آپ آف لائن ہیں
پیر 5؍رمضان المبارک 1439ھ 21؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی میڈیا کیا پورا بھارت میاں نواز شریف کے ممبئی حملہ سے متعلق بیان سے جھوم اُٹھا۔ پاکستان دشمنوں کو میاں نواز شریف نے اپنے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت بیان سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے وہ کچھ دے دیا جس کی وہ تمنا ہی کر سکتے تھے۔ نجانے نواز شریف کو کیا سوجھی کہ ایک ایسے وقت میں پاکستان مخالف بیان دے دیا جس کا ہمیں صرف اور صرف نقصان اور ہمارے دشمنوں کو فائدہ ہی ہو سکتا ہے۔ زرا بھارتی میڈیا کو سنیں وہ کیا کچھ کہہ رہا ہے۔ بھارتی میڈیا میاں نواز شریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی شہ سرخیوں میں کہہ رہا ہے ’’Biggest ever terror admission from Pakistan‘‘(پاکستان کی طرف سے دہشتگردی کرنے کا سب سے بڑاقبول نامہ) ۔وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے تسلیم کر لیا کہ ممبئی حملوں کے لیے دہشتگردوں کو پاکستان سے بھیجا گیا۔بھارتی میڈیا چیخ چیخ کے کہہ رہا ہے کہ ممبئی دھماکوں کے متعلق جو دعوے بھارت کےتھے کہ ان دھماکوں کے پیچھے پاکستان تھا اُس کی آج پاکستان کے تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم نواز شریف نے تصدیق کر دی۔ نہ صرف یہ میاں صاحب نے تو اس بھارتی الزام کہ پاکستان ممبئی حملوں کے متعلق عدالتی کارروائی کو چلنے نہیں دیتا کو بھی سچ بنا کر پیش کیا اور پاکستان کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ میاں

x
Advertisement

نواز شریف نے یہ سب کچھ انگریزی اخبارکے اُسی رپورٹر کو اپنے انٹرویو میں کہا جس نے نیوز لیکس والی خبر شائع کی تھی۔ اگر نیوز لیکس پاکستان کے مفاد کے خلاف تھی تو میاں صاحب کا یہ انٹرویو اُس سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے اور پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ن لیگ اور میاں صاحب کے بہت سے ہمدرد کبھی مشرف، کبھی عمران خان، کبھی جنرل درانی اور کبھی کسی دوسرے کی ماضی میں دیے گئے متنازعہ بیانات کے حوالے دے دے کر نواز شریف کے اس تازہ بیان کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے کون سی نئی بات کر دی۔ ایسے تمام حضرات سے میری گزارش ہے کہ زرا بھارتی چینلز اور اخبارات کو دیکھیں تو معلوم پڑ جائے گا کہ نواز شریف نے کیا نئی بات کی اور اس کا پاکستان کو کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے۔نواز شریف کا موازنہ کسی دوسرے سیاستدان یا کسی جرنیل سے نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ میاں نواز شریف جو بات کریں گے اُسے دنیا غور سے سنے گی اور اُسے اہمیت بھی دے گی۔ ڈان لیکس کے ذریعے جو بات سامنے آئی اُس کے لیے ذرائع پر انحصار کیا گیا لیکن اب تو نواز شریف نے انٹرویو میں یہ باتیں کر دیں۔ نجانے کیوں اس موقع پر نواز شریف نے ایسی بات کی جو نہ صرف پاکستان کی پالیسی کے خلاف ہے بلکہ حقیقت سے بھی دور ہے۔ ممبئی حملوں کے متعلق عدالتی کارروائی کا آگے نہ بڑھنے کی وجہ بھارت کا عدم تعاون اور شہادتوں کاپاکستان کو مہیا نہ کرنا ہے لیکن میاں صاحب نے اس کا قصور پاکستان کو ہی ٹھہرا دیا۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ پاکستان کی ریاست یا اس کا کوئی بھی ادارہ ممبئی حملوں کی سازش میں شامل تھا لیکن میاں صاحب کے بیان کے بعد بھارتی میڈیا کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے تسلیم کر لیا کہ ممبئی حملوں کے لیے دہشتگردوں کو پاکستان نے بھیجا تھا۔ سیکورٹی معاملہ اور خارجہ امور کے متعلق اگر میاں صاحب کی کوئی رائے مختلف تھی تو اُس رائے کا اظہار بند کمرے میں آپس میں بیٹھ کر ہی کیا جا سکتا تھا ۔ یہ کیسی سیاست ہے کہ اخباری انٹرویو کے ذریعے پاکستان کو ہی ملزم بنا کر پیش کر دیا۔ وزارت عظمیٰ سے رخصت کیے جانے پر میاں صاحب اپنی تلخی کو اس حد تک لے جائیں گے اس کا شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔ اُن کی وزارت عظمیٰ کے دوران ممبئی حملوں کے متعلق پاکستان کی جو پالیسی رہی اُس کے بالکل برعکس نواز شریف نے بیان دیا۔ اس بیان سے پاکستان کی سالمیت کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے گئے ہیں۔ امریکا و بھارت اور پاکستان کے دوسرے دشمن جو پاکستان کی فوج کو کمزور کرنے کے لیے طرح طرح کے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اُنہیں نواز شریف کے اس بیان نے بہت تقویت دی ہے اور نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہوا ہے۔ خارجہ امور اور سیکورٹی معاملات پر بات کرنے کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور خصوصاً جو افراد اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہوں یا فائز رہے ہوں اُن سے کسی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں رکھی جاتی کیوں کہ ایسے افراد کی طرف سے کوئی ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کسی بھی ملک کی سالمیت اور اُس کے مفاد کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ نواز شریف نے اپنے آپ کو ایسے ہی افراد کی فہرست میں لا کھڑا کر دیا ہے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں