آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سینٹ الیکشن : سیاسی جماعتوں کا امتحان

سہیل وڑائچ

ماجد صدیق نظامی

عبداللہ لیاقت، وجیہہ اسلم،

فیض سیفی، شیرازقریشی

سینیٹ انتخابات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت تمام تر افواہوں اور خدشات کے باوجود اس مرحلے تک آ پہنچی ہے۔چار سال تک اقتدار میں ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن سینیٹ میں اکثریتی پارٹی نہیں رہی ۔ ان انتخابات کے بعد قوی امکان ہے کہ ن لیگ برتری حاصل کرتے ہوئے سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت بن جائے گی اور پارٹی پالیسی کے مطابق قانون سازی میں یہ بڑی رکاوٹ بھی ختم ہوجائے گی۔ اٹھارہ سینیٹرز کی ریٹائر منٹ کے بعد پیپلز پارٹی سینیٹ میں کمزور حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی نظر آئے گی۔

سینٹ الیکشن : سیاسی جماعتوں کا امتحان

اس مرتبہ ممبران صوبائی اسمبلی کیلئے سینیٹ الیکشن اس لئے بھی اہم ہیں کہ آنے والے چند ماہ میں عام انتخابات ہوں گے اور اپنی انتخابی مہم کیلئے فنڈز کے انتظام کا بڑا ذریعہ یہی الیکشن ہیں ، حکومتوں کی جانب سے ترقیاتی سکیموں کا اعلان اور فنڈز کی فراہمی ہو یا دوسری جانب آزاد امیدواروں کی حمایت پر ملنے والا انتخابی فنڈ ،دونوں صورتوں میں ہر صوبائی اسمبلی کے ممبران اپنے اپنے مطالبات منوانے کی پوزیشن میں ہیں ۔ اس صورتحال میں ہر صوبے کی سیاسی و انتخابی صورتحال کا جائزہ دلچسپی کا حامل ہے۔

سینٹ الیکشن : سیاسی جماعتوں کا امتحان

پنجاب میں ن لیگ کو سادہ اکثریت حاصل ہے اور ان کے ایم پی ایز 315ہیں جبکہ سامنے صرف 53ارکان کی اپوزیشن ہے اور یہ اپوزیشن بھی منقسم نظر آتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حکومتی پارٹی میں بغاوت کا خطرہ بھی موجود ہے ۔ پانچ مخصوص نشستوں پر ن لیگ کی کامیابی کا امکان ہے۔ سات جنرل نشستوں پر کامیابی کے لئے تقریباً 53ووٹ فی نشست درکار ہوتے ہیں لیکن پارٹی کی سیٹوں اور حالات کو دیکھ کر ایم پی ایز کے گروپ بنائے جاتے ہیں۔ 2012 کے سینیٹ الیکشن میں پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے ممبران کی بھی قابل ذکر تعداد تھی اس لئے ن لیگ نے جیت یقینی بنانے کیلئے 50 سے55 ایم پی ایز کے گروپس بنائے ہیں۔ اس الیکشن میں ذوالفقار کھوسہ نے 54 ، ایم حمزہ نے53 اور باقی ن لیگی امیدواران نے پچاس سے زیادہ ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی ۔ 2015کے سینیٹ الیکشن میں چونکہ ن لیگ کے سامنے اپوزیشن کا خطرہ نہیں تھا اس لئے 40 سے45 ایم پی ایز کے گربوپس بنائے گئے۔ اس الیکشن میں ن لیگ کے امیدواروں نے 41 سے 44 ووٹ لیکر ہی کامیابی حا صل کر لی ۔ اس مرتبہ مسلم لیگ ن کے شاہ دماغوں کا امتحان ہے کہ ایم پی ایز کے گروپس کس طرح بنائے جائیں تاکہ بغاوت کے امکان کا سامنے رکھتے ہوئے بھی جیت کو یقینی بنایا جائے۔ پچھلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن خاموشی سے 27ووٹ لے گئے، اگرچہ وہ ہار گئے لیکن اس بات کو زیر بحث لایا گیا کہ کن دس ایم پی ایز نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالا۔

سینٹ الیکشن : سیاسی جماعتوں کا امتحان

خیبر پختونخوا میں مقابلہ زیادہ دلچسپ ہے کیونکہ یہاں تحریک انصاف کی حکومت کے 80ایم پی ایز کے سامنے اپوزیشن کے 43ایم پی اے ہیں، اس لئے یہاں تحریک انصاف کو کامیابی حاصل کرنے کیلئے اپنے ممبران کی وفاداریوں کا خیال بھی رکھنا ہو گا اور ساتھ ساتھ ممبران کے گروپس بنانے میں بھی احتیاط کرنا ہوگی۔ پچھلی مرتبہ تحریک انصاف اور ان کے اتحادی امیدواروں نے 15سے18 ووٹ حاصل کئے اور جیت گئے۔ جبکہ ن لیگ کے صلاح الدین ترمذی نے 14ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی۔ خواتین کی سیٹ پر پی ٹی آئی کی ثمینہ عابد66 ووٹ لیکر کامیاب ہوئیں اور اے این پی کی ستارہ ایاز 30 ووٹ لیکر جیت گئیں۔ اگر تحریک انصاف بہتر منصوبہ بندی کرتی تو انہی ووٹوں میں وہ دو خواتین سینیٹرز با آسانی منتخب کروا سکتے تھے ۔ گزشتہ الیکشن میں بھی دھاندلی اور ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے پورادن پولنگ شروع نہ ہو سکی اور رات نو بجے پولنگ کا آغاز ہوا، یہ بھی سننے میں آیا کہ گورنر اور وزیراعلی کے مذاکرات بھی ہوئے اور پھر انڈر سٹینڈنگ کے بعد پولنگ شروع ہوئی۔ پولنگ کے حوالے سے افواہیں گردش کرتی رہیں کہ ووٹ کاسٹ کرنے والا پہلا ایم پی اے اپنی خالی پرچی بیلٹ باکس میں ڈالے بغیر باہر لے آتا اور پارٹی ہدایت کے مطابق پرچی لکھی جاتی اور اگلا ایم پی اے وہ ووٹ کاسٹ کر دیتا اور اپنی خالی پرچی باہر لے آتا ۔اس طرح سے سیاسی جماعتوں نے اپنی کامیابی کو یقینی بنایا۔

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی بہتر پوزیشن میں دیکھائی دے رہی ہے ۔یہاں حکومتی ایم پی ایز 93ہیں اور انہیں اپوزیشن کے 70 ووٹوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ ان ستر ممبران میں اکثریت ایم کیو ایم کے ساتھ نظر آتی ہے اور یہاں ہی ایم کیو ایم کا امتحان بھی ہے کہ کیا وہ اپنے ارکان کو متحدہ پاکستان کی پالیسی کے مطابق ووٹ کاسٹ کروا سکیں گے ، کیونکہ کئی ایم پی ایز پیپلز پارٹی اور پاک سر زمین پارٹی سے رابطے میں بھی ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی گرفت میں کمزوری ہر صوبے کی طرح یہاں بھی ہے اسی لئے سینیٹ کے پارٹی امیدواروں کو اپنے لئے خود بھی بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے تاکہ جیت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ 2012 میں مصطفی کمال کو ایم کیو ایم کے 26 ووٹوں نے کامیابی دلائی جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدواروںنے 21 اور22 کے گروپ بنا کر کامیابی یقینی بنائی۔ 2015 میں یہ اوسط کم ہو کر 19 اور 20 ووٹوں تک آگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کے اسلام الدین شیخ نے 24ووٹ حاصل کئے حالانکہ ان کے ایم پی ایز گروپ کی تعداد 21 تھی ۔ گزشتہ الیکشن میں پولنگ کے وقت بھی تحریک انصاف اور فنکشنل لیگ کے مذاکرات ہوتے رہے اور دو مرتبہ پی ٹی آئی کے ارکان کو ووٹ ڈالنے سے روک لیا گیا تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکیں لیکن آخر کار کامیابی نہ ہو سکی اور فنکشنل لیگ کے امام الد ین شوقین 13 ووٹ لیکر ہار گئے ،اب وہی پیپلز پارٹی سے امیدوار ہیں ۔ اس مرتبہ بھی سندھ اسمبلی میں خصوصاً ایم کیو ایم کو اپنے ممبران کے گروپس بہتر منصوبہ بندی سے بنانے ہوں گے ۔

سینٹ الیکشن : سیاسی جماعتوں کا امتحان

بلوچستان اسمبلی میں حالیہ تبدیلی کے بعد حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے ممبران میں فرق خاصا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ وزیر اعلی کی تبدیلی میں سب جماعتوں کے نمائندہ ارکان نے کھچڑی پکائی ۔ اس وقت مسلم لیگ ن کے21 ممبران اسمبلی ہیں لیکن ان کی اکثریت نے بھی ق لیگ کے وزیر اعلی کے حق میں ووٹ دیا ۔ دوسرے نمبر پر پختونخواملی عوامی پارٹی 14 اور نیشنل پارٹی 11 ایم پی ایز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ مسلم لیگ ن نے یعقوب ناصر ، عبدالقادر بلوچ اور افضل مندو خیل پر مشتمل کمیٹی بنائی ہے تاکہ ووٹرز کو متحد رکھنے کی کوشش کی جائے۔اگر مسلم لیگ ن گزشتہ الیکشن کی طرح یہاں سے تین سیٹیں بھی حاصل کر لے تو یہی بڑی کامیابی ہو گی۔ اس صوبے میں سیاسی کھیل کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے اس اسمبلی میں صرف دو ایم پی ایز ہیں جبکہ پارٹی نے سینیٹ الیکشن میں تین رکنی کمیٹی بنا کر حصہ لینے کا اعلان کیا ہے ۔ کمیٹی میں سردار اختر مینگل ، جہانزیب جمالدینی اور ولی کاکڑ شامل ہیں۔ بلوچستان میںسات سے آٹھ ووٹوں کے ساتھ سینیٹ کی سیٹ پر کامیابی مل جاتی ہے ۔اسلئے امکان یہی ہے کہ آزاد امیدوار یہاں اپنا کھیل کھیلیں گے اور جیت کر پسندیدہ جماعتوں کا رخ کریں گے ۔

فاٹا کے بارہ ارکان قومی اسمبلی نے ہی ہر مرتبہ چار سینیٹرز کو منتخب کرنا ہوتا ہے ۔ یہاں ایک غیر تحریری اصول اور معاہد ہ ہے کہ پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر فیصلے کئے جائیں گے ۔ فاٹا اراکین کے حوالے سے الزامات سامنے آتے ہیں کہ اس الیکشن میں پیسے کا استعمال بے تحاشا ہوتا ہے ، کہا جاتا رہا ہے کہ اس مرتبہ یہاں ایک ووٹ کا ’’نذرانہ‘ ‘ بیس کروڑ روپے سے بھی آگے جا چکا ہے لیکن اس معاملے میں تمام سیاسی جماعتیں اور ممبران پارلیمنٹ متفقہ طور پر خاموش ہی رہتے ہیں۔

سینٹ الیکشن : سیاسی جماعتوں کا امتحان

صوبائی اسمبلیوں کے جائزے کے بعد سینیٹ الیکشن میں ایک اوراہم نقطہ ترجیحی ووٹنگ کا ہے ۔ ہر ایم پی اے کو حق حاصل ہے کہ ایک ووٹ کے نیچے دوسری، تیسری ، چوتھی، پانچویں ترجیح پر بھی امیدواروں کو ووٹ کر سکتا ہے ۔چونکہ سات جنرل سیٹوں کیلئے الیکشن کا انعقاد کیا جاتا ہے اس لئے ایم پی اے ساتویں ترجیح تک امیدواروں کے ناموں کا انتخاب کر سکتا ہے۔ اس تمام ترجیحاتی ووٹنگ کو گننے کیلئے مخصوص فارمولے سے مدد لی جاتی ہے۔ ان کی گنتی ایک پیچیدہ قانونی عمل ہے عموما پہلی ترجیح کا ایک ووٹ ہی کاسٹ کیا جاتا ہے لیکن دوسری، تیسری ، چوتھی ترجیح کے ووٹ سے واقفیت ہر رکن صوبائی اسمبلی کیلئے ضروری ہے۔ اس کی اہم مثال 2012 میں پنجاب سے آزاد امیدوار محسن لغاری کا کامیاب ہونا تھا، اس الیکشن میں اول ترجیح کے 46 ووٹ لینے والے امیدوار کامیاب ہوئے اور پیپلز پارٹی کے اسلم گل کے 42ووٹ تھے جبکہ محسن لغاری کو ترجیح اول کے 22 ووٹ ملے لیکن وہ اپنی مہم میں ایم پی ایز کو دوسری ، تیسری اور چوتھی ترجیح کا ووٹ اپنے حق میں کاسٹ کرنے کی درخواست کرتے رہے تھے اور جب ان کے ووٹوں کی گنتی ہوئی تودوسری، تیسری اور چوتھی ترجیح کے ووٹ ملا کر ان کے ٹوٹل ووٹ 46 بنے اور کامیابی انکا مقدر ٹھہری۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اب آسان راستہ اختیار کیا گیا ہے ، ممبران صوبائی اسمبلی کو کہا جاتا ہے کہ صرف ایک نام کے سامنے ترجیح نمبر ایک لکھ کر ووٹ کاسٹ کر دیں اور باقی تمام ناموں کے آگے کچھ نہ لکھیں تاکہ کسی پیچیدگی کا سامنا کئے بغیر جیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ لیکن اس بار امکان یہ بھی ہے کہ آزاد میدوار، باغی اور ناراض ارکان اس ترجیحی ووٹنگ کے حق کو اپنی جیت کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔

سینیٹ الیکشن میں پنجاب سے امیدوار

چوہدری محمد سرور نے 2013ء میں پنجاب کے گورنرکی حیثیت سے فرائض انجام دیئے اور بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وہ اس سے پہلے برطانیہ کے ہائوس آف کامن کے ممبر رہ چکے ہیں۔ سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔عندلیب عباس پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کی ممبر اور پی ٹی آئی کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن بھی رہی ہیں۔ انہیں خواتین کی مخصوص نشست کیلئے منتخب کیا گیاہے۔

ڈاکٹر آصف کرمانی 2015ء میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خصوصی مشیراور پولیٹیکل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔آصف کرمانی ،ڈاکٹربابر اعوان کے استعفیٰ کے بعد خالی کردہ نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔رانا محمودالحسن 2002ء اور2008ء میں ایم این اے رہ چکے ہیں۔رانا مقبول احمد 1999ء میں بطور آئی جی سندھ جبکہ 2009ء میں آئی جی پنجاب کے عہدے پر فائز رہے۔ زبیر گل 2015ء میں اورسیز پاکستانیوں کے کمشنر بنے ۔انہیں بھی ن لیگ کی جانب سے امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ کیپٹن (ر) شاہین خالد بٹ پنجاب اور سیز پاکستانی کمیشن کے وائس چیئرمین ہیں ۔ڈاکٹر مصدق ملک وزیر اعظم کے خصوصی مشیر اور پانی و بجلی میں معاون خصوصی بھی ہیں۔ماضی میں نگران حکومت میں وفاقی وزیر پانی و بجلی بھی رہے۔ موجودہ سینیٹ الیکشن میں امیدوار ہیں۔کامران مائیکل 2002ء میں اقلیتی نشست پر ایم پی اے جبکہ 2008ء میںصوبائی نشست جیت کرصوبائی وزیر کا عہدہ حاصل کیا کامران مائیکل اقلیتی نشست پر سینٹر منتخب ہوئے۔ 2013ء میں وزیربرائے پورٹس اینڈ شپنگ اور2016ء میں وزیر برائے انسانی حقوق کے طور پر فرائض انجام دئیے۔چوہدری نصیر احمد بھٹہ کو 2017ء میں وزیراعظم کے سپیشل اسسٹنٹ برائے قانون کا عہدہ سونپا گیا۔وہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل بھی ہیں اورایم این اےرہ چکے ہیں۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے1997ء میںوفاقی وزیر برائے تجارت ،تین بار سینیٹر اور قومی اسمبلی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ سعدیہ عباسی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن ہیں جوکہ 2003ء مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے سینٹ کی رکن منتخب ہوئیں۔نزہت صادق کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے۔وہ 2012ء میں سینیٹ کی رکن منتخب ہوئیں اس سے قبل وہ 2008ء میں قومی اسمبلی کی ممبر بھی رہ چکی ہیں۔

محمد نوازش علی پیرزادہ بیرسٹر نوازش علی کے طور پر مشہور ہیں اور پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے یوتھ ونگ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

نواب شہزاد علی خان پنجاب کے سابق وزیر اعلی منظور وٹو کے بھانجے اور نواب زادہ نصر اللہ خان کے رشتہ دار بھی ہیں۔ وہ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔پی پی پی کی جانب سے انہیں سینیٹ کاٹکٹ دیاگیاہے۔

کامل علی آغا مسلم لیگ (ق) کے انفارمیشن سیکر ٹری ہیں اور 2012 ء میںپاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر بھی منتخب ہو چکے ہیں۔

سندھ سے سینیٹ میں حصہ لینے والے امیدواران

سینیٹر مرتضیٰ وہاب 2012ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے اوراب بھی پی پی پی کے ٹکٹ سے امیدوار ہیں۔وہ معروف وکیل اور سابق رکن قومی اسمبلی مرحومہ فوزیہ وہاب کے صاحبزادے ہیں۔مصطفی نواز کھوکھرسابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی حاجی محمد نواز کھوکھر کے صاحبزادے ہیں ۔وہ سابقہ حکومت میں مشیر وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔ مصطفی نواز کھوکھر پیپلزپارٹی سینٹرل پنجاب کےسیکرٹری اطلاعات ہیں۔ مو لا بخش چا نڈیو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹر اور رکن قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ اپریل2011ء میں انہیں وفا قی وزیر برا ئے پا رلیمانی امور،قا نون اور انصاف بنایا گیا۔ 2015ء میں انہیں مشیر اطلاعات سندھ بنادیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی سینیٹ الیکشن 2018ء میں بھی پی پی پی کے امیدوار ہیں۔وہ 1993ء کے بعد سے اب تک چھ بار سینیٹر منتخب ہو چکے ہیں۔ معروف صنعتکار امام الدین شوقین 2002ء میں مسلم لیگ فنکشنل کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔اب وہ سینیٹ الیکشن میں پی پی پی کے امیدوار ہیں۔سید محمد علی شاہ جاموٹ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ سے رکن قومی اسمبلی ہیں اورپی پی پی کے ٹکٹ سے ہی امیدوار ہیں۔

ایاز احمد مہر پیپلزپارٹی کے سے سینیٹ کی نشست کیلئے امیدوار ہیں۔ڈاکٹر سکندر میندھرو پیپلزپارٹی سے ٹیکنو کریٹ نشست کے امیدوار ہیں۔وہ پانچ بار رکن صوبائی اسمبلی بھی منتخب ہوچکے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں وہ صوبائی وزیر برائے صحت،مذہبی امور اور زکوۃ و عشر ہیں۔رخسانہ زبیری بھی پیپلزپارٹی کی جانب سے ٹیکنو کریٹ نشست کیلئے امیدوار ہیں۔ ماضی میں وہ سینیٹ کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔

ماہر قانون بیر سٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر سینیٹر ہیں اور اب بھی سینیٹ کے امیدوار ہیں۔وہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ بھی رہ چکے ہیں۔ ماضی میں فنکشنل لیگ سے سیاسی وابستگی رکھنے والے معروف بزنس مین کامران ٹیسوری سینیٹ انتخاب میں ایم کیو ایم کے امیدوار ہیں۔ کامران ٹیسوری رابطہ کمیٹی کے ممبر اور ڈپٹی کنویئر بھی رہ چکے ہیں۔ ممتاز صنعتکاراحمد چینائی متحدہ قومی موومنٹ کی ٹکٹ پر سینیٹ کے امیدوار ہیں۔وہ سی پی ایل سی کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔سید امین الحق ایم کیو ایم کے امیدوار ہیں۔وہ سابق ایم این اے اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔معروف تاجرعامر ولی الدین چشتی اور فرحان علی چشتی سابق ایم پی اے خالد بن ولید (مرحوم ) کے بھائی ہیں۔ دونوں کو پارٹی کی جانب سے سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا ہے۔سید علی رضا عابدی ایم کیو ایم کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ہیں۔2013ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2018ء کے انتخاب میں وہ ٹیکنوکریٹ نشست پر ایم کیو ایم کے امیدوار ہیں۔ڈاکٹر قادر خانزادہ سابق ایم این اے اور سینیٹ انتخاب میں ایم کیو ا یم کی جانب سے ٹیکنو کریٹ نشست کیلئے امیدوار ہیں۔جسٹس (ر) حسن فیروز سندھ ہائی کورٹ سے بطور جسٹس ریٹائر ہوئے ۔پہلی پار سینیٹ الیکشن میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی ٹکٹ سے ٹیکنو کریٹ نشست کیلئے میدان میں ہیں۔

پاک سر زمین پارٹی کے امیدوار انیس احمد خان قائمخانی کی سیاسی وابستگی 32 سال تک متحدہ قومی موومنٹ رہی۔ وہ سینیٹ انتخاب میں پاک سر زمین پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ڈاکٹر صغیر احمد پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے سینیٹ الیکشن میں امیدوار ہیں۔وہ تین مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی،دوبارصوبائی وزیر رہے۔ معروف تاجر سید مبشر امام پاک سر زمین پارٹی کی جانب سے سینیٹ میں امیدوار ہیں۔ان کی ماضی میں سیاسی وابستگی ایم کیو ایم سے تھی۔

سرفراز خان جتوئی سند ھ سے ن لیگ کی جانب سے سینیٹ کے امیدوار ہیں۔انہیں 2017ء میں ن لیگ سندھ کا صدر بنایاگیا۔

سندھ کے سابق وزیراعلیٰ و سابق ا سپیکر ، سینیٹر سید مظفر حسین شاہ سینیٹ میں فنکشنل لیگ کے امیدوار ہیں۔

ڈاکٹر نجیب ہارون پاکستان تحریک انصاف کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ تحریک انصاف سندھ کے نائب صدر اور جنرل سیکرٹری سندھ بھی رہ چکے ہیں۔ سینیٹ انتخاب میں وہ ٹیکنو کریٹ نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔

خیبر پختونخواہ سے سینیٹ میں حصہ لینے والے امیدواران

سید محمد صابر شاہ کا تعلق مسلم لیگ نواز سے الیکشن کا حصہ ہیں۔وہ اکتوبر 1993ء سے فروری 1994ء تک خیبر پختونخواہ کے اٹھارویںوزیر اعلیٰ کے طورپرخدمات سر انجام دیتے رہے۔۔ن لیگ سے تعلق رکھنے والے دلاور خان پہلی بار ٹیکنو کریٹ نشست کیلئے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ثوبیہ شاہد کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور قومی اسمبلی کی رکن ہیں۔

عبداللطیف یوسفزئی نے1خصوصی پراسیکیوٹر ، کسٹمز اور انکم ٹیکس کے محکموں کے قانونی مشیر کے طور پر کام کیا۔ تحر یک انصاف کی جانب سے سینیٹ کے نامزد امیدوار ہیں۔فیصل جاوید کو پی ٹی آئی کے مقرر کے طور پر جانا جاتا ہے۔پہلی بار پی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے امیدوار ہیں۔اعظم سواتی نے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز سن 2001ء کے بلدیاتی انتخابات سے کیا اور مانسہرہ کے ضلع ناظم منتخب ہوئے۔ انہوں نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی خاطر ضلع ناظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 2003 ء کے سینیٹ انتخابات میں انہیں کامیابی ملی۔اس کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شامل ہو ئے اور سینیٹر منتخب ہوئے۔ 2011ء میںانہوں نے سینیٹ رکنیت سے استعفیٰ دے دیااورپی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی۔ اب پی ٹی آئی کی طرف سے سینیٹ کے امیدوار ہے۔ مہر تاج روغانی پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر سینیٹ کا الیکشن لڑ رہی ہیںاور کے پی کے اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر بھی ہیں۔نگران حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔خیال زمان پی ٹی آئی کے ٹکٹ سینیٹ کے الیکشن کے امیدوار ہیں اور 2013ء کے انتخابات میں ہنگو سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں ۔الیکٹرونک کمپنی کے مالک محمد ایوب پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے سینیٹ کے امیدوار ہیں۔فداء محمد پی ٹی آئی مالاکنڈ کے صدر ہیں۔یہ امر دلچسپ ہے کہ موجودہ سینیٹ میں انکے بھائی نثار محمد ن لیگ کی ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن ہیں۔رئیسہ دائود آزاد حیثیت سے سینیٹ انتخابات کا حصہ ہیں ۔ وہ ایم پی اے اختر نواز کی ہمشیرہ ہیںجنہیں کچھ سال قبل قتل کردیاگیا تھا۔ان کے ایک اور بھائی گوہر نواز بھی ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ ان کے بھتیجے بابر نواز خان رکن قومی اسمبلی ہیں۔

فیصل سخی بٹ پیپلزپارٹی کے امیدوار ہیں۔اے این پی کے سینئر رہنما غلام احمد بلور کے بھائی عزیز بلور کے داماد ہیں۔بہرمند پہلی بارپیپلزپارٹی کے ٹکٹ سے میدان میں ہیں۔وہ پی پی پی خیبر پختونخواہ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری ہیں۔نثار خان نوشہرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پی پی پی سے تعلق ہونے کے باوجود آزاد حیثیت سے سینیٹ انتخاب کا حصہ ہیں۔ پی پی پی کی موجودہ سینیٹر اور صوبائی انفارمیشن سیکرٹری ہیں۔وہ سابق وزیر صحت زاہد علی شاہ کی ہمشیرہ ہیں اور انکے والد سید ظفر علی شاہ ضیاء الحق کے دور میں وزیر رہ چکے ہیں۔

گل نصیب خان جے یو آئی ف کے صوبائی امیر ہیں۔اس سے قبل 2006ء میں سینیٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔سینیٹ الیکشن میں جے یو آئی ایف سے نامز د امیدوار ہیں۔محمد طلٰحہ محمود جے یو آئی ف کی جانب سے موجودہ سینیٹ کے رکن ہیں اور اس بار بھی جے یو آئی ف کی نمائندگی کرتے ہوئے سینیٹ الیکشن کے امیدوار ہیں۔جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والی نعیمہ کشور خان ایم این اے ہیں ۔وہ ایم پی اے رہ چکی ہیں۔

مسعود عباس جماعت اسلامی کے امیدوار ہیں۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد پہلی مرتبہ سینیٹ کا الیکشن لڑ رہے ہے اس سے قبل قومی اسمبلی کے انتخاب لڑے مگرکامیاب نہیں ہو سکے۔

جمعیت علمائے ف سے تعلق رکھنے والے یعقوب شیخ ڈیرہ اسماعیل خان میں ضلع کونسل ممبر ہے۔

مولانا سمیع الحق سینیٹر ہیں ۔ اب جمعیت علماء اسلام(سمیع الحق گروپ) کے تاحیات امیر ہیں۔اب آزاد حیثیت سے سینیٹ کے امیدوار ہیں۔

انیسہ زیب طاہر خیلی قومی اسمبلی کی ممبر اور قومی وطن پارٹی کی سیکر ٹری جنرل بھی ہیں۔نگران حکومت میں سوشل ویلفیئر کی صوبائی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔

شگفتہ ملک عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اس سے پہلے 2008ء کے عام انتخاب میں صوبائی اسمبلی کی رکن بھی رہی ہیں۔

ٖوفاق سے سینیٹ میں حصہ لینے والے امیدواران

کنول شوذب کوپی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے لئے نامزکیا گیاہے ۔سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے بیٹے اسد علی خان بھی سینیٹ میں ن لیگ کے امیدوار ہیں ۔پیشے کہ اعتبار سے صحافی مشاہد حسین سید اس وقت مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں ۔ 1997 میں انہوں نے باقائدہ طور پر سیاست میں قدم رکھا اور سینیٹر منتخب ہوئے۔سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے بھائی راجہ عمران اشرف پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ کے امیدوار ہیں۔ ضلعی صدر پیپلز پارٹی راجہ شکیل عباسی ایڈووکیٹ کو سینیٹ کے الیکشن کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

ٖفاٹا سے سینیٹ میں حصہ لینے والے امیدواران

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید اخونزادہ چٹان سینیٹ میں پی پی پی کے امیدوار ہیں۔ جنگریز خان پیپلز پارٹی کے انفارمیشن سیکر ٹری ہیںاور سینیٹ کے امیدوار ہیں۔فرہاد شباب خیبر ایجنسی سے پی پی کے صدر ہیں اور امیدوار ہیں۔نظام الدین کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور پہلی بار سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔پیر محمد عقل شاہ آزاد حیثیت سے سینیٹ کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ساجد حسین ،سید غازی غزن جمال ،ہدایت اللہ،ہلال رحمان،حاجی خان، عبدالرازق آزاد حیثیت ہی سے سینیٹ کا الیکشن بھی لڑرہے ہیں۔

بلوچستان سے سینیٹ میں حصہ لینے والے امیدواران

احمد خان آزاد حیثیت سے امیدوار ہیں ۔امیر افضل خان ن لیگ کے امیدوار ہیں ۔ محمد اکرم نیشنل پارٹی کے صدر ہیں اور سابق اسپیکر بھی رہ چکے ہیں ۔ یوسف خان کاکڑ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی سے تعلق ہے اور آزاد حیثیت سے لڑ رہے ہیں ۔مولوی فیض محمد سابق وزیر ہیں اور ضلعی امیر ہیں جمعیت علمائے اسلام ف سے سینیٹ کے امیدوار ہیں ۔نظام الدین کاکڑ اے این پی کے جنرل سیکر ٹری ہیں اور سینیٹ کے امیدوار ہیں ۔ہمایوں عزیز کرد پلوچستان نیشنل پارٹی سے تعلق ہے سابق وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں ۔ حسین اسلام پختونخواہ ملی پارٹی کے امیدوار ہیں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑرہے ہیںعلاو الدین آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں فتح محمد بلوچ ، محمد صادق ، محمد عبدالقادرآزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں انہوں نے وزیر اعلیٰ کو صوبائی اسمبلی میں جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔۔ انوار الحق وزیر اعلی ٰ کے ایڈوائزرہیں اور آزاد امیدوار ہیں ۔کہدہ بابر بی این بی کے ممبر ہیںآزاد حیثیت سے الیشن لڑ رہے ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں