آپ آف لائن ہیں
پیر2؍ذیقعدہ 1439ھ 16؍جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’سائیکلنگ‘‘ خواتین کے لئے ایک صحت مند ایکٹویٹی

وطن عزیز کی خواتین مختلف کارناموں کی بدولت ملک کا نام روشن کررہی ہیں۔ کہیںمعیشت کے لئے ان کا وجودناگزیرتو کہیں دنیا بھر کی قوموں کی ترقی ان کی کامیابی سے منسلک کی جانے لگی ۔ ایسے میں ان کی صحت وتندرستی کی حفاظت اور خیال کا ذمہ مزید دوگناہوجاتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جہاں خواتین گھر بھر کی صحت کا خیال رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیںوہیں اپنی صحت اور خوبصورتی کی حفاطت کے لئے بھی ہزار جتن کرتی نظر آتی ہیں ۔ 

اگر بات ہورہی ہےصنف نازک کی صحت کی توخواتین میں بڑھتا سائیکلنگ کا رجحان بھی ایک ہیلتھی ایکٹویٹی میں ہی شمار کیا جاتاہے ۔ ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لئے صحت مند جسم اور دماغ کا ہونا ضروری ہے۔دماغ کا صحت مند ہونا اس لئے ضروری ہے کہ بعض جگہ طاقت نہیں عقل اورٹیکنیک استعمال کرنا پڑتی ہےجبکہ طاقت کا مظاہرہ کرتے وقت نہ صرف ہاتھ پاؤںبلکہ پورا جسم حرکت میں آتا ہے اور عقل کا استعمال کرتے وقت صرف ذہن لڑانا پڑتا ہے۔ 

ماہرین سائیکلنگ کو بہترین جسمانی ورزش کے طور پر تسلیم کرتے ہیںجو اچھی صحت یقینی بنانے کے ساتھ ہر عمر کے افراد کے لئے ضروری ہے۔خواتین میں سائیکلنگ کا شوق نہ صرف انھیں ٹرانسپورٹ کے مسائل سے بچاتا ہے بلکہ ان کی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتا ہے جو سائیکلنگ کے فوائد میں شمار کی جاتی ہیں۔

دل کی بیماری ،اسٹروک اور ذیابطیس کے خطرات میں کمی

برٹش فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ’’فزیکل ان ایکٹویٹی،، نامی تازہ رپورٹ میں حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ نوجوانوں میں شدت پسندی کا رجحان کم کرنے کے لئے ہفتہ میں کم ازکم پانچ دن (تیس منٹ کے لئے) جسمانی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جسمانی نقل وحرکت کے ذریعے خواتین کو 20 % امراض سے بچائو مگر میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں تاہم سائیکلنگ کا عمل مختلف بیماریوں کے علاج اور ان کے خلاف تحفظ کے حوالے سے بنیادی کردار ادا کرتاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کم از کم تیس منٹ سائیکل چلانے سے انسان ہارٹ اٹیک سے محفوظ رہتا ہے۔ساتھ ہی سائیکلنگ کے ذریعےخواتین میں کینسراور ذیابیطس جیسی خطرناک بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ سائیکل خواتین کے لئے ایک بہترین ایکسرسائز ہے۔ سائیکلنگ کو کارڈیو ایکسرسائز اس لئے کہا جاتاہے کہ اسکی مدد سے جسم کی چربی گھل جاتی ہے ،انسان بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

موٹاپے میں کمی

خواتین وزن میں کمی کے لئے ہزار جتن کرتی نظر آتی ہیں لیکن جن خواتین کو سائیکلنگ کا شوق ہو وہ وزن میںکمی بآسانی اس شوق کے ذریعے کمی لاسکتی ہیں کیونکہ سائیکلنگ وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کیلئے بہترین ورزش ہے۔یہ ورزش جسم میں موجود زائد کیلوریزکو جلانے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔یہ انسان کے خون کی وریدوں میں چربی کو جمع ہونے سے روکتا ہے۔ جس کے ذریعے کولیسٹرول کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔بائیسکل چلانے سے پورے جسم میں خون کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے جبکہ انسان جسمانی طور پر زیادہ فٹ بھی رہتا ہے۔ایوری ڈے ہیلتھ میں شائع کئے گئے ایک مضمون کے مطابق فی گھنٹہ سائیکل چلانا 300زائدکیلوریز جلانے میں مدد دیتا ہے۔

جوڑوں کے درد سے نجات اور پٹھوں کی مضبوطی

نیویارک میںقائم وویمن میڈیکل اسپورٹس سینٹر کی میڈیکل ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سائیکلنگ خواتین کو جوڑوں کے درد ،پاؤں کے مسائل،کمر درد ، جیسے مسائل سے نجات دلانے میں بھی مددگار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو خواتین اپنے جسم کے پٹھوں کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں کہ انہیںچاہئیے کہ سائیکل چلائیںکیونکہ سائیکل باڈی بلڈنگ اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں انتہائی مفید ہے۔

سماجی تعلقات بڑھانے میں مددگار

سائیکلنگ کا شوق سماجی تعلقات بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ سائیکلنگ کو ایک سماجی سرگرمی کہا جاتا ہے جو خواتین کی ذہنی صحت پر بھی مفید اثرات مرتب کرتا ہے۔سائیکلنگ کا شوق رکھنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ سائیکلنگ کا شوق نئے دوست بنانے میں مدد دیتا ہے۔ سفر کے دوران روزنہ ان لوگوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے جو سماجی حلقوں میں نہیںآتے ۔

خواتین میں خود اعتمادی کا ذریعہ

سائیکلنگ کا شوق نہ صرف خواتین کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ ان میں اعتماد پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔2015میں جرنل آف پرسنالٹی اینڈ سائیکلوجی کی جانب سے 48ملکوں میں کرائے گئے سروے نتائج کے مطابق خواتین میں مردوں کے مقابلے میں اعتماد کم پایا جاتا ہے جس کی شرح میں گزشتہ برسوں کمی دیکھنے میں آئی ۔تاہم حالیہ برسوںمیں نئے چیلنجز کا سامنا اور سائیکلنگ بائیکنگ کا شوق اور میلوں دور اکیلے سفرتمام عمر کی خواتین کے اعتماد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

وقت اور ایندھن کی بچت

ملک کے چھوٹے شہروںاورقصبوں میں بچیاں اسکول جانے کے لئے سائیکل کا استعمال کرنے لگی ہیں اور مختلف مقامی این جی اوز کی جانب سے بچوں میں اس شوق اور اس ہیلتھی ایکٹویٹی تکمیل کی خاطر سائیکل مفت تقسیم کی گئی ہیںکیونکہ سائیکلنگ نہ صرف اچھی ورزش بلکہ اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کا سستااورآسان ذریعہ بھی ہے، پہلے پہل نوجوانوں میں بھی موٹر سائیکل سے زیادہ بائیسکل کوترجیح دی جاتی تھی کیونکہ بائیسکل چلانے والوں کی نہ صرف اچھی ورزش ہوجاتی ہے بلکہ وہ اپنی منزل تک بھی باآسانی پہنچ جاتے ہیں۔

سائیکلنگ سے نہ صرف پٹرول کا خرچ بچتا ہے بلکہ ماحول کو آلودگی اوردھویںسے بچانے میں بھی مدد ملتی ہے اور روزانہ سفر کر نے والے لاکھوں اور بچوں کو مضر اثرات سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں