• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

اقبال بانو کا گانا سنتے ہی اُستاد چاند خاں نے کیا کہا؟

’’اقبال بانو‘‘ سنجیدہ موسیقی کا روشن باب

اکیس اپریل 2009 یہ وہ دن ہے جس روز ہمیں ایک مایہ ناز مغنیہ کے انتقال کی خبر ملی۔ وہ مغنیہ کوئی اور نہیں اقبال بانو تھیں…اقبال بانو نے تعلیم یافتہ اور سنجیدہ موسیقی سننے والے سامعین کو اپنی خوب صورت آواز کے ذریعے بے حد متاثر کیا اور اپنا گرویدہ بنا لیا۔ وہ ٹھمری، غزل، نظم، سرائیکی کافی اور پنجابی گیت یکساں مہارت سے گاتی تھی۔


پاکستان کی صف اول کی یہ گلوکارہ1935 میں روہتک میں پیداہوئیں۔ پاکستان بننے کے بعد لاہور آئیں اور بعد میں ملتان آکر مستقل سکونت اختیار کی۔

اقبال بانو کی والدہ کو پہلے تو بیٹی کے گانے پر اعتراض ہوا مگر ان کے شوق کے سامنے انہوں نے ہار مان لی اور گانا سیکھنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد جب استاد چاند خان صاحب نے ان کا گانا سنا تو کہا کہ اس لڑکی کو تو میں اپنا شاگرد بناؤں گا اور اس طرح سے وہ موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے لگیں۔انہوں نے دہلی گھرانے کے استاد چاندخان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی تھی۔استاد چاند خان کی شاگردی میں آنے کے بعد ان کے اندر اور زیادہ شوق پیدا ہوا اور وہ محنت سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے لگیں۔

اقبال بانو کا خاندان جب ملتان منتقل ہو گیا توانہوں نے لاہور ریڈیو سٹیشن سے گانے کا سلسلہ جاری رکھا اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھی۔ اسی دوران انہیں فلموں میں گانے کی پیشکش بھی ہوئی۔ فلم کے لئے ان کا سب سے پہلا گانا ’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے‘ تھا۔

شاہنور سٹوڈیو میں ’گمنام‘ فلم کا مہورت اسی گانے سے ہوا اور پہلا گانا ایک ہی ٹیک میں اوکے ہو گیا۔ اس کے بعد نورجہاں ان کے لئے مٹھائی لے کر آئیں اور کہنے لگیں کہ تم بہت نام پیدا کرو گی۔

اقبال بانو کے فن نے برسوں پہلے آل انڈیا ریڈیو کے دہلی سٹیشن میں پہلا اظہار پایا۔ 1952 میں اس نو عمر گلوکارہ نے ایک پاکستانی زمیندار سے شادی کر لی لیکن فن سے اپنا رابطہ ختم نہ کیا۔فلموں کے لیے شہر آفاق نغمے گائے جس میں خصوصی طور پر یہ دو نغمے بہت زیادہ مشہور ہوئے۔

’’اقبال بانو‘‘ سنجیدہ موسیقی کا روشن باب

پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے

تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے

تو پیا سے مل کر آئی ہے

بس آج سے نیند پرائی ہے

اور پھر

الفت کی نئی منزل کو چلا تو باہیں ڈال کے باہوں میں

دِل توڑنے والے دیکھ کے چل

ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

پچاس کے عشرے میں اقبال بانو نے پاکستان کی نو زائیدہ فلم انڈسٹری میں ایک پلے بیک سنگر کے طور پر اپنی جگہ بنالی تھی لیکن ان کا طبعی رجحان ہلکی پھلکی موسیقی کی بجائے نیم کلاسیکی گلوکاری کی طرف رہا۔ ٹھمری اور دادرے کے ساتھ ساتھ انھوں نے غزل کو بھی اپنے مخصوص نیم کلاسیکی انداز میں گایا۔دور ضیاالحق کے آخری دِنوں میں فیض احمد فیض کی نظم

’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘

ان کا ٹریڈ مارک بن چکی تھی اور ہر محفل میں اسکی فرمائش کی جاتی تھی۔ یہ سلسلہ انکی وفات سے چند برس پہلے تک جاری رہا۔ فیض میلے کے موقع پر لاہور میں ایک بڑے اجتماع کے سامنے انھوں نے یہ نظم گائی توعوام کے پر شور نعرے بھی اس نغمے کا ایک ابدی حصّہ بن گئے۔موسیقی کے کچھ پنڈتوں کا خیال تھا کہ اقبال بانو اور بیگم اختر کے گانے میں کافی مماثلت تھی۔اقبال بانو بیگم اختر کو بہت پسند کرتی تھیں۔غزلوں کی ادائیگی، اسے کہاں توڑنا چاہیے، کم سے کم سازوں کا استعمال، یہ فن بیگم اختر کے بعد کسی میں تھا تو اقبال بانو میں تھا، وہ خیال سیکھے ہوئے تھیں اور اسی انداز میں گاتی تھیں۔

’’گمنام‘‘،’’ قاتل‘‘، ’’انتقام‘‘،’’ سرفروش‘‘، ’’عشقِ لیلیٰ‘‘، اور ’’ناگن‘‘ میں ان کے پس پردہ گیت اور غزلیں پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک اہم سنگ میل تصور کی جاتی ہیں۔خصوصاً باقی صدیقی کی غزل

داغ دل ہم کویاد آنے لگے

لوگ اپنے دیے جلانے لگے

نے پاکستان کیساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی انتہائی مقبولیت حاصل کی۔لیکن ان کا طبعی رجحان ہلکی پھلکی موسیقی کی بجائے نیم کلاسیکی گلوکاری کی طرف رہا۔ٹھمری اور دادرے کے ساتھ ساتھ انھوں نے غزل کو بھی اپنے مخصوص نیم کلاسیکی انداز میں گایا۔فیض احمد فیض کے کلام کو گانے کے حوالے سے مہدی حسن کے بعد سب سے اہم نام اقبال بانو کا ہے۔اقبال بانو نے یوں تو ہر طرح کے گیت گائے لیکن انہیں شہرت غزلیں اور نظموں کی شاندار گائیکی سے ملی۔وہ نہ صرف لفظوں کو ان کی بھرپور معنویت کے ساتھ ادا کرتی تھیں بلکہ ان کے اندر رچی موسیقیت سے بھی بخوبی واقف تھیں۔

اردو کے علاوہ انھوں نے فارسی غزلیں بھی گائیں جو کہ ایران اور افغانستان میں بہت مقبول ہوئیں۔انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے 1990 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

جس طرح کندن لال سہگل کے طرزِغزل گائیکی کو حبیب ولی محمد جیسے فنکاروں نے آگے بڑھایا، جس طرح طلعت محمود کے غزل گانے کے اسلوب کو مہدی حسن اور مہدی حسن کے انداز کو انفرادیت کے ساتھ جگجیت سنگھ نے پروان چڑھایا، اسی طرح بیگم اختر کے نام سے مشہور اختری بائی فیض آبادی کے انداز کو اقبال بانو اور فریدہ خانم جیسے گلوکار آگے لے کر چلے۔ ان میں جدید ترین نام نیرہ نور کا ہے۔

’’اقبال بانو‘‘ سنجیدہ موسیقی کا روشن باب

اپنے دور کی ایک اور کامیاب فلم ’’عشق لیلیٰ‘‘ میں اقبال بانو کی گائی ہوئی یہ غزل بھی بے حد مقبول ہوئی

پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائو

سکوتِ مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جائو

فلم ’’عشق لیلیٰ‘‘ہی کا یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا

اک ہلکی ہلکی آہٹ ہے

اک مہکا مہکا سایہ ہے

فلم ’’عشق لیلیٰ‘‘ کی موسیقی موسیقار صفدر حسین نے مرتب کی تھی۔

ان کی گائی ہوئی یہ غزل بھی بہت مشہور ہوئی

محبت کر نے والے کم نہ ہو ں گے

تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہو ں گے

فیض احمد فیض کی فرمائش پر اقبال بانو نے ان کی یہ غزل گائی جو بے حد مقبول ہوئی۔

دشت تنہا ئی میں اے جان جہا ں لر زاں ہیں

تیر ی آواز کے سائے تیرے ہو نٹوں کے سراب

دشت تنہا ئی میں دوری کے خس و خاشاک تلے

کھل رہے ہیں تیرے پہلو کے سمن اور گلاب

اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تیری سانس کی آنچ

اپنی خوشبو میں سلگتے ہو ئے مدھم مدھم

دور افق پار چمکتی ہو ئی قطرہ قطرہ

کھل رہی ہے تیری دلدار نظر کی شبنم

جب ان کے انتقال کی خبر پھیلی تو تمام لوگ گہری نیند سے جاگ اٹھے۔ لوگوں کو یاد آیا کہ اقبال بانو بھی تھیں جو اب نہیں رہیں۔

بھارت میں اقبال بانو کو نوشاد ایوارڈ، سر منی ایوارڈ اور نٹ راج ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ حکومت پاکستان نے اقبال بانو کوستارہ امتیاز بھی عطا کیا تھا۔اقبال بانو کا فن پاکستان کے لیے یقیناً قابل فخر ہے۔ انھوں نے موسیقی کی ہر صنف میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔ بالخصوص غزل گاتے ہوئے انھوں نے صحتِ لفظی کا پورا پورا خیال رکھا ان کاخلا کبھی پرنہیں ہوسکتا۔

تازہ ترین
تازہ ترین