• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن ایکٹ 2017کے بارے میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا متن

چیف جسٹس ، میاں ثاقب نثار

ہمارے پاس آنے والے درخواست گزار مہذب شہری اور سیاسی جماعتیں ہیں جو کہ پاکستان کی سیاست کا حصہ ہیں۔دونوں طرح کے درخواست گزار وں کا براہ راستتعلق اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973کے آئین کی شقوں پر عمل درآمد سے ہے۔درخواست گزاروںنے حال ہی میں نافذ کیے گئے قانون، جسے الیکشن ایکٹ ، 2017کا نام دیا گیا کی چند شقوں پر اعتراض اٹھایا۔ایکٹ،2017کو انتخابات کے انعقاد سے متعلق قوانین میں ترمیم ، بہتری اور یکسانیت لانے کیلئےنافذ کیا گیا تھا۔اس کا اطلاق 2ستمبر، 2017 سے ہوا۔

2۔عدالت میں پیش کیے گئے تنازعے کا تفصیلی پس منظر یہ تھا کہ مدعا علیہ نمبر 3۔پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان کی قومی اسمبلی میں سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے(سیٹوں کے اعتبار سے)۔قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کے سبب اس نے عام انتخابات،2013 کے بعد حکومت بنائی۔مدعا علیہ نمبر 4(محمد نواز شریف)اس کے صدر تھے۔انہیں پاکستان کا وزیر اعظم منتخب کیا گیا تھا۔ 03-04-2016کو انٹرنیشنل کنسورثیم آف انویسٹیگیٹوجرنلسٹس(آئی سی آئی جے)نے کچھ معلومات اور دستاویزات جاری کیے جو کہ پاناما کے موساک فونیسکا اینڈ کمپنی نامی قانونی فرم کے ڈیٹا بیس سے حاصل کیے گئے تھے۔یہ معلومات 04-04-2016کو دنیا بھر کے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر شائع ہوئیں ۔جس میں بڑی تعداد میں آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا جو کہ مختلف ممالک اور ٹیکس ہیونز میں قائم کی گئی تھیں۔یہ آف شور کمپنیاں دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے متعدد اشخاص اور اداروں کی فرضی ملکیت یا کنٹرول میں تھیں ۔عوامی سطح پر آنے والی معلومات میں انکشاف ہوا کہ متعدد سیاسی اور عوامی شخصیات اور ان کے گھروالوں کی ، جن کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے ، ان کی ملکیت میں ان آف شور کمپنیوں کے ذریعے قیمتی اثاثے دنیا کے مختلف حصوں میں ہیں ۔مدعا علیہ نمبر 4(جو کہ اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم تھے)کے بچوں کے نام بھی افشا ہونے والے دستاویزات اور معلومات میں شامل تھے۔یہ معلومات اس سے قبل عوامی سطح پر نہیں تھیں اور نہ ہی انہیں کسی مجاز اتھارٹی نے افشا کیا تھا۔

3۔عوامی احتجاج نے دنیا بھر کی کچھ سیاسی شخصیات کو عوامی عہدوں سے استعفے دینے پر مجبور کیا۔جب کہ کچھ نے پارلیمان میں وضاحتیں جمع کرائیں ، اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا یا یہ ثبوت فراہم کیے کہ اس طرح کی آف شور کمپنیوں کے ذریعے بنائے گئے اثاثے یا آف شور کمپنیاں قانونی طریقے سے اور قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے ۔کچھ ممالک میں تحقیقا ت کا آغاز کیا گیا تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ غلط طریقے سے حاصل کیے گئے فوائد، کرپشن ، منی لانڈرنگ ، مالیاتی جرائم اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے الزامات کی تحقیقات کی جاسکیں۔

4۔اسی طرح کے الزامات مدعا علیہ نمبر4اور ان کے بچوں پر بھی لگائے گئے ۔انہوں نے کئی مواقع پر وضاحتیں پیش کیں ۔ایک مرتبہ انہوں نے پارلیمان میں ارکان پارلیمنٹ کے سامنے وضاحت دی ، جب کہ دوسری مرتبہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کے دوران وضاحت دی۔تاہم متضاد نوعیت کے ہونے کے سبب یہ وضاحتیں اکثریت کو مطمئن نہ کرسکیں۔ان میں سے کچھ نےآئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت اس عدالت سے رجوع کیا۔مدعا علیہ نمبر 4کو اس عدالت میں لایا گیا پر انہوں نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا اور نہ آئینی استثنا(اگر کوئی ہے)مانگا۔اس معاملے کی سماعت اس عدالت کے 5رکنی بینچ نے کی۔

5۔تفصیلی سماعت کے بعد جو کہ کئی ماہ میں اختتام پذیر ہوئی، اس معاملے کا فیصلہ عدالت نے 20-04-2017کے سنایا۔اس فیصلے میں بینچ کے 5قابل ارکان میں سے 2نے ، جن کے نام آصف سعید خان کھوسہ اور گلزار احمد ہیں ، نے مدعا علیہ نمبر 4کوآئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا ۔تاہم بینچ کے تین قابل ارکان نے جن کے نام اعجاز افضل خان ، شیخ عظمت سعید اور اعجاز الاحسن ہیں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی )تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔جے آئی ٹی کا کام مدعاعلیہ نمبر4اور ان کے گھروالوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کے حوالے سے جامع تحقیقات کرنا تھا، متعدد اثاثے جو آف شور کمپنیوں کے ذریعے بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کی ملکیت تھے اور فرنٹ مین وغیرہ کا پتہ لگانا تھا اور 60روز کے اندر رپورٹ جمع کرانا تھی۔اس عدالتی فیصلے کو عمران احمد خان نیازی بمقابلہ میاں محمد نواز شریف (پی ایل ڈی 2017ایس سی 265)کے طور پر رپورٹ کیا گیا۔عدالت کے دیئے گئے مینڈیٹ پر عمل کرتے ہوئے جے آئی ٹی نے اپنی انکوائری /تحقیقات کیں۔60روز مکمل ہونے اور تحقیقات پوری ہونے پر جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جو کہ 10والیمز پر مشتمل تھی۔رپورٹ کی جانچ پڑتا ل کے بعد مذکورہ بالا بینچ کے تین قابل ارکان نے اپنا فیصلہ 28-07-2017کو سنایا ۔مذکورہ قابل ارکان نے بھی مدعا علیہ نمبر 4کوآئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت بطور رکن مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ) نااہل قرار دیا۔28-07-2017کے فیصلے کے حتمی نتائج کے تحت اس عدالت کے تمام 5قابل ججوں نے متفقہ طور پر مدعا علیہ نمبر 4کوآئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا۔ مزید یہ کہ انہوںنے نیب کو ہدایت کی کہ وہ دیگر چیزوں کے ساتھ مدعا علیہ نمبر 4،ان کے کچھ بچوں، داماد اور دیگر کے خلاف متعدد ریفرنس فائل کریں، ساتھ یہ ہدایت بھی کی گئی کہ ان ریفرنسوں کا فیصلہ احتساب عدالت 6ماہ کے اندر کرے گی ، جس کا تعین ریفرنسوں کے فائل ہونے کی تاریخ سے ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس عدالت کی ہدایات جو کہ نیب کی جانب سے ریفرنس فائل کرنے سے متعلق تھی، اس پر عمل درآمد کیا گیا۔مدعاعلیہ نمبر 4، ان کے کچھ بچوں ، داماد اور دیگر کے خلاف متعدد ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے گئے اور کارروائی جاری ہے۔

6۔بعد ازا ں بتایا گیا کہ فریق نمبر 4اور اس حوالے سے دیگر پٹیشنز کے جائزے جو کہ 28جولائی 2017کو عدالت میں لئے گئے وہ تمام 15 نومبر2017کو ایک حکم کےنامے کے ذریعے منسوخ کر دیئے گئے ۔اس عدالت کا حکم 28 جولائی2017کو ریکارڈ کیا گیا جس میں یہ بھی شامل ہے کہ پیپلز ایکٹ 1976کےسیکشن 99(f)اور آرٹیکل 62(1)(f)کے تحت فریق نمبر 4بے ایمان ہے ۔لہٰذا اسےپارلیمنٹ کا ممبر بننے کیلئے نااہل قرار دیا گیا۔اس ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی فریق نمبر4کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ۔جس کے بعد فریق 4 کو وزیر اعظم کے عہد ے سےہٹا دیا گیا۔

7۔اس عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں الیکشن کمیشن نے فریق نمبر 4کے بارے میں دوبارہ نوٹیفیکیشن جاری کیا کہ اسےوزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔

8۔فریق نمبر 4الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق فریق نمبر 3پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ بھی نہیں رہ سکتے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ ن ایک سیاسی پارٹی ہے جو پاکستان الیکشن کمیشن میں رجسٹر ہے اور سیاسی پارٹیز آرڈر 2002کے آرٹیکل 5کے مطابق اور آرٹیکل 62اور 63 کے تحت نااہل قرار دیئے جانے اور وزارت عظمیٰ کے عہد ے سے ہٹائے جانے کے بعد فریق نمبر4 پاکستان مسلم لیگ ن کا صدر یا سربراہ بھی نہیں رہ سکتا۔لہذااس عدالت کے فیصلے کی روشنی اور قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے فریق نمبر 4کو پاکستان مسلم لیگ کےصدرکے عہدے سےبرخاست کردیا گیا ۔آرڈر 2002کے سیکشن5 کی روشنی میں جو بات سامنے آئی وہ یہ درج ہے،۔

2۔جب کوئی شہری کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتا ہے یا سیاسی پارٹی میں اسے کوئی عہدہ دیاجاتا ہے تو اس حوالے سے اس کا با قاعدہ ریکارڈ موجود ہونا چاہئے جبکہ اس سیاسی پارٹی کی طرف سے شہری کو ممبر شپ کارڈ یا کوئی اور ڈاکومینٹ بھی جاری کیا جائےجس سے یہ ثابت ہوسکے کہ وہ شخص سیاسی پارٹی کا ممبر ہے ۔

3۔ایک شخص بیک وقت ایک سے زیادہ سیاسی پارٹی کا رکن نہیں رہ سکتا۔

4۔کسی بھی سیاسی پارٹی کے رکن کو اس پارٹی کے ریکارڈ کی معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔

5۔سیاسی پارٹی کی ممبر رکنیت:ہر اس شہری کوجو سرکاری ملازمت میں نہ ہو سیاسی پارٹی بنانے یا کسی بھی سیاسی پارٹی کا رکن بننے کا حق حاصل ہے ۔اسی طرح و ہ شہری کسی بھی حوالے سے کسی سیاسی پارٹی سے اپنی وابستگی رکھنے،سیاست میں حصہ لینے اور کسی پارٹی کا عہدہ رکھنے کا مجاز ہے ۔اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 63 یا کوئی اور قانون جو وقتی طور پر لاگو ہو کے تحت اس شہری کو پارلیمنٹ کے ممبر یا سیاسی پارٹی کے کسی عہدیدار کی حیثیت سے منتخب کیا جاسکتا ہے۔مزید برآں یہ کہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے ممبریا کسی سیاسی پارٹی کا عہدہ رکھنے کیلئے گریجویشن کی ڈگری رکھنے والی شرط ختم ہوگئ ہے۔

9۔پٹشنرز کی طرف سے یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اس عدالت کے فیصلے کے اثر کو کو زائل کرنے کیلئے حکمران پارٹی پاکستا ن مسلم لیگ ن نے الیکشن ایکٹ 2017کے نام سے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا ہے۔

10 ۔زیرنظر قضیہ میں الیکشن ایکٹ 2017کے سیکشنز معنی خیز اہمیت کے حامل ہیں جن کے تناظر میں صورت حال کو سمجھا جا سکتا ہے۔

203، سیاسی جماعتوں کی رکنیت سازی:۔ ہر شہری جو سرکاری ملازم نہ ہو وہ ایک سیاسی جماعت بنانے، سیاسی جماعت کا رکن بننے یا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے یا ایک سیاسی جماعت کا منصب رکھنے کا حق رکھتا ہے۔

(2)جب ایک شخص ایک سیاسی جماعت سے منسلک ہوتا ہے تو اس کا نام سیاسی جماعت کے متعلقہ ریکارڈ میں داخل کیا جائے گا اور اسے سیاسی جماعت کا کارڈ رکنیت جاری کیا جائے گا یا اس نوعیت کی کوئی اور دستاویز جاری کی جائے گی جو یہ ظاہر کرے کہ مذکورہ شخص اس پارٹی کا رکن ہے۔

(3)ایک شخص ایک وقت میں ایک جماعت سے زائد پارٹیوں کی ممبر شپ رکھنے کا اہل نہیں ہو سکتا۔

(4)ایک سیاسی جماعت خواتین کو رکنیت دینے کی ترجیحاً حوصلہ افزائی کرے گی۔

(5)کسی پارٹی کا رکن مذکورہ جماعت کے ریکارڈ تک رسائی کا حق رکھتا ہے۔

232 وجوہ کے ارتکاب پر نااہلیت:۔ اس ایکٹ کے تحت جب کوئی شخص کسی غیر قانونی فعل کا مرتکب ہو اور کوئی ٹریبونل اسے اس فعل کا مرتکب گردانے یا کوئی کمیشن اس ضمن میں نوٹس لے اور حکم جاری کرے تو وہ شخص نااہل ہو گا مگر مقررہ مدت سے زائد کیلئے نہیں۔ جو پانچ سال سے زائد نہ ہو یا متعین کردہ وقت سے اس دوران وہ قومی اسمبلی، سینیٹ یا مقامی حکومتوں کا رکن بننے کا مجاز نہ ہو گا۔

-11 ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ بل 22.09.17 کو سینٹ آف پاکستان میں پیش کیا گیا، ہمیں پتہ چلا کہ مذکورہ بل میں کئی ترامیم کی تجاویز دی گئیں، جو کئی سیاسی جماعتوں کی طرف سے تھیں، مذکورہ حکم نامہ 2002کے سیکشن 5میں حراست کو بھی شرط قرار دینے کی بات کی گئی، یہ بھی نوٹ کیاگیا مذکورہ شرط کے علاوہ بل 2002اپنی اصل مجوزہ حالت میں تھا، یہ بھی نظر آیا کہ مختلف جماعتوں کی طرف سے تجاویز کردہ ترامیم غیر مشترکہ نہیں ہیں، پٹیشن میں پر زور طریقے سے کہا گیا سینٹ آف پاکستان اس کا جواب دہ اور ذمہ دار ہے، تاہم ہم اس تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے بالخصوص آرٹیکل 69کے ضمن میں جس تناظر میں مذکورہ بالا بل سینٹ آف پاکستان سے منظور ہوا، اس حوالے سے ہم نے سینٹ آف پاکستان میں ہونے والے مباحثے کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا مگر ہم نے محسوس کیا کہ اس موضوع پر کوئی مفید مباحثہ نہیں ہوا، تاہم اس ایشو میں مزید گہرائی سے ہم نہیں جانا چاہتے۔

-12 الیکشن بل 2017، سینٹ آف پاکستان میں آنے کے بعد قومی اسمبلی میں 02-10-2017کو پیش ہوا تھا اور یہی اسی روز منظور بھی کر لیا گیا اور پھر اسی روز صدارتی منظوری بھی لی گئی۔

-13 مورخہ 03-10-2017کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جواب گزار نمبر3نے آئین میں ترمیم کی اور جواب گزار نمبر4کو اپنا صدر منتخب کر لیا، پٹیشنرز کی طرف سے یہ الزام عائد کیا گیا الیکشن ایکٹ 2017جو آئین کی دستاویز کا حصہ بن چکا ہے مورخہ 02-10-17کو اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے جواب گزار نمبر4جن کا نام نواز شریف ہے کو جانبدارانہ حمایت دی گئی۔

14۔اس تناظر میں درخواست گزار نے الیکشن ایکٹ 2017کی سیکشن 203اور232کو چیلنج کیا اور مذکورہ نکات پیدا کیے،اس میںدوسری باتوں کے علاوہ کہا گیا کہ مذکورہ شقوں کو قانونی اختیارات سے تجاوز قرار دے کر آئین سے ختم کر دیا جائے یا پھر کم از کم ان کا مطالعہ، تشریح اس انداز میں کی جائے کہ یہ اپنے معنی ، گنجائش اور تشریح میں آئینی شقوںکے ہم آہنگ ہوں جنہیں بہر صورت دستوری شقوں پر فضیلت حاصل ہو گی۔

15۔فاضل اے ایس سی فروغ نسیم جو 2017کی آئینی شق38میں درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے ، انہوں نے دلیل دی کہ الیکشن ایکٹ 2017کی سیکشن203 کا مطالعہ کسی بھی فرد کو جسے عدالت نے نا اہل قرار دیا ہو اسے دستور نےیہ ا جازت نہیں دی کہ وہ فوری از خود کسی جماعت کا عہدیدار بن جائے، تا ہم اس کی تشریح اگریہ کی جائے کہ شق203کسی بھی نا اہل شخص کو کسی بھی جماعت کا عہدیدار بننے سے نہیں روکتی، اس صورت میں مذکورہ شق کو غیر آئینی قرار دے کر ختم کردیا جائے یا متبادل کے طور اسے یہ حصہ قرار دے کرپڑھا جائے کہ مذکورہ شق کسی بھی ایسے شخص کو جسے نا اہل قرار دیا گیا ہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ یا عہدیدار اورپارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔انہوں نے قراردیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور63یا فی ا لوقت لاگو کسی بھی قانون کے تحت اگر کوئی شخص مجلس شوریٰ ( پارلیمنٹ ) کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دیا جا تا ہے تو وہ کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار کسی بھی صورت نہیں بن سکتا، یہ اس لیے ہے کہ اگر ایک شخص صادق اور امین قرار نہ دیا جائے اور وہ کسی جماعت کا عہدیدار بشمول صدر بن جاتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان افراد کی قیادت کرے گا جو سینیٹ آف پاکستان اور قومی و صوبائی اسمبلیوںکے ارکان ہوں گے اور ان پرمذکورہ نا اہلیوں میں سے کسی کا بھی اثر نہیں ہو گا۔دوسرے الفاظ میں ایک شخص جو صادق و امین نہیں ان افراد کی قیادت کرے گا جو صادق و امین ہوں گے میرے خیال میں یہ مضحکہ خیز، اسلامی اصول کے خلاف اور تضاد ہے۔

16۔درخواست گزار کے وکیل نے ہماری توجہ آئین کے آرٹیکل 63(اے) کی طرف مبذول کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایک پارٹی کے سربراہ کو ایوان میں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب ، عدم اعتماد کے ووٹ، مالیاتی بل بعد اور آئینی ترمیم پر اپنی پارٹی ووٹ دینے یا ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کے معاملات اور پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے برعکس وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کسی رکن کے وفاداری تبدیل کرنے کی صورت میں پارٹی سربراہ کی طرف سے پریذائیڈنگ افسر یا الیکشن کمیشن کو ڈیکلیریشن بھیجنا بالآخر نتیجہ اس رکن کی نااہلی کی شکل میں نکلتا ہے۔ انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ایک پارٹی سربراہ آئین اور دیگر قوانین سے متعلق اپنے پارٹی ارکان کے ووٹ کے استعمال سے متعلق اختیار اور کنٹرول بھی رکھتا ہو۔معزز وکیل کا موقف تھا کہ پاکستان کے شہریوں کو کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کا آئینی حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق اس سیاسی جماعت کو اختیار کرنے کا یہ حق معزز عدالت کی طرف سے نا اہل قرار دیئے گئے شخص کے اس کے سربراہ ہونے کی صورت میں خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بالخصوص جبکہ فیصلہ اس کی دیانتداری سے متعلق ہو۔ معزز وکیل کا موقت تھا کہ پاکستان کے شہریوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ آئین کے تحت نا اہل قرار دیا گیا شخص نا تو کسی سیاسی جماعت کا سربراہ بنے اور نہ ہی وہ پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ میں پارلیمنٹرینز کو کنٹرول کرے۔ لہٰذا معزز عدالت کی طرف صادق اور امین نہ ہونا قرار دیئے جانے کی صورت میں وہ شخص ایک پارلیمنٹ بننے کیلئے نا اہل ہو اور وہ پھر بھی ایک سیاسی جماعت کا سربراہ بن جاتا ہے تو یہ نا صرف آئین کے منافی ہوگا بلکہ آئین کے آرٹیکل 17اور 14 کے تحت تنظیم بنانے کے بنیادی حق کی واضح خلاف ورزی بھی ہوگا۔معزز وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ کسی ایسی جماعت جس کا سربراہ عدالت کی طرف سے دیانتدار قرار نہ دیا گیا ہو کی رکنیت حاصل کرنا بظاہر ایک شخص کے وقار کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے جو تمام شہریوں کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جہاں تک جواب دہندہ نمبر 4 کو پی ایم ایل (ن) کے سربراہ بنانے کا تعلق ہے یہ آئین کے آرٹیکل نمبر62،63اور 189 کی واضح خلاف ورزی ہے۔

-17 پاکستان پیپلزپارٹی کے سردار محمد لطیف خان کھوسہ ایڈووکیٹ کے موقف کے مطابق اسی طرح کی الیکشن ایکٹ 2017میں 203اور 232 سیکشن میں اسی طرح کی پٹیشن داخل کی کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63کو ختم کرنے کیلئے غیر آئینی اقدام کرتے ہوئے صرف ایک مخصوص شخص کو حمایت اور اسکو فائدہ دینے کیلئے کیا گیا۔ انہوں نے درخواست میں مزید بتایا کہ 203سیکشن آرٹیکل 62اور 63 کو نہ صرف مبریٰ کیا بلکہ عمران خان کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے کیا تاکہ اس پر اثر انداز ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قانون سازی غیر اسلامی اور آئین کے آرٹیکل 2 اے اور 227 پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

-18بابر اعوان ایڈووکیٹ نے 2017میں درخواست گزار آئینی درخواست نمبر 49 میں حاضر ہوئے کہا کہ موجودہ ڈھانچے سے کچھ بھی نکالنا یا تبدیلی کرنا آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی قانون سازی کو آئین میں شامل کرنا اس پر نہ اثر انداز اور نہ تناؤ ہوسکتی ہے انہوں نے مزید بتایا کہ اس شق پر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ یہ قانون سازی صرف ایک فرد کو فائدہ دینے کیلئے بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مروجہ قانون کے مطابق عدالت نے مخصوص فرد کیلئے قانون سازی کو ناقابل قبول کیا گیا۔ ان کے موقف کے مطابق آئین کی اختیارات کی تقسیم پر بنیاد ہے ریاست کی تین ستون پر اسکی پہچان ہے پارلیمنٹ ، انتظامیہ اور عدلیہ ہے اگر آئین کو زیر نگین کیا جاتا ہے تو 3 تینوں ستون اسکے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ آئین کی طرف سے دیا گیا موقف حتمی اور آئین کے آرٹیکل 190کو ، سارے انتظامیہ عدلیہ اور پاکستان کی تمام اتھارٹیز اس پر عدالت کی مدد ہے۔

19۔آئینی درخواست نمبر 43کے پٹیشنر احسن الدین شیخ نے اپنی درخواست میںموقف اختیار کیا کہ مدعا علیہ نمبرچار28جولائی 2017ء کو نااہل قراردیاگیا تھااور اسی تاریخ کو آرڈر 2002ء بروئے کار آگیاتھا۔ چنانچہ جس تاریخ کو مدعا علیہ نمبر 4 آرڈر 2002ء کے سیکشن 5 کے تحت ناہل قرار پایا تھاآئین کے تحت ایسی نااہلیت ماضی سے یا کسی عام قانون سازی سے ختم نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 203اور 232کو ملاناجو کچھ براہ راست نہیں ہوسکتا تھا اسے بالواسطہ کرنے کی ایک کوشش تھی۔ایسا راستہ اختیار کرنا قانون کے تحت ممنوع ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے چیف سیکریٹری سندھ اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حوالہ دیا۔

20۔ 28جولائی 2017ء کے نااہلیت کے حوالے سے اس عدالت فیصلے کے اثرات کے بارے میں اپنے دلائل میں درخواست گزارنے آئین کے آرٹیکل 264 کی دفعات کی جانب توجہ دلائی۔ ان کا موقف تھا کہ جہاں ایک قانون منسوخ یا کیا جاتا یا منسوخ سمجھا جاتا ہےوہاں کسی حق، مراعات، ذمہ داری کو متاثر کئے بغیراس کا متبادل فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جنرل کلازز ایکٹ 1957ء کے سیکشن 6کا حوالہ دیتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ مدعا علیہ نمبر 4جو پہلے ہی نااہل قرار دیا جا چکا ہے اس کی نااہلیت2002 کے آرڈر اور الیکشن ایکٹ 2017ء کے موثر ہونے سےختم نہیں کی جاسکتی۔ جو حقوق آئین کے آرٹیکل 17 میں شامل ہو چکے وہ قوانین اور عوامی اخلاقیات کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔ ایسا شخص جو آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نااہل قرار پا چکا ہو، شہریوں کے ضمیر کوڈستا اور عوام کی اخلاقیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

21۔2017ء کی آئینی درخواستوں نمبر50, 47, 45, 44, 42, 41 اور 54 میں سپریم کورٹ کے فاضل وکلا اور درخواست دہندگان نے ذاتی طور پر اسی قسم کی گزارشات کیں اور مذکورہ دلائل کو اختیار کر لیا تاہم انہوں نے اضافی طور پر موقف اختیار کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 203 اور بعض دیگر ترامیم میں آئین کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63کو فضول سمجھا گیا ہے۔ مزید برآں مدعا علیہ نمبر4کی طرف سے پارٹی ٹکٹ دیئے گئے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ پارٹی اور ان ارکان پر اپنا حکم چلا اور اثرورسوخ استعمال کر سکتا ہے جو پارلیمان کے ارکان بننے والے ہیں۔ اس طرح آئینی دفعات، عوامی اخلاقیات اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے قابل تحسین اصولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے جبکہ یہ جمہوری انتظام کیلئے جزولاینفک ہیں۔

22۔ مستغیث نمبر3 پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندے فاضل وکیل سپریم کورٹ سلمان اکرم راجا نے موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء سے سیکشن 203 کو حذف کرنا ، جس کے تحت آرڈر 2002ء کے سیکشن 5 کے تحت کسی شخص کی بطور پارٹی سربراہ تعیناتی کوروکا گیا تھا، آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ مذکورہ شرط ہماری تاریخ کے ایک خاص دور میں شامل کی گئی اور یہ کوئی ایسا آئینی معیار نہیں جس پر ایکٹ 2017ء کے سیکشن 203 کا جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم سازی کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعت کے ارکان کو اپنی تنظیم سازی اور عہدیداروں بشمول پارٹی سربراہ کے اپنی پسند کے مطابق چنائو کی آزادی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت کی تشکیل اندرونی معاملہ ہے اور اسے ارکان کی منشا اور مرضی پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ان کا موقف تھا کہ آئین کے آرٹیکلز 17اور 19 میں لگائی گئی پابندیاں اپنی جگہ موجود ہیں اور آرٹیکلز میں مزید کوئی قدغن درآمد ، منتقل یا پڑھی نہیں جانی چاہئے جب تک کہ آئین ایسا نہ کہے۔اس حوالے سے فاضل وکیل سپریم کورٹ نے بے نظیر بھٹو بنام وفاق پاکستان (پی ایل ڈی 19078ایس سی 416) پر انحصار کیا ہے۔

23۔ فاضل وکیل سپریم کورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 62 اور 63میں جس اہلیت اور نا اہلیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی اہلیت اور نا اہلیت تک محدود ہے، اس نا اہلیت یا عدم اہلیت کو سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں تک نہیں پھیلانا چاہئے۔

24۔ الیکشن بل کی جلدی میں منظوری اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث اور مقررہ طریق کار پر عدم عملدرآمد کے بارے میں درخواست گزاروں کے وکلا کے دلائل کا حوالہ دیتے ہوئے سلمان راجا نے کہا کہ پارلیمان کی کارروائی کو آئین کے آرٹیکل 69کے تحت تحفظ حاصل ہے اور طریق کار میں کسی بے قاعدگی کی بنیاد پر اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا۔ان کا موقف تھا کہ بل کے مسودے پر پارلیمنٹ کی سب کمیٹی میں بحث کی گئی جو پارلیمنٹ کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بل کسی بحث و تمحیص اور مباحثے کے بغیر جلدی میں پیش کر دیا گیا ۔

25۔ آئین کے آرٹیکل 63A کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل وکیل سپریم کورٹ نے موقف اختیار کیا کہ یہ شق موجودہ صورتحال میں اٹھارویں ترمیمی ایکٹ 2010ء کے ذریعے آئین میں شامل کی گئی جس کا محدود مقصد ارکان کو انحراف سے روکنا اور پارلیمانی پارٹی کے کسی رکن کو اپنی جماعت کی رکنیت سے استعفے، کسی اور پارٹی میں شمولیت، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب یا ان پر اعتماد کے ووٹ یا منی بل یا آئینی ترمیمی بل پر پارلیمان پارٹی کی ہدایات کے خلاف ووٹ دینے یا غیر حاضر ہونے پر نا اہل قرار دینا تھا‘ ایسی صورتحال میں بھی فاضل وکیل کے مطابق پارٹی سربراہ قرار دے سکتا ہے کہ اس رکن نے پارٹی سے انحراف کیا ہے اور اس ڈیکلریشن کی کاپی پریزائیڈنگ افسر اور چیف الیکشن کمشنر کو بھیج سکتا ہے‘ چیف الیکشن کمشنر یہ ڈیکلریشن الیکشن کمیشن میں پیش کرتا ہے اور اگر الیکشن کمیشن اس ڈیکلریشن کی توثیق کر دیتا ہے تو اس صورت میں مذکورہ رکن ایوان کا رکن نہیں رہتا۔

ان کا موقف تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت پارٹی سربراہ کا کردار محدود مقصد کیلئے زیادہ تر رسمی اور مجلسی ہے اور یہ تصور کرنا درست نہیں کہ پارٹی سربراہ مکمل طور پر طاقتور ہے اور وہ پارلیمنٹ کے ان ارکان پر اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کی پارلیمانی پارٹی تشکیل دیتے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ پارٹی سربراہ آئین کے آرٹیکل 63اے کی خلاف ورزی پر ڈیکلریشن جاری کر سکتا ہے یا پارلیمانی پارٹی کے رکن کے کسی اقدام سے چشم پوشی اور اسے معاف کر سکتا ہے۔

26۔ ایک شخص کیلئے مخصوص قانون سازی کے سوال پر فاضل وکیل کا موقف تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 230اور نہ ہی 232کو کسی شخص کیلئے مخصوص قانون سازی قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ قانون سازی کسی طرح فوجی فائونڈیشن بنام شمیم الرحمان (پی ایل ڈی 1983، ایس سی 457)، باز محمد کاکڑ بنام وفاق پاکستان(پی ایل ڈی 2012ء ایس سی 870) اور باز محمد کاکڑبنام وفاق پاکستان (پی ایل ڈی 2012ء ایس سی 923)کے تحت طے شدہ قانون سے متصادم نہیں۔

27۔ مستغیث نمبر4 (محمد نواز شریف) کو باقاعدہ طور پر نوٹس دیا گیا تاہم وہ حاضر نہ ہوئے اور نمائندہ بھی نہ بھیجنے کا راستہ اختیار کیا۔ اس لئے 6 فروری 2018ء کے آرڈر کے مطابق ان کی غیر حاضری میں کارروائی کو آگے بڑھایا گیا تاہم ہم نے حکم میں کہا کہ وہ کسی بھی مرحلے پر عدالت میں پیش ہو کر اپنے معروضات پیش کر سکتے ہیں تاہم وقت دینے کے باوجود ان کا موقف پیش کرنے کیلئے کوئی نمائندہ نہیں آیا۔

28۔ ہم نے فریقوں کے فاضل وکلا کو سنا‘ ان کے دلائل پر غور کیا اور ریکارڈ پر پیش کئے گئے مواد کا جائزہ لیا۔

29۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا‘ نئی ریاست اور اس کے متعلقین کیلئے رہنما اصول اسلامی نظریہ اور مسلمانوں کا یقین ہے۔ ان نظریات کو 1949ء میں ایک قرارداد کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا جو قرارداد مقاصد کے نام سے جانے جاتے ہیں جو درج ذیل ہیں:۔

’’اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقررہ کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہو گا، وہ ایک مقدس امانت ہے‘‘

’’چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشا ہے کہ ایک نظام قائم کیا جائے‘‘۔

’’جس میں مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی‘‘

’’جس میں جمہوریت ، آزادی، مساوات ، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا‘‘

’’جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق‘ قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے‘ ترتیب دے سکیں‘‘

30۔قرار داد و مقاصد آئین کا دیپاچہ ہےاسی طرح 1985ء میں آئین میں آرٹیکل ٹو اے شامل کر کےیہ واضح کیا گیا کہ قرار داد مقاصد میں بیان کردہ اصول آئین کا بنیادی جزو ہونگے اور ان پر اسی حیثیت سےعملدرآمدہو گا۔قرار داد مقاصد میں کہاگیاہے کہ پوری کائنات میں اقتدار اعلیٰ صرف اللہ کیلئےہےاوراس اختیار کوپاکستان کے عوام اسکی بتائی گئی حدود و فیود کے اندر رہتےہوئے ایک مقدس امانت کے طور پر استعمال کرینگے۔یہ عمل اسلامی عقائد کےمطابق ہو گااور نظام حکومت اگرچہ جمہوریت ہو گا لیکن یہ جمہوریت اسلامی اصولوں کی راہ میں حائل نہیں ہو گی۔پس قرار داد مقاصدکے طے شدہ اصولوں کے مطابق جمہوریت،آزادی،مساوات ، برداشت اور سماجی انصاف کے اسلامی اصول اورایسی ریاست کا تصور دیا گیاہے جہاں مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائیگا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں بتائےگئے اسلامی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق منظم کر سکیں ۔31۔آئین کے آرٹیکل 2کے مطابق اسلام ریاست کا سرکاری مذہب ہو گا،اسی طرح آئین کے آرٹیکل 41(2)کے تحت ریاست کے سربراہ کے طور پر صدر کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ آئین کی شق 50کےتحت ریاست کی پارلیمان کواسلامی روایات کےمطابق مجلس شوریٰ کہاجائیگا۔آئین کا آرٹیکل 31واضح طور پرطےکرتاہےکہ مسلمانان پاکستان کو انفرادی و اجتماعی سطح پراپنی زندگیاں اسلام کے بنیادی تصورات اور اصولوں پر ڈھالنے کے قابل بنانے کیلئے اقدامات کئے جائینگے اور قرآن پاک اور سنت کےمطابق زندگی کو سمجھنے کے قابل بنانے کیلئے سہولیات فراہم کی جائینگی۔ آئین کا آرٹیکل 31ٹو بی قرار دیتا ہےکہ ریاست مسلمانان پاکستان میں اتحاد کے فروغ اوراسلامی اخلاقی اقدارپرعمل کیلئے کوششیں کریگی۔آئین کےآرٹیکل 203کےتحت وفاقی شرعی عدالت کاقیام عمل میں لایاگیا، مذکورہ عدالت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے اور فیصلہ کرے کہ کوئی قانون یا اسکی پرویژن اسلامی اصولوں کےخلاف تو نہیں۔آئین کی شق 227بھی واضح کرتی ہے کہ تمام رائج قوانین کو قرآن و سنت میں طے کئے گئے اسلامی اصولوں پر ڈھالا جائیگا اور کوئی ایسا قانون نافذنہیں کیاجائیگاجوان اصولوں کے برخلاف ہو۔آئین کی مذکورہ بالاپرویژنزاسکے دیپاجے میں بیان کئے گئے مرکزی خیال کی تصدیق ہیں۔اسی کےتحت اور اسی سیاق و سباق میں مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ) یا صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت کیلئے اہلیت کیلئےبیان کردہ خصوصیات کی بنیادممتاز اور غلطی سے پاک اسلامی اصولوں پرہےجو آئین کے آرٹیکل کی پرویژنزسےواضح ہوتی ہیں۔آئین کے آرٹیکل 62کی (1) (d)(e)(f)اور (g)پرویزنز جو مجلس شوریٰ کے اراکین کی اہلیت کے حوالے سےہیں،ذیل میں بیان کی گئی ہیں۔’’آرٹیکل (1)62کوئی شخص بطور ممبر مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ جسے جانے کا اہل نہیں ہو گا ماسوائے کہ(d)اچھے کردار کا حامل ہو اور عوام میں احکام اسلامی سے انحراف میں مشہور نہ ہو۔(e)وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتاہواور اسلامی کے بتائے گئے فرائض کا پابند ہو نیز گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو۔(f)وہ سمجھدار ہو،پارسااور امین ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اسکےبرخلاف نہ ہو۔(g)اس نے قیام پاکستان کے بعد ملکی سالمیت کیخلاف کام نہ کیا ہو اور نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔


(32) اوپر بیان کردہ کوالیفکیشن ہو سکتا ہے پوری کرنا مشکل ہو، تاہم یہ بات منتخب نمائندون کے لیے ضروری ہے کہ اپنی اختیارات استعمال کرتے وقت یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ان کے اختیارات اللہ تعالیٰ کے ودیعت کردہ ہیں اور وہ اللہ کے نائب کے طور پر ایک مقدس معاہدے کے تحت اختیارات ادا کرنے کے پابند ہیں ،کسی اخلاقی کمزوری، اسلامی شعائر کی خلاف ورزی، اسلامی تعلیمات کا مناسب علم نہ ہونا، اسلام کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی میں پابند نہ ہونا، گناہ کبیرا سے نہ بچنا، زیرک نہ ہونا، سچا نہ ہونا، بدکردار ہونا، ایماندار یا امین نہ ہونا، جھوٹی گواہی یا اخلاقی جرائم میں ملوث ہونا یا ملک کی خودمختاری یا نظریہ پاکستان کی مخالفت کرنا ان سب چیزوں سے آرٹیکل 62کی شقیں ریاستی سربراہان کو بالا رکھتی ہے ، یعنی ان میں یہ خصائص نہ ہوں۔ ان خصوصیات کے بارے میں سمجھنا مشکل نہیں ہے، جب بالائی سطح پر ریاست کے قانون ساز ادارے شفاف ہوں گے تو صاف شفاف قیادت ابھرے گی جو کہ درست طور پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ملک چلائے گی، یہی آئین کامطمۂ نظر ہے اور آئینی ذمہ داری کے تحت عدالتیں اس کی تشریح اور نفاذ کی پابند ہیں۔(33) گزشتہ چند سالوں میں ہماری عدلیہ نے اہلیت اور نااہلیت کے کئی قابل غور فیصلے کئے ہیں جن میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین شامل تھے ارکان کو جعلی ڈگریوں سے متعلق غلط بیانی کرنے پر نااہل کیا گیا، اسی طرح ان لوگوں کو نااہل کیا گیا جنہوں نے دوہری شہریت سے متعلق غلط اقرار نامے جمع کرائےاورمعلومات چھپائیں ، یا اپنے اثاثوں سے متعلق جھوٹ بولا اور اپنے الیکشنز ریٹرنز کے لئے کاغذات نامزدگی میں غلط اقرار نامے جمع کرائے۔ اوپر بیان کردہ سیاق و سباق کے مطابق درج ذیل کیسوں سے متعلق ریفرنس بھیجا جا سکتا ہے، نوابزادہ افتخار احمد خان بنام چیف الیکشن کمشنر اسلام آباد دیگر (پی ایل ڈی 2010 ، ایس سی 817) اور عمران خان نیازی بنام محمد نوالز شریف (پی ایل ڈی 2017 ایس سی 265 )،محمد خان جونیجو بنام فدا حسین، و دیگر (پی ایل ڈی 2004نوابزادہ افتخار احمد چیف الیکشن کمشنر اسلام آباد و دیگر (پی ایل ڈی) 2010 ایس ڈی 817، محمد رضوان گل بنام نادیہ عزیز و دیگر (پی ایل ڈی 2010 ایس سی 828) رانا آفتاب احمد خان بنام محمد اجمل و دیگر (پی ایل ڈی 2010) ایس سی 2066) حاجی ناصر محمود بنام میاں عمران مسعود و دیگر (پی ایل ایس ایس سی 1089 ) مدثر قیوم نہرا بنام چودھری بلال اعجاز (2011ایس سی ایم آر 80) سید محمد اختر نقوی بنام وفاق پاکستان و دیگر (2012ایس سی ایم آر 1101) ملک اقبال احمد لنگڑیال بنام جمشید عالم و دیگر (پی ایل ڈی 2013 ایس سی 179) میاں نجیب الدین اویسی و دیگر صادق علی میمن بنام ریٹرننگ افسر و دیگر (2013 ایس سی ایم آر 1246) ، عبدالغفور لہری بنام ریٹرننگ آفسر و دیگر (2013ایس سی ایم آر 1271)، محمد خان جونیجو بنام وفاق پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون ، پارلیمانی امور ودیگر(2013 ایس سی ایم آر 1328)، جنرل (ر) پرویز مشرف بنام الیکشن کمیشن آف پاکستان و دیگر (2013 سی ایل سی 1461) ، اللہ دینو خان بھائیو بنام الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد و دیگر (2013ایس سی ایم آر 1655)، ملک عمرا سلم بنام مس سمیرا ملک و دیگر (2014ایس سی ایم آر 45)، گوہر نواز سندھو بنام میاں نواز شریف (پی ایل ڈی 2014لاہور 670) ، محمد اعجاز احمد چودھری بنام ممتاز احمد تارڑ و دیگر (2016ایس سی ایم آر 1)، محمد صدیق بلوچ بنام جہانگیر خان ترین و دیگر (پی ایل ڈی 2016 ایس سی 97) اور رائے حسن نواز بنام حاجی محمد ایوب و دیگر (پی ایل ڈی 2017ایس سی 70) ۔ نوابزادہ افتخار احمد خان بار بنام چیف الیکشن کمشنر اسلام آباد و دیگر کے مقدمہ میں عدالت نے آبزرویشن دی کہ ’’پارلیمنٹ کسی بھی ملک کا سب سے اہم ترین ادارہ ہوتا ہے جو کہ ناصرف قوانین اور پالیسیاں تشکیل دیتا ہے بلکہ درحقیقت قومی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔ ایسا شخص جسے آئینی و قانونی طور پر اس مقدس ادارے کا رکن بننے سے روکاگیا وہ حلف پر غلط بیانی کرکے اور جعلی دستاویزات بنا کر ادارے کا تقدس پامال کرتے ہوئے اس میں داخل ہو ا۔ ا سکا رویہ ناصرف ایمانداری کی بنیادی اقدار کے بارے میں سخت توہین آمیز ،خودمختاری کے خلاف ، حلف کے تقدس سمیت ایوان کے تقدس کو بھی پامال کرتا ہے۔ وہ مجرم ہو منجملہ تلبیس شخصی ، خو د کو گریجوایٹ ظاہر کرنے جو کہ وہ نہیں تھا۔ وہ مجرم ہے کیونکہ وہ جعلی دستاویزات بنانے اور غل جانتے ہوئے بھی ان کے ذریعے فوائد حاصل کرتا رہا۔ وہ دھوکہ دہی کا بھی مرتکب ہےناصرف اپنے حلقہ کے عوام کو بلکہ پوری قوم کو ۔ اسی طرح محمد رضوان گل بنام نادیہ عزیز و دیگر (پی ایل ڈی 2010ایس سی 828) میں عدالت نے آبزرویشن دی کہ ’’ ایسے ممتاز ادارے کی شفافیت اور تقدس کو قائم رکھنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 62اور63کے علاوہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کی شق 99 قرار دیتی ہے کہ ایسے افراد جو اچھے کردارکے حامل ہوں، گناہ کبیرا میں ملوث ہوں، ایماندار نہ ہوں، جنہیں جبری طور پر نوکری سے نکالا ہو، قرضے واپس نہ کیے ہوں ، الیکشن کے دوران کسی طرح کی کرپشن کی ہو، انہیں ان مقدس اداروں کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ محمد اعجاز احمد چودھری بنام ممتاز احمد تارڑ (2016ایس سی ایم آر 1) کے مقدمہ میں تعلیمی قابلیت سے متعلق غلط اقرار نامہ جمع کرانے پر عدالت نے قرار دیا کہ ’’ اپیل کنندہ آرٹیکل 62(1)(f) میں بیان کردہ تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا۔‘‘محمد صدیق بلوچ بنام جہانگیر ترین و دیگر کا کیس بھی مختلف نہیں تھا جس میں عدالت نے کچھ یوں آبزرویشن دی کہ ’’ آرٹیکل62(1)(f)کے تحت عہدے سے


برخاستگی بہت سے کیسز کو دیکھ کر ہوئی، پارلیمنٹ کی ممبرشب کے لیے آئینی مینڈیٹ کو اختیار اور نافذ کرنے کے لیے ایک رکاوٹ کے طور پرٹھوس وجوہات دی گئی ہیں۔ سب سے پہلے ، ایک ممبر کے لیے آرٹیکل 62 میں ایک کوالیفکیشن مقرر کی گئی ہے ، جس کے لیے آئینی طور پر وقت کی معیاد مقرر نہیں ہے، ایک ایسا شخص جو سچا نہ ہو ، بے ایمان ہو ، بدکردار ہو ، وہ ریاستی معاملات کی انجام دہی کا اہل نہیں ہوسکتا ۔ کردار میں ایسے نقائص ہوں تو اس شخص پر اعتبار ممکن نہیں، ٹرسٹی شپ اٹینڈنٹ کے لیے آئین کے تحت عوامی عہدہ کی انجام دہی معمول کی بات ہے چاہے وہ عہدہ قانون سازی سے متعلق ہو، ایگزیکٹو ہویا جوڈیشل ہو۔ تاہم ہمارا آئین منتخب پارلیمانی عہدے پر واضح زور دیتا ہے، آئینی معیار ہر صورت قابل عزت ہو اور اس کا نفاذ ہونا چاہیے۔ رائے حسن نواز بنام محمد ایوب و دیگر کے کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ ’’ ایک امیدوار کی طرف سے اپنے کاغذات نامزدگی میں اثاثوں اور واجبات سے متعلق ایماندرانہ اقرارنامہ بطور منتخب رکن اس کے فرائض کی انجام دہی کے لیے دیانتداری اور سچائی کا معیار قائم کرتا ہے ۔ جہاں ایک الیکشن لڑنے والے امیدوار نے اثاثے ، واجبات ، آمدنی وغیرہ کسی بھی غیر قانونی طریقے ( بے نامی، ٹرسٹی ، نامزدگی وغیرہ )کے ذریعے چھپائی ہو اور منتخب ہونے کے لیے یہ سب کیا ہو، تو الیکشن ٹربیونل اس کی تحقیقات کرے آیا کہ ROPAکے سیکشن 12 دو کے تحت اس نے یہ کام مرضی سے کیا ؟ یہ انتخاب لڑنے والے امیدوار کی امانداری جانچنے کے لیے ہے۔ سیکشن 76A بھی واضح طور پر عوامی مفاد کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امیدواروں کے شک شبے سے پاک مالی اسناد رکھتے ہوں ۔ دراصل ، راستگوئی ، سچائی وغیرہ جائز عوامی مفاد کے لیے معیار ہیں کیونکہ آئین کا آرٹیکل 62اور 63امیدوار وں کی کوالیفکیشن یہی سیٹ کرتے ہیں ۔ (35) عمران خان نیازی بنام میاں محمد نواز شریف کے کیس میں


عدالت نے کچھ یوں قرار دیا کہ مذکورہ بحث سے یہ بات عیاں ہے کہ آئین کااصل منشا اور مدعا یہ یقین دہانی کرا نا ہے کہ صرف وہی افرادانتخابی عمل میں حصہ لیں جوآئین میں دی گئی شرائط پر پورا اترتے ہوں تاکہ وہ اللہ کے نائب بن کراسکی طرف سے دئیے گئے اختیارات کو بطور امانت استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی فلاح کیلئےکام کر سکیں ۔ اس کے بعد پھرممکنہ طور پرحکومت تشکیل دے سکیں اور اس کے بعد حکومتی بندوبست کا حصہ بن کروہ گویاووٹوں


کے ذریعے منتخب کرنے والےپاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں ۔36۔اس تناظر میں جو امیدوارالیکشن کے ذریعے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا صوبائی اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں ، اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جدید جمہوری نظام کی زیادہ تر مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے یا مذکورہ دستوری فریم ورک میں رہتے ہوئے وہ سیاسی پارٹیوں کاحصہ بن جاتے ہیں ۔یہ سیاسی پارٹیاں قانون کے مطابق منظم اور ریگولیٹ ہوتی ہیں اور اپنے امیدوار اس امید کے ساتھ میدان میں اتارتی ہیں کہ وہ جیت جائیں گے اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرکےحکومت کی تشکیل کریں گے۔اس حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں وہ گاڑیاں ہیں جوالیکشن لڑنے والوں کومقننہ تک پہنچانے کا روڈ میپ فراہم کرتی ہیں اور پھراسےپارلیمنٹ اوراسمبلیوں میں اکثریتی پارٹی کی طرف سے تشکیل دی گئی حکومت کا حصہ بنانے کا موقع دیتی ہیں۔


)جاری ہے(

تازہ ترین