• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علمائے کرام کا قوم کو جاہل رکھنے پر اجماع ہو چکا ہے!...حکایتیں نہ شکایتیں …اسد مفتی، ایمسٹرڈیم

یہاں مجھے علما سے پھر شکایت ہے۔
سوال یہ ہے کہ جن لوگوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قرآن کریم اور اسلام کی تعلیمات کو دیانت دارانہ طریقے پر ہم تک پہنچائیں کیا وہ اپنے اس فرض کو ادا کرنے میں دیانت دار رہتے ہیں؟ یا انہوں نے خود کو ”دینی و مذہبی حکمران“ سمجھ کر مسلمانوں کو چرب زبانی کی لاٹھی سے پیٹ پیٹ کر ”سیدھا“ کرنے کی قسم کھا لی ہے؟ وہ صرف اسلام اسلام کے ورق کوٹنے پر لگے ہوئے ہیں اور صحیح جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔
میرے حساب سے جب سے تبلیغ اسلام کی ذمہ داری، اناڑی، کم علم اور جاہل لوگوں کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے تب سے تعلیم یافتہ اور دانشور افراد کے ذہنوں میں سوالات کی ایک قطار لگ گئی ہے اسکی اہم وجہ یہ ہے کہ ان اناڑی، ان پڑھ اور کم علم حضرات نے ایسے ایسے من گھڑت قصے اور واقعات ایجاد و اختراعات کرکے دہرانے شروع کر دیئے ہیں جو حلق سے نیچے نہیں اترتے۔ دارالافتاء کی مسندوں پر ایسے ایسے افراد قابض ہوگئے ہیں جو یہ صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ وہ مذہب یا دین سے متعلق کسی سوال کا تشفی و تسلی بخش جواب دے سکیں۔ میرے ساتھ خود کو ایسا واقعہ پیش آیا تھا یا ہے، میں نے ایمسٹرڈیم میں ایک جید عالم جو ڈاکٹر، پروفیسر اور شیخ الاسلام بھی ہیں کہ ایک اجتماع میں ایک تحریری سوال نامہ پیش کیا جو ان کے نائبین نے وصول کرکے مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔ میرا پہلا سوال تھا کہ حج بدل کا حکم قرآن کریم کی کس آیت میں ہے؟ دوسرا سوال تھا کہ عید الاضحیٰ کے موقعہ پر جو قربانی مسلمان کرتے ہیں کیا مقامِ حج کے علاوہ یہ مسلمانوں پر فرض ہے؟ اگر یہ فرض ہے تو اس کا حکم غیر مقام حج کیلئے قرآن کریم کی کس آیت سے ثابت ہے؟
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد نے اپنے آخری خطبہ تک میں واضح طور پر یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ”میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں، ایک اللہ کی کتاب (قرآن کریم) جس کے اندر ہدایت اور روشنی ہے، اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں خدا کو یاد دلاتا ہوں“۔
آخری جملہ کو آپ نے تین دفعہ مکرر فرمایا۔ یہ صحیح مسلم (مناقب حضرت علی) کی روایت ہے نسائی، مسند امام احمد ترمذی، طبرانی وغیرہ میں کچھ اور فقرے بھی ہیں جن میں حضرت علی کی بھرپور منقبت ظاہر کی گئی ہے۔
احادیث کے قدیم ایڈیشنوں میں جو 1952ء سے قبل طبع شدہ ہیں یہ الفاظ موجود ہیں ان میں کہیں سنت کا ذکر نہیں ہے، احادیث کے جدید ایڈیشنوں میں اہل بیت کی جگہ لفظ سنت کر دیا گیا ہے۔
حج بدل کا کوئی حکم قرآن پاک میں میری نظر سے نہیں گزرا۔ یہ سلسلہ کیسے قائم ہوا اور کس نے ایجاد کیا۔ اس پر میں یہاں بحث نہیں کروں گا صرف اتنا عرض کروں گا کہ مرنے کے بعد انسان کا عمل سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی کتاب عمل بند کردی جاتی ہے اور قرآن کریم کا صاف اعلان ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی دوسرا نہیں اٹھائے گا اور ہر شخص خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوگا۔ فاتحہ صرف دعا ہے جس کو قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ حج اور قربانی عمل ہے جس کا سلسلہ مرنے کے بعد ختم ہوجاتا ہے کیا مفتیانِ دین متین تاریخ سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ کسی صحابہ نے حج بدل کیا ہو؟ یا حضور اور خلفائے راشدین کے زمانے میں مسلمانوں میں حج بدل کا رجحان قائم ہو؟ کچھ حضرات ”ہبہ“ کی نظر نہیں کریں گے تو میں یہ عرض کرونگا کہ ہبہ زندگی اور ہوش و حواس قائم رکھنے والا ہی کر سکتا ہے مردہ نہیں اور اگر ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے نیک اعمال کا ثواب پہنچا سکتا ہے تو پھر عمل بد کا کیوں نہیں؟ پھر تو لوگ گناہ کریں اور مردہ افراد کے سر ڈال دیں اور خود پاک صاف ہوجائیں اور روزِ حشر اس شخص کو سزا ملے گی جس کو گناہ کا ٹرانسفر ہو یا پھر مفتی حضرات قرآن کریم کی اس آیت کا حوالہ دیں جس کی رو سے ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے نیک اعمال کا ثواب پہنچا سکتا ہے۔
اسی طرح غیر مقام حج پر جانوروں کی قربانی کیسے واجب ہے؟ میں نے خاص اس سلسلہ میں قرآن مجید کا مطالبہ کیا ہے مجھے اللہ کی کتاب میں کوئی حوالہ نہ ملا پھر میں نے رسول خدا کی مقدس سوانح حیات کا مطالعہ کیا میں نے کہیں یہ نہیں پایا کہ آپ نے ان ایام میں جب آپ نے حج ادا نہیں کیا مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں قربانی کا فریضہ ادا کیا ہو۔ یہی حال صحابہ کرام کا رہا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ دین کے معاملہ میں ، میں ایک طالب علم ہوں یا دین کے معاملے میں ”نابینا“ رہا ہوں ہوسکتا ہے قرآن کریم میں وہ نکات مجھ کو نظر نہ آئے ہوں۔ جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ قربانی دنیا کے اہل زر ہر مسلمان پر واجب ہے۔ قربانی سے متعلق قرآن کریم میں سورة بقرہ کی آیت 196 سورة الحج کی آیت 37، 36،34 ، 28 ہے جو حج سے ہی وابستہ ہیں لیکن ان میں کہیں بھی کوئی ایسی بات درج نہیں ہے جس سے میری تشفی ہوسکے اور جو مروج ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہے کوئی دانشور، علما مشائخ جو حقیقت شناس ہوں اور میری اس تشنگی کو قرآنی آیات کے حوالے سے سمجھائے کہ ہر بار جب میں حقیقت کیلئے دروازہ بند کرتا ہوں تو وہ کھڑکی کے راستے سے میرے گھر کے اندر داخل ہوجاتی ہے۔
میرے حساب سے موجودہ زمانے کے مسلمان حقائق پسند نہیں ہیں جبکہ حقائق کا ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اس نے مسلمانوں کے علماء کے وجود کو ہر طرف سے چیلنج کرنا شروع کردیا ہے مگر مسلمانوں نے اپنے ”دروازوں“ اور ”کھڑکیوں“ کو بند کرکے سمجھا کہ وہ طوفان کی زد سے محفوظ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے غیر جانبدارانہ طور پر مسائل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی وہ یہ سوچ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم نے تو بحرِ ظلمات میں اپنے گھوڑے دوڑادیئے ہیں۔ اب ہم بے تیغ بھی لڑ سکتے ہیں۔ ہم نے آندھیوں سے کہہ دیا ہے بلکہ حکم دیا ہے کہ تم اپنا راستہ دوسری طرف تلاش کرلو ، پھر یہ طوفان ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔
میری مانئے تو اپنے بچھڑے پن کا اعتراف کرلیجئے کہ مسلمانوں کیلئے تعمیر نو کا آغاز یہی ہے اور جب تک وہ اس کا اعتراف نہ کریں وہ اپنی منزل کی طرف حقیقی سفر شروع نہیں کرسکتے۔
نہ تسلی نہ تشفی نہ عنایت نہ کرم
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
تازہ ترین