• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کپڑے، جوتے اور لائف سٹائل: فلم اور فیشن کا سنگم شوبز کا حُسن ہے

کپڑے، جوتے اور لائف سٹائل: فلم اور فیشن کا سنگم شوبز کا حُسن ہے

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران شوبز کی جس صنف نے خاص طور پر ترقی کی ہے وہ فیشن انڈسٹری ہے۔ پاکستان میں فیشن انڈسٹری کی ترقی کا تعلق ملک کی سب سے اہم صنعت ٹیکسٹائل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ مہیا کرتی ہے۔

 فیشن کی انڈسٹری کی ترقی کی وجہ سے ٹیکسٹائل صنعت کو اپنی پراڈکٹس میں ویلیو ایڈیشن کا موقع ملا ہے۔ اس وجہ سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔ اس اضافے کی وجہ سے ملکی برآمدات کا حجم بھی پہلے کی نسبت زیادہ ہوگیا ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کی ترقی نے فیشن کی صنعت کو مزید ترقی دی ہے۔ 

فیشن کی صنعت اپنے اندر کئی جہتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ آج کے سرمایہ درانہ نظام میں فیشن انڈسٹری لائف سٹائل کے ان رجحانات کو پروان چڑھنے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فیشن انڈسٹری میں کپڑے، جوتے، میک اپ، ہیئر اسٹائل اور اسیسریز کے علاوہ دیگر کئی اشیاء اور لوازمات شامل ہیں۔ فیشن انڈسٹری کا گہرا تعلق اشتہارات کی صنعت سے بھی ہے۔ اس انڈسٹری کا ایک اہم رشتہ ٹی وی، فلم اور تھیٹر سے بھی قائم ہے۔

فیشن انڈسٹری کی ترقی نے ایونٹ مینجمنٹ کی صنعت کو بھی ترقی دی ہے۔ فیشن انڈسٹری جن اشیاء کو تیار کرتی ہے ان کی تشہیر کے لیے اس کو عوام میں مقبول چہروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی ضرورت کو فلم اور ٹی وی کے سٹارز پورا کرتے ہیں۔ فلم اور ٹی وی کے فنکاروں کی زندگی میں فیشن انڈسٹری اہم ترین حصہ بن چکی ہے۔

علاوہ ازیں میوزک اور سپورٹس کی دنیا کے سٹارز بھی فیشن انڈسٹری کا لازمی جزو ہیں۔ فیشن انڈسٹری محض دکھاوے یا چکاچوند سے مزین دنیا کا نام نہیں ہے بلکہ فیشن کی دنیا میں تیار کردہ اشیاء انسانی زندگی کا لازمی جزو ہیں۔

فیشن کی دنیا انسانی زندگی کو رنگین اور حسین بناتی ہے۔ آج فیشن کی صنعت جس مقام پر کھڑی ہے وہاں تک رسائی حاصل کرنے کے بعد اس میں نام اور مقام بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ فیشن کی دنیا سخت محنت، تخلیقی صلاحیتوں اور نیٹ ورکنگ کی اعلیٰ درجے کی سکلز کا تقاضا کرتی ہے۔

پاکستان میں فیشن انڈسٹری نے موجودہ مقام خاصی محنت اور صبر آزما سفر طے کرنے کے بعد حاصل کیا ہے۔ آج اس انڈسٹری سے منسلک ہونا نہ صرف معاشی لحاظ سے فائدہ مند ہے بلکہ ایک اعزاز اور مقبولیت کی بات بھی ہے۔ پاکستان میں ٹی وی اور اشتہارات کی صنعتوں کی ترقی نے فیشن انڈسٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹی وی فیشن انڈسٹری سے وابستہ افراد اور ان کی تیار کردہ مصنوعات کی تشہیر کرنے کے لیے اہم ترین میڈیم بن چکا ہے۔ 

علاوہ ازیں فلم کا فیشن کی صنعت سے ہر دور میں گہرا تعلق رہا ہے۔ ٹی وی چینلز مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے فیشن شوز اور فیشن ویک کو عوام تک پہنچانے کے لیے خصوصی کوریج کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ آج فیشن انڈسٹری سے وابستہ افراد اپنی ذاتی پہچان رکھتے ہیں۔ فیشن انڈسٹری اور شوبز سے تعلق رکھنے والی دوسری اصناف کا تعلق وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

اس وقت ملک میں فیشن کے فروغ کے لیے کئی تنظیمیں، ادارے اور افراد سرگرم ہیں۔ پچھلے کئی برسوں سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں سالانہ فیشن ویک کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ فیشن ویک بہت دلچسپ ایونٹس ہوتے ہیں۔ ان ایونٹس کی تیاری میں فیشن ڈیزائنرز، ایونٹ مینجمنٹ کمپنیاں، فیشن ماڈلز، ٹی وی چینلز اور شوبز سے وابستہ دیگر افراد مہینوں تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ فیشن ویک اہم سماجی تقریبات کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

ان ایونٹس میں شوبز کی صنعت سے وابستہ افراد کے علاوہ، سیاسی، سماجی اور علمی حلقوں کے سرکردہ اور نمائندہ افراد بھی شرکت کرتے ہیں۔ پاکستان میں فیشن انڈسٹری کے فروغ سے پاکستانی ثقافت کے فروغ کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ پاکستانی فیشن ڈیزائنرز نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستانی ثقافت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کر سکتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا خاص طور پر جیو ٹی وی نیٹ ورک نے اس ضمن میں بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔

فیشن انڈسٹری کے فروغ نے شوبز کے دوسرے شعبہ جات کی ترقی میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ فیشن انڈسٹری ٹی وی، فلم اور ایڈورٹائزنگ کے شعبہ جات کے لیے نرسری کا کردار ادا کر رہی ہے۔ فیشن واک یا ماڈلنگ ایک سپیشلائزڈ کام ہے۔ اس میں کامیابی کےلیے ظاہری خوبصورتی کے علاوہ اداکاری اور ماڈلنگ کی صلاحیتوں کی موجودگی بھی لازمی ہے۔

مختلف ماڈلز جب برانڈز کے سفیر بن جاتے ہیں تو ان برانڈز کی تشہیر کے لیے تقاریر اور پبلک ایونٹس میں شرکت بھی کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے ماڈلنگ کی صنعت میں پڑھا لکھا ہونا بھی لازمی تصور کیا جانے لگا ہے۔

فلم چونکہ شوبز کے سر کا تاج ہے۔ اس لیے زیادہ تر کامیاب ماڈلز کی حقیقی منزل فلم کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنا تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت میں بھی حالیہ برسوں میں ماڈلنگ کی صنعت سے کئی فنکار اپنی قسمت آزمانے فلمی دنیا میں آئے۔ ان میں مہرین سعید اور آمنہ الیاس کے نام سب سے نمایاں ہیں۔ ماڈلنگ سے فلم کی دنیا اور فلم کی دنیا سے ماڈلنگ میں قسمت آزمائی کرنا شوبز کا لازمی حصہ مانا جاتا ہے۔

پاکستان کے قریباً تمام فلمی ستارے ریمپ کی شان میں اضافہ کر چکے ہیں۔ ان میں ریما، ریشم، نور، میرا، ثناء، ماہرہ خان، عروہ حسین اور دیگر کئی نام شامل ہیں۔ مرد فنکار بھی اس دوڑ میں خواتین سے کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ معمر رانا، ریمبو، سعود، فہد مصطفی، فواد خان اور دیگر فلمی ہیرو بھی مختلف فیشن ویکس میں مختلف برانڈز کی پروموشن کر چکے ہیں۔

فلم اور ٹی وی کے فنکاروں کو فیشن ویک میں مدعو کرنا اور ریمپ پر ان کا واک کرنا ڈیزائنرز کی مجبوری بھی ہوتی ہے۔ فلم اور ٹی وی کے سٹارز کی شمولیت سے ان ایونٹس کی رنگینی مزید بڑھ جاتی ہے اور فیشن برانڈز کے علاوہ دوسرے مختلف برانڈز ان ایونٹس کی پروموشن میں مزید دلچسپی لیتے ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ فیشن اور فلم شوبز کا حسین ترین سنگم ہے تو بےجا نہ ہو گا۔

یہ رجحان لولی وڈ کے علاوہ بولی وڈ اور ہالی وڈ میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ فیشن ویک میں کرکٹ کے کھلاڑی بھی خاص دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انڈیا میں ویرات کوہلی اور ایم ایس دھونی کئی مرتبہ فیشن پریڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان میں شعیب ملک، احمد شہزاد اور وسیم اکرم اس لیگ میں شامل ہیں۔

فیشن انڈسٹری کی ترقی کی وجہ سے کئی سٹارز نے اپنے فیشن برانڈز کا آغاز بھی کیا ہے جبکہ کئی اداکار اور اداکارائیں اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ فلم سے وابستہ فنکار ہمیشہ سے ہی فیشن آئیکون تصور کیے جاتے ہیں۔ شائقین اپنے پسندیدہ فنکاروں کے کپڑوں، جوتوں، میک اپ اور ہئیر اسٹائل کو کاپی کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔

تازہ ترین