آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
باسکٹ بال

باسکٹ بال، فٹ بال اور والی بال کی طرز کا کھیل ہے لیکن یہ مذکورہ کھیلوں کی طرح کھلے میدانوں میں نہیں کھیلا جاتا بلکہ یہ انڈور گیم ہے جو 94فٹ طویل اور50فٹ چوڑے مستطیل کورٹ میں کھیلتے ہیں۔ جس کے دونوں سرے پر زمین سے10فٹ کی بلندی پر 10انچ کے قطر اور 18انچ کی گہرائی والی دو جالی دار باسکٹ ایک بڑے ہک میں لٹکی ہوتی ہیں جن کے اندر کھلاڑیوں کو گیند ڈالنا پڑتی ہے جس پر انہیں پوائنٹس ملتے ہیں۔یہ کھیل دو ہاف پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ہاف کا دورانیہ 20منٹ کا ہوتا ہے۔ 

ہر ٹیم پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے ، جس کے ساتھ کوچ، اسسٹنٹ کوچ، منیجر، ڈاکٹر اور ٹرینرز ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں، جو کورٹ سے باہر بیٹھ کر اپنے فرائض کی انجام دہی کرتے ہیں۔ میچ آفیشلز میںدو ایمپائر، ریفری، ٹائم کیپر اور اسکورر ہوتے ہیں۔اس کھیل کے طویل قامت اور توانا کھلاڑ ی کو فارورڈ کے طور پر کھلایا جاتا ہے، جب کہ مختصر قامت اور پھرتیلے کھلاڑی کو ’’ اسمال فارورڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔میچ کا فیصلہ پوائنٹس کی بنیاد پر ہوتا ہےلیکن اگر وقت ختم ہونے تک دونوں ٹیموں کے پوائنٹس برابر رہیں تو پانچ منٹ کا فاضل وقت دیا جاتا ہے۔

1891ء میں اسے کینیڈا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر جیمس نائے اسمتھ نے جو انٹرنیشنل ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن ٹریننگ اسکول میاچوسٹس (جو اب اسپرنگ فیلڈ کالج ہے) فزیکل انسٹرکٹر تھے، ایجاد کیا تھا۔ انہیں طلباء کی فٹنس اور جمنازیم کی تربیت کے لیے برسات اور موسم سرما میں برف باری کے دوران مشکلات کا سامنا رہتا تھا، ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کے اسکول میں جمنازیم کی کلاسز خراب موسمی حالات میں بھی جاری رہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایسے انڈور گیم کے بارے میں غوروخوض شروع کیا جو ’’نیو انگلینڈ‘‘ میں پڑنے والی سردیوں کے طویل موسم میں بھی کھیلا جاسکے اور جسے کھیل کر ان کے لڑکے چاق چوبند اور توانا رہ سکیں۔ 

اس دوران ان کے ذہن میں کئی کھیلوں کے خاکے ابھرے لیکن انہیں فٹ بال کی طرز کا کھیل پسند آیا جو چھت کے نیچے کھیلا جاسکتا ہو، انہوں نے آڑو کی ٹوکری کو10فٹ کی بلندی پر لٹکا کر اس میں دوڑتے ہوئے فٹ بال کی گیند ڈالنے کا تجربہ کیا۔ اس کے بعد 25فٹ طویل اور 20فٹ کشادہ کمرے کے دونوں سروں پر مذکورہ باسکٹ لٹکانے کے بعد پانچ پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیمیں بنائیں اور اسے کھیلنے کیلئے 20سے22اونس وزنی گیند کا استعمال کیا گیا۔ ایک سال تک یہ کھیل بے نام رہا۔ 1892ء میں کرسمس کی چھٹیوں کے دوران ان کا ایک شاگرد فرینک ماہن ان سے ملاقات کے لیے آیا۔ 

باسکٹ بال

دوران گفتگو اس نے نائے اسمتھ سے کہا کہ آپ نے ایک منفرد کھیل تو ایجاد کرلیا ہے لیکن کیا اس کا نام بھی طے کیا ہے؟ نائے اسمتھ نے جواب دیا کہ ابھی اس بارے میںنہیں سوچا ہے، کیونکہ فی الوقت میری توجہ باقاعدہ طور سے اسے ایسےکھیل کی شکل دینے پر مرکوز ہے، جسے دنیا بھرمیں پسند کیا جائے۔ ماہن نے اس موقع پر انہیں تجویز دی کہ اس کھیل کا نام اپنے نام کی نسبت سے ’’نائے اسمتھ بال‘‘ رکھ دیں۔ نائے اسمتھ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ، تمہارے تجویز کئے ہوئے نام سے تو یہ کھیل اپنی موت آپ مر جائے گا۔ 

اس پر ماہن نے کہا کہ، آڑو کی باسکٹ کی مناسبت سے اس کھیل کو’’ باسکٹ بال ‘‘کیوں نہ کہا جائے؟ نائے اسمتھ نے اس نام کو پسند کیا اور کہا کہ اس کھیل میں باسکٹ اور گیند کا استعمال ہوتا ہے، اس لئے ’’باسکٹ بال‘‘ اچھا نام ہے۔بعد ازاں نائے اسمتھ نے کھیل کے قواعد و ضوابط مرتب کئےاور جنوری 1892ء میں وائی ایم سی اے جمنازیم البانی نیویارک میں سرکاری سطح پر اس کا پہلا مقابلہ کرایا جس میں9کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس میچ کا اختتام 1-0 پوائنٹس پر ہوا۔کھیل کا حتمی شاٹ 25فٹ کے فاصلے سے مارا گیا جو سیدھا ٹوکری میں جاکر گرا ۔ 

اُس زمانے میں جو فٹ بال کھیلی جاتی تھی، اس میں ایک ٹیم10فٹ بالرز پر مشتمل ہوتی تھی جب کہ آج کل یہ تعداد 11کھلاڑیوں کی ہے۔ سردیوں کے موسم میں جب برف باری ہوتی تھی، فٹ بال کھیلنا دشوار ہوجاتا تھا تو فٹ بالر کسی بڑے ہال میں باسکٹ لگا کر پانچ پانچ کھلاڑیوں کی ٹیمیں بنا کر باسکٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ 1897-98ء تک باسکٹ بال میں ایک ٹیم میں کھلاڑیوں کی تعداد پانچ رہی۔

باسکٹ بال

1906ء میں اس میں جدت کی گئی اور آڑو کی ٹوکری کی جگہ دھات کے گھیرے نے لے لی جس میں ٹوکری کی صورت میں ڈوریوں سے جال بنایا گیا تھا لیکن ٹوکری کا پیندا بند ہوتا تھا، جس کی وجہ سے شوٹر کی جانب سے گیند باسکٹ میں ڈال کر پوائنٹ حاصل کرنے کے بعد میچ جاری رکھنے کے لیے گیند کی ضرورت ہوتی تھی، جسے نکالنے کے لیے چھڑی کا استعمال کیا جاتا تھا، اس عمل کے دوران کھیل روک کر ٹائم آؤٹ لینا پڑتا تھا، جس سے وقت کا زیاں ہوتا تھا۔ نئی باسکٹ میں سے پیندے کو نکال دیا گیا ،اب گیند باسکٹ میں جانے کے بعد خلاء سے نیچے گرتی ہے۔

مذکورہ باسکٹ کورٹ کی بالکنی کے چھجے سے میخوں کے ساتھ جڑی ہوتی تھی لیکن بالکنی میں بیٹھے تماشائی کھلاڑیوں کی جانب سے گیند کوجال میں پھینکنے کے دوران مداخلت کرتے تھے اور ہاتھ مار کرگیند کو باسکٹ میں جانے سے روک دیتے تھے جس کی وجہ سے مذکورہ ٹیم کا ایک پوائنٹ ضائع ہوجاتا تھا۔ اس کے تدارک کے لیے باسکٹ کے چھجے کے پیچھے ایک تختہ لگایا جانے لگا جس کی وجہ سے نہ صرف تماشائیوں کی مداخلت ختم ہوگئی بلکہ اب کھلاڑیوں کی جانب سے پھینکی جانے والی گیند تختے سے ٹکرا کر ’’ری بائونڈ‘‘ ہوکر باسکٹ میں گرتی ہے۔اس کھیل میں ایک ٹیم کے کھلاڑی بال ہینڈلنگ، شوٹنگ، پاسنگ اور ڈنکنگ کرتے ہوئے مخالف ٹیم کے ہاف میں داخل ہوکر اس کے جال کی جانب جاتے ہیں۔ اس دوران دفاعی کھلاڑی ان سے گیند چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

ایک کھلاڑی کو گیند ہاتھ میں رکھنے کیلئے پانچ سیکنڈ کا وقت دیا جاتا ہے اس کے بعد یہ فائول قرار پاتا ہے۔میچ کے دوران گیند کو باؤنسنگ کے وقت کک مارنے، دفاعی کھلاڑی کی جانب سے حملہ آور ٹیم کے کھلاڑی کو دھکا دینے کی ممانعت ہوتی ہے اور کھیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق اس عمل کو فاؤل قرار دیا جاتا ہے۔پانچ مرتبہ مسلسل فاؤل کرنے والے کھلاڑی کو میچ سے باہر کرکے دوسرے کھلاڑی کو میچ میں شامل کیا جاتا ہے۔

مینز باسکٹ بال کو پہلی مرتبہ 1936ء میں برلن میں منعقد ہونے والے سمر اولمپک میں شامل کیا گیا ،حالانکہ اس سلسلے کے ایک نمائشی میچ کا انعقاد 1904ء میں ہوچکا تھا۔ اولمپک مقابلوں میں زیادہ تر امریکا کی حکمرانی قائم رہی۔ 1972ء میں امریکا اور روس کے درمیان فائنل مقابلہ اتنا متنازع رہا کہ تین مرتبہ اس کا فائنل میچ کھیلا گیا ۔حتمی مقابلے میں روس ،امریکا کو شکست دے کراولمپک چیمپئن بنا۔

باسکٹ بال جو1892 میں امریکا میں شروع ہوا تھا، امریکی فوجیوں کی بر صغیر میں آمد کے بعداس خطے میں متعارف ہوا اور جلد ہی یہ کراچی اور لاہور میں مقبول ہوگیا ۔ امریکی کھلاڑیوں نےکراچی ایمیچر باسکٹ بال ایسوسی ایشن قائم کی اوراس کے زیراہتمام باسکٹ بال کے مقابلوں کا انعقاد ہونے لگا۔ 1906ء میں کراچی اور لاہور کے بعد گورڈن کالج راولپنڈی میں بھی مقبول ہوگیا۔ وائی ایم سی اے کراچی کی باسکٹ بال کورٹ میں 1910ء میں پہلی آل انڈیا باسکٹ بال چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا جو 1930ء تک ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتی رہی۔ 1920ء میں اس نے یونیورسٹی کی سطح پر باقاعدہ کھیل کا درجہ حاصل کرلیا۔ 

1930ء میں پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن نے اولمپک مقابلوں میں شامل کرلیا اور 1934ء میں پہلی مرتبہ اس کھیل کو دہلی اولمپکس گیمز میں متعارف کرایا گیا۔ 1936ء میں باسکٹ بال کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نےتسلیم کرلیا اور اسے برلن میں منعقد ہونے والی عالمی اولمپک چیمپئن شپ میں شامل کیا گیا۔ فروری 1952ء میں پاکستان ایمیچر باسکٹ بال فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔ 1953ء میں اس کا الحاق انٹرنیشنل باسکٹ بال فیڈریشن سے ہوگیا۔ اس وقت پاکستان سمیت دنیا کی100باسکٹ بال ایسوسی ایشنز انٹرنیشنل باسکٹ بال فیڈریشن کی اراکین ہیں۔ فیبا باسکٹ بال ورلڈ کپ اور مینز اولمپک باسکٹ بال ٹورنامنٹ اس کھیل کے بڑے ٹورنامنٹس ہیں، جن میں دنیا بھر کی قومی سطح کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں،جب کہ امریکا کی نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کے زیراہتمام پروفیشنل نیشنل لیگ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 

اس میں کوالیفائی کرنے والی امریکا کی ٹیمیں کائونٹی نیشنل چیمپئن شپ کے مقابلوں میں شرکت کرتی ہیں جن میں یورو لیگ اور فیبا امریکا قابل ذکر ہیں۔1950ء میں مینز باسکٹ بال کی پہلی’’ فیبا ورلڈ چیمپئن شپ‘‘ ارجنٹائن میں منعقد ہوئی، جس کے بعداس کا نام’’ فیبا باسکٹ بال ورلڈ کپ‘‘ رکھ دیا گیا۔2000ء کی دہائی کے اوائل تک اس کھیل پر امریکا کی حکمرانی قائم رہی لیکن 2004ء میں ایتھنز اولمپکس میں گروپ گیمز کے دوران اسےدو مرتبہ بھاری ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی مرتبہ پورٹوریکو اور لتھوانیا جب کہ سیمی میں ارجنٹائن کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ 2008ء اور 2016ء کے اولمپکس گیمز میں اس نے طلائی تمغہ حاصل کیا جبکہ 2008ء سے لے کر 2014ء تک اس نے فیبا ورلڈ چیمپئن شپ اور فیبا ورلڈ کپ جیتا۔

خواتین اور مردوں کی باسکٹ بال ٹیمیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔1932ء میں8ممالک پر مشتمل ویمنز انٹرنیشنل باسکٹ بال فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔ ان ممالک میں ارجنٹائن، چیکوسلواکیہ، یونان، اٹلی، لٹویا، پرتگال، رومانیہ اور سوئٹزرلینڈ شامل تھے۔ خواتین ایسوسی ایشنز کی جانب سے فیبا ویمن باسکٹ بال ورلڈ کپ اور ویمنز اولمپک باسکٹ بال ٹورنامنٹس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ویمنز باسکٹ بال کا آغاز 1892ء میں اسمتھ کالج کی فزیکل ایجوکیشن سینڈا برینن نے کیا۔ کھیل کے مزید اسرارورموز سیکھنے کے لیے اس نے نائے اسمتھ کی خدمات حاصل کیں جس کے لیے اسے نائے اسمتھ کے کوچنگ سینٹر جانا پڑا۔ اسی سال پہلے انٹرکالجیٹ باسکٹ بال مقابلے کا انعقاد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور ’’مس ہیڈز اسکول ‘‘کے درمیان ہوا۔ 

مارچ 1893ء میں پہلے کالجیٹ باسکٹ بال گیم کا انعقاد کیا گیا۔ 1895ء تک ویمنز باسکٹ بال دنیا بھر میں مقبول ہوگیا۔ 1924ء میں انٹرنیشنل ویمنز اسپورٹس فیڈریشن کے زیراہتمام خواتین باسکٹ بال کے مقابلے منعقد ہوئے۔ 1925ء میں ہائی اسکول اور یونیورسٹی کی سطح پر خواتین باسکٹ بال کے 37مقابلوں کا انعقاد ہوا، 1926ء میں امریکا کی ایمیچر ایتھلیٹک یونین نے پہلی قومی باسکٹ بال کے چیمپئن شپ میں باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی معاونت کی۔1924ء، 1928ء، 1932ء اور 1936ء کے اولمپکس ٹورنامنٹس میں خواتین باسکٹ بال ٹیموں کو صرف نمائشی مقابلوں میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔ 

باسکٹ بال

1970ء میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے اسےخواتین کے کھیل کے طور پر تسلیم کرلیا اور 1976ء کے اولمپک گیمز میں اسے شامل کیا گیا جبکہ مردوں کی باسکٹ بال ٹیم کو 1936ء میں اولمپکس گیمز میں شامل کیا گیا تھا۔۔ 1953ء میں خواتین باسکٹ بال کی فیبا ورلڈ چیمپئن شپ کا چلی میں انعقاد ہوا۔ 1976ء میں کیوبک کینیڈا میں ہونے والے اولمپک مقابلوں میں ویمن باسکٹ بال کو بھی شامل کیا گیا جس میں روس، آسٹریلیا، برازیل اور امریکا کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ 1976ء سے 2016ء تک ویمنز ٹیمیں11اولمپک مقابلوں میں شرکت کرچکی ہیں جن میں سے ابتدائی دو مقابلے روس جب کہ9اولمپک چیمپئن شپس امریکا نے جیتی ہیں۔

وہیل چیئر باسکٹ بال

باسکٹ بال

1944میں بکنگھم شائر، انگلستان میں ایلسبری کے قصبے میں اسٹاک مینڈویلی اسپتال میں معذوروں کی بحالی کے شعبے کے نگراں، لوڈوگ گٹمن نے پہلی مرتبہ وہیل چیئر نیٹ بال کا کھیل متعارف کرایا۔ 1946میں دوسری جنگ عظیم کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کو باسکٹ بال کھیلنے کی تربیت دی گئی اور پہلی مرتبہ شگاگو میںو ہیل چیئر باسکٹ بال مقابلے کا اہتمام کیاگیا ۔ یہ کھیل امریکا کے معذور شہریوں میں خاصامقبول ہوا۔ 1949میں الی نوائس یونیورسٹی کی ڈاکٹر ٹموتھی نوگینٹ نے نیشنل وہیل چیئر باسکٹ بال کے نام سے ایک اسپورٹس ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔ 1973میں انٹرنیشنل اسٹوک مینڈویلی گیمز فیڈریشن نے وہیل چیئر باسکٹ بال کی ذیلی تنظیم قائم کی ۔ 

1989ء میں اس کا نام انٹرنیشنل ہیل چیئرباسکٹ بال فیڈریشن قرارپایا۔1973میں بلجیم میں وہیل چیئر باسکٹ بال کے پہلے ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا جس میں برطانیہ نے فتح حاصل کی۔ اب تک معذوروں کے اس کھیل کے 11عالمی ٹورنامنٹس منعقد ہوچکے ہیں جن میں 6امریکااور ایک ایک ٹورنامنٹ اسرائیل، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا نے جیتے۔ اس کھیل کو انٹرنیشنل پیرالمپک کمیٹی نے اولمپک گیمز میں بھی شامل کیا ہے جب کہ فیبا نے بھی اس کی منظوری دی ہے۔ 

باسکٹ بال

انٹرنیشنل باسکٹ بال فیڈریشن میں 82 ممالک شامل ہیں، جب کہ ہر سال اس کے ارکان کی تعدا د میں اضافہ ہورہا ہے۔اس کھیل کے قواعد و ضوابط مینز اور ویمنز کی طرح ہی ہوتے ہیں لیکن اس میں کرسی کی پوزیشن کو اہمیت دی گئی ہے۔ یہ چیئر چار یا تین پہیوں کی ہوناچاہیے جس میں اسٹیرنگ، سیاہ ٹائر اور بریک کا استعمال ممنوع ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں