آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے پچھلے کالم میں آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں اپنے کالم میں تاریخی واقعات وغیرہ ملک کے 85 فیصد عوام کے لئے لکھتا ہوں جن میں اکثریت کتابیں خریدنے اور پڑھنے کی استعداد نہیں رکھتے اور نہ ہی انہیں ٹی وی، انٹرنیٹ کی سہولتیں میسّر ہیں۔ یہی لوگ میرا کالم بہت شوق و محبت سے پڑھتے ہیں۔ ان کی خدمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے چند آخری ایام کی تفصیلات پیش کررہا ہوں۔
وفات سے تین روز قبل جبکہ حضور ﷺ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ ’’میری بیویوں کو جمع کرو۔‘‘ تمام ازدواج مطہرات جمع ہوگئیں تو حضور اکرم ﷺ نے دریافت فرمایا ’’کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟‘‘ سب نے کہا اے اللہ کے رسولؐ آپ کو اجازت ہے۔ پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک

دوسرے سے پوچھنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟ چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہوگئے اور مسجد شریف میں ایک رش ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔ اور فرماتی ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔ مزید فرماتی ہیں کہ حبیبؐ خداسے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ ’’لااِلہ الا اللہ، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں‘‘ اسی اثنا میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔ آپ ؐنے دریافت فرمایا یہ کیسی آوازیں ہیں۔ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ مجھے ان کے پاس لے چلو۔پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھ نہ سکے تو آپؐ پر سات مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جاکر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ تھا اور آخری کلمات تھے۔
فرمایا: ’’اے لوگو۔ ! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟ـ سب نے کہا: ’’جی ہاں اے اللہ کے رسولؐ‘‘۔ ارشاد فرمایاـ !’’ اے لوگو! تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں، اے لوگو! مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جائو جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کردے جیسا کہ انہیں ہلاک کردیا۔‘‘ پھر مزید ارشاد فرمایا:’’اے لوگو! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔‘‘ (یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے)۔
پھر فرمایا: ’’اے لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں‘‘۔ مزید فرمایا: ’’اے لوگو! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے‘‘ اس جملے سے حضور ﷺ کا مقصدکوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زاروقطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور پکارنے لگے۔’’ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان‘‘ روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔ ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ علیہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبیؐ کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایاـ اے لوگو! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبویؐ) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کردیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔‘‘ آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لئے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:’’اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔‘‘ اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کرکے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ ’’اے لوگو! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔‘‘ پھر آنحضرت ﷺ کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم ﷺ مسواک کو دیکھنے لگے مگر شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ حضور اکرم ﷺ کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن ؓ سے مسواک لے کر نبی کریم ﷺ کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور ﷺ اسے استعمال نہ کرپائے تو سیدہ عائشہ ؓ نے حضور اکرم ﷺ سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم ﷺ کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔ فرماتی ہیں: آخری چیز جو آپ نبی کریم ﷺ کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم ﷺ کا لعاب دہن یکجا کردیا۔ اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں: ’’پھر آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ ؓتشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم ﷺ اٹھ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم ﷺ انکے ماتھے پر بوسہ دیتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے فاطمہ! ’’قریب آجائو‘‘پھر حضور ﷺ نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہؓ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور ﷺ نے پھر فرمایا اے فاطمہ! ’’قریب آئو‘‘دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔ حضور ﷺ کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکہنے لگیں کہ: ’’پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا فاطمہ! میں آج رات (اس دنیا سے) کوچ کرنیوالا ہوں جس پر میں رو دی۔ جب انہوں نے مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے فاطمہ! میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی جس پر میں خوش ہوگئی‘‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:پھر آنحضرت ﷺ نے سب کو گھر سے باہر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا ’’عائشہ! میرے قریب آجائو‘‘ آنحضرت ﷺ نے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے فرمانے لگے مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں اللہ کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں)۔ صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ’’میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔‘‘ جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہوکر گویا ہوئے :’’یا رسولؐ اللہ! ملک الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’جبریل! اسے آنے دو‘‘ ملک الموت نبی کریم ﷺ کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا السلام علیک یا رسول اللہ! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے کہ آپ دنیا میں رہنا چاہتے ہیں یا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟‘‘۔ فرمایا: ’’مجھے اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔‘‘ ملک الموت آنحضرت ﷺ کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ! اے پاکیزہ روح۔اے محمد بن عبداللہ کی روح۔! اللہ کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔ راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:پھر نبی کریم ﷺ کا ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت ﷺ کا وصال ہوگیا۔مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا’’رسولؐ اللہ کا وصال ہوگیا! رسولؐ اللہ کا وصال ہوگیا‘‘ مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی ادھر علی کرم اللہ وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔ ادھر عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے: ’’خبردار! جو کسی نے کہا رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کو گئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔‘‘
اس موقع پر سب سے زیادہ ضبط ،برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی۔ آپ حجرہ نبوی ؐمیں داخل ہوئے، رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھ کر رو دیئے۔ کہہ رہے تھے: ہائے میرا پیارا دوست! ہائے میرا مخلص ساتھی! ہائے میرا محبوب! ہائے میرا نبی!) ۔ پھر آنحضرت ﷺ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا: ’’یا رسول اللہ! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔‘‘ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا ’’جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ شانہ کی ذات ہمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے تلوار گرگئی۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روئوں۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کردی گئی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرئہ انور پر مٹی ڈالو؟‘ پھر کہنے لگیں: ’ہائے میرے پیارے بابا جان،کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان ، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں)۔ اللھم صل علی محمد کما تحب وترضی۔
یہ ہمارے پیارے رسول ؐ کے آخری ایام، آپ ؐکی رحلت تک ، تھے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے فرمودات (قرآن مجید) کی جیتی جاگتی مثال تھے۔ آپ ؐنے بنی نوع انسان پر جو احسان کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے محبوب ترین پیغمبر کا رحلت کے بعد محافظ و امین ہے۔ آپ ؐ پر دُرود بھیجئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں