گیا۔
سندھ کارڈ قوم پرستوں نے اُچک لیا تھا اور ایم کیو ایم کی ناز برداری کے سبب آصف علی زرداری کو پیپلزپارٹی کی صفوں میں باغیانہ حالات کی صدائے بازگشت سنائی دینے لگی تھی۔ مسلم لیگ (ق) سے اتحاد کا پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں ری ایکشن ہوا، چودھری برادران کے ایم کیو ایم سے دیرینہ روابط کے سبب یہ تصور پروان چڑھا کہ یہ دونوں جماعتیں جنہیں پیپلزپارٹی کی صفوں میں پرویز مشرف کی باقیات اور محترمہ بینظیر بھٹو کی شدید مخالف سمجھا جاتا ہے مل کر وفاقی حکومت اور سندھ میں اپنے حجم سے بڑھ کر حصہ وصول کرنے کے علاوہ وفاقی جماعت کی پالیسیوں اور منشور کو غیرموثر کر رہی ہے۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے پریس کانفرنس میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو پی پی کے بعض سندھی، پنجابی اور پشتون لیڈر جماعتی اجلاسوں اور نجی محفلوں میں کہتے اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور قائد تحریک الطاف حسین کے بارے میں یہ زبان استعمال کرنے کی آج تک کسی کو جرأت نہیں ہوئی جو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اختیار کی۔
جماعت اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان کی لیڈرشپ کا یہ وطیرہ رہا ہے لیکن وہ ذوالفقار مرزا کی طرح محرم راز ہمارے ترقی پسند اور روشن خیال دانشور ان الزامات کو کراچی کی سیاست سے بے دخلی کا شاخسانہ قرار دے کر نظر انداز کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد بدین پہنچے جہاں انہوں نے شاہی سید کے ہمراہ سیلاب زدگان میں امداد تقسیم کی۔ واپس کراچی آئے اور خودکش دھماکہ کر دیا۔ اس پریس کانفرنس کو مرزا کی ایسی قربانی سمجھا جاسکتا ہے جو انہوں نے اپنے دوست اور بھائی آصف علی زرداری کے لئے دی اور جس کا صلہ دوستوں کو بھی نہ بھولنے والے صدر زرداری جلد یا بدیر ضرور دیں گے۔ اس قربانی کے ذریعے مرزا نے ایم کیو ایم کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے وکیل صفائی رحمن ملک کو اب عددی سطح پر اور پارٹی کے اندر سے شدید دباؤ کا سامنا ہوگا۔ ممکن ہے وزارت ِ داخلہ سے بے دخلی کا صدمہ بھی سہنا پڑے۔ یکطرفہ آپریشن زیادہ دیر تک جاری رکھنا ممکن نہیں رہا کیونکہ مرزا نے عملاً اسے ایک مخصوص زبان اور نسل کے لوگوں کے خلاف متعصبانہ، مصلحت پسندانہ اورسلیکٹو کارروائی ثابت کیا ہے شاید یہی آصف علی زرداری کی خواہش تھی۔ ایم کیو ایم اب حکومت میں شامل ہوئی تو صدر آصف علی زرداری کی شرائط پر ہو پائے گی کیونکہ وہ مرزا کے بعد مزید سندھی وزراء، ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کی علیحدگی یا ناراضی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
امریکہ کو پہلی بار یہ وضاحت کرنا پڑی کہ وہ کسی پاکستان مخالف سرگرمی میں ملوث نہیں چونکہ یہ الزام مرزا نے امریکہ پر ازخود عائد نہیں کیا بلکہ الطاف حسین کے بیان کردہ منصوبے کا ذکر کیا اور پیر مظہر الحق کی گواہی ڈالی اس لئے امریکہ اور ایم کیو ایم کے مابین غلط فہمیاں جنم لیں گی اور فوج کے علاوہ آئی ایس آئی کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی بعض امریکی و برطانوی اقدامات کی وجہ سے تحفظات کا شکار ہیں۔ شدید اندرونی اور بیرونی دباؤ کے شکار صدر زرداری نے یہ دباؤ فوجی قیادت اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف منتقل کردیا ہے۔ انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، ایم کیو ایم، آئی ایس آئی کے وفاقی حکومتسے بدگماں عناصر سب مردِحُر کے نخچیر ہیں۔ ثبوت سامنے آنے پر فوجی قیادت اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی آزمائش کا آغاز ہوگا کہ وہ کراچی کا امن اور پاکستان کا سکون واپس لانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کرتے ہیں۔ ذوالفقار مرزا کی سادگی دراصل آصف علی زرداری کی پرکاری کا مظہر ہے ورنہ ڈاکٹر مرزا بچے ہیں نہ باؤلے کہ اپنے سیاسی مستقبل اور ذاتی و خاندانی مفادات کو وقتی اشتعال اور جذباتی کیفیت پر قربان کردیں اور آصف علی زرداری بھی اتنے ناداں نہیں کہ اپنے جاں نثار ساتھی کو جو سندھ اور ملک بھر میں مقبول موقف کے علمبردار ہیں رحمن ملک، ڈاکٹر عشرت العباد، الطاف بھائی کی خواہشات پر قربان کرکے سندھ کارڈ سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔
تازہ ترین