• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تراویح میں تلاوت کردہ قرآن کریم پارہ بہ پارہ تفہیم

فہم القرآن:مفتی عبدالمجید ندیم
سبحٰن الذی …پارہ۱۵
سورہ بنی اسرائیل
سورہ بنی اسرائیل یا سورہ اسراء مکی سورت ہے ۔اس میں 111آیات اور بارہ رکوع ہیں ۔اس سورت کے مرکزی مضامین توحید ،رسالت،تمدنی زندگی کے اصول ،اقوام ِ ماضیہ کے واقعات ،تمثیلات اور قرآن کے برحق ہو نے کے دلا ئل ہیں۔سورت کا آغاز جس واقعے سے ہو تا ہے وہ انسانی زندگی کا سب سے اچھوتا اور محیر العقول واقعہ ہے ۔جسے اسراء و معراج کہا جاتا ہے ۔اس سفر کے زمینی حصے(اسراء) کا تذکرہ سورہ بنی اسرا ئیل کی پہلی آیتِ مبارکہ میں کیا گیا ہے اور دوسرے حصے کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں ہے ۔اسراء و معراج کا واقعہ جسم و روح دونوں کے ساتھ ہوا ہے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائبات دکھا ئے جا ئیں اور اس با ت کا یقین دلا یا جا ئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور تا ئیدحضور ﷺ کے ساتھ ہے نیز یہ واقعہ انسانی عظمت کو بھی بیان کرتا ہے کہ حضرتِ انسان اس مقا م تک پہنچا ہے جہاں نہ کو ئی فرشتہ پہنچ سکا ہے اور نہ ہی کو ئی جن ۔بقول اقبال
سبق ملا ہے معراجِ مصطفی سے مجھے
عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
بنی اسرا ئیل کی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہو ئے یہ با ت بتا ئی گئی ہے کہ تم زمین میں دو مرتبہ تباہی کا شکار ہو گئے اور یہ سب کچھ تمہارے شامتِ اعما ل کی وجہ سے ہو گا ۔چنا نچہ یہ تا ریخی حقیقت ہے کہ بنی اسرا ئیل ایک دفعہ تو بخت نصر کے ہا تھوں تہہ تیغ ہو ئے ۔اور یہ تبا ہی ایسی تھی کہ ان کا قتل عام ہوا،ان کے گھر مسما ر کر دیے گئے ۔یہاں تک کہ ان کے علما ء اور مذہبی طبقے کو بھی معاف نہ کیا گیا اور تورات تک جلا ڈالی گئی ۔پھر دوسری مرتبہ ان کی نا فرما نیوں کے نتیجے میں ان پر با بل کا بادشاہ بیردوس یا خردوس مسلط کیا جس نے کشتوں کے پشتے لگا دیے اور پوری قوم پر ان کی ایسی شامتِ اعما ل آئی کہ الامان وا لحفیظ۔ان واقعات سے مسلمانوں کو سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہو ئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ’یہ قرآن اس راہ کی طرف راہنما ئی کرتا ہے جو با لکل سیدھی ہے ۔اس میں کو ئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔یہ قرآن ایما ن لا نے والوں اور نیک اعما ل کرنے والوں کو اجرِ عظیم کی خو شخبری دیتا ہے ۔رہے وہ لو گ جو آخرت پر ایما ن نہیں رکھتے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیا ر کر رکھا ہے ۔انسان کا رویہ یہ ہے کہ وہ انتہا ئی جلد با ز وا قع ہوا ہے ۔وہ تمام کا موں کے فوری نتا ئج کا خواہاں ہے حا لا نکہ اللہ تعالیٰ نے دن را ت کا نظا م جاری و ساری فرما کر یہ پیغام دیا ہے کہ کا ئنا ت میں ہر کا م ایک ترتیب کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ہر انسا ن اپنی لکھی ہو ئی تقدیر کی پیروی کر رہا ہے ۔وہ شاہراہِ زندگی پر چلتے ہو ئے اپنے اعما ل کی کتاب خود لکھ رہا ہے یہی کتا ب کل قیا مت کے دن اس کے ہا تھ میں تھما دی جا ئے گی اور اللہ تعا لیٰ کا حکم ہو گا کہ اب اپنی کتا ب کو خود ہی پڑھ اور حساب و کتا ب کیلئے تیا ر ہو جا ۔تاریخ ِ انسا نی اس با ت پر گواہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی آزما ئش کرتے ہیں تو وہاں کے کھا تے پیتے بااثر لوگوں کو زمین کا اقتدار دے دیتے ہیں تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ کیسے اعما ل سر انجا م دیتے ہیں ۔نتیجہ صاف ہو تا ہے کہ ایسے لوگ زمین کا اقتدار پا کر اور زیا دہ سرکش ہو جا تے ہیں اور سمجھنے لگے جا تے ہیں کہ ان کے اقتدار کو کو ئی بھی چیلنج کرنے والا نہیں ۔تب ہمارے عذاب کا کوڑاان پر اس طرح برستا ہے کہ ہم انہیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔جو شخص بھی دنیا ہی کا جلد ملنے والا فا ئدہ تلا ش کرے گا اور اسے آخرت سے کو ئی سروکار نہ ہو گا ہم اس کا حصہ اسے دنیا ہی میں دے دیں گے اور آخرت میں اسیے لوگوں کے لیے جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہے اور جو شخص آخرت پر ایما ن لا کر نیک اعما ل کے ذریعے بھرپور جدوجہد کرے گا اللہ تعالی اسکی کو ششوں کی قدر فرما ئیں گے اور اسے اپنی عطا و بخشش سے سرفراز فرما ئیں گے ۔واقعہ معراج کے ضمن میں نبی اکرم ﷺ کو چودہ زریں اصول عطا فرما ئے گئے جن پر ایک صالح معاشرے کی بنیا د رکھی جا تی ہے اور وہ یہ ہیں:۱۔اللہ کی عبادت اور شرک سے بیزاری(۲)والدین کے ساتھ حسنِ سلوک (۳)رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی(۴) اسرا ف سے پرہیز(۵) کنجوسی کی ممانعت (۶)اولا د کا ناحق قتل(۷)زنا کی حرمت (۸)انسانی جا ن کا نا حق قتل(۹)یتیم کے مال کی حفاظت (۱۰)عہد وپیما ن کی حفاظت (۱۱)پوراماپ تول(۱۲)راز داری کی حفاظت اور ٹوہ میں نہ پڑنا(۱۳)تکبر و غرور کی حرمت(۱۴) غریبوں اور مسکینوں کو نرم جواب ۔آیت نمبر40سے قرآن ِ مجید کی دعوت کے نتیجے میں انسانی رویوں کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اس کتابِ مبین میں انسانوں کی رشدو ہدایت کے لیے ہر طرح کے مضامین مختلف انداز سے بیا ن کیے ہیں لیکن جو لو گ نصیحت حاصل نہیں کرنا چا ہتے ان کے اور آیاتِ الٰہی کے درمیان ایک پردہ کھڑا ہو جا تا ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات کو ئی اثر نہیں کرتیں ۔ان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھنے لگتے ہیں بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا ۔وہ کہتے ہیں کہ بھلا وہ کو ن ہے جو بوسیدہ ہڈیوں میں جا ن ڈال سکے ؟ انہیں جواب دیجیے کہ وہ اللہ جس نے پہلی با ر عدم سے وجود بخشا ہے اس با ت پر قادر ہے کہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے اور ایک دن ایسا آنے والاہے کہ تم اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے ۔شیطا ن انسان کا ازلی و ابدی دشمن ہے ۔اس کی کوشش یہ ہے کہ انسان کو گمراہی کے راستے پر رواں دواں کر دے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے با لمقابل اپنےانبیا ء کو مبعوث فرما کر اس کی رشد و ہدایت کے ساما ن کیے ہیں ۔انسا ن کو یہ با ت بھی معلو م ہو نی چا ہیے کہ جن معبودانِ با طلہ کو وہ اللہ کے سوا پکارتا ہے وہ اتنے بے بس ہیں کہ ان کی کو ئی مدد نہیں کر سکتے جب کہ اللہ تعالیٰ اتنے با اختیا ر ہیں کہ وہ جسے چا ہیں اپنی رحمتوں سے ما لا ما ل فرما تے ہیں اور جسے چا ہتے ہیں اس کی بد اعما لیوں کے نتیجے میں سزا دیتے ہیں ۔آیت نمبر61سے قصہ آدم و ابلیس کو مختصر الفا ظ میں بیا ن فرما کر اس حقیقت کو واضح فرما یا ہے کہ ’انسان اور شیطا ن ‘ کی کشمکش ایک تسلسل سے جا ری ہے ۔
ستیزہ کا ر رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ ِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی
ایک طرف شیطان کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ انسان کو تمناؤں اور آرزؤں میں الجھائے، اپنے پیادہ اور گھڑ سواروں کو میدانِ عمل میں لا ئے اور ما ل و اولا د کے چکروں میں ڈال کر اس کی منزل کھوٹی کر دے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے کہ ’’میرے بندوں ‘ پر تیرا اختیار نہیں ہے اس لیے کہ ان کی راہنما ئی اور پشتیبا نی کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات کا فی ہے ۔وہ اللہ ہی ہے جو انسانوں کی حفاظت اور نگرانی اس وقت بھی کرتا ہے جب وہ خشکی اور تری کے سفر پر روانہ ہو تے ہیں اور زمین کی کو ئی آفت انہیں نگل لینے کے لیے تیا ہو تی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد کا ہاتھ اس مرحلے پر انہیں تما م خطرات سے نکا ل لا تا ہے ایمان لا نے والے ایسی صورتِ حال کو دیکھ کر اللہ کے سامنے جھکے جا تے اور انکار کرنے والے اسے اپنی معبودانِ با طلہ کی کرشمہ سازی قرار دے کر اور زیا دہ گمرا ہ ہو جاتے ہیں حالانکہ انسانی عظمت کا عالم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت انسا ن کو اس کا ئنا ت میں سب سے زیا دہ معززاور محترم قرار دیا ہے ،اسے خشکی اور تری میں سفر کے مواقع بہم پہنچا ئے ہیں اور کا ئنا ت میں سب ے سے زیا دہ بلند مر تبہ عطا فرما یا ہے ۔اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ پوری کا ئنا ت حضرت ِ انسان کے لیے اور اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرما نبرداری کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔لہٰذا اس کی عظمت کا راز احکا مِ الٰہی کی پیروی میں ہے ۔اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو وہ انسانیت کے بلند مقام سے حیوانیت کے پست ترین مقام پر پہنچ آئے گا ۔یہ حقیقت اس دن سامنے آ جا ئے گی جب سب انسانوں کواللہ تعالیٰ کی جنا ب میں پیش کیا جا ئے گا اور کچھ لوگوں کو ان کا نا مہ اعما ل دا ئیں ہا تھ میں اور کچھ لوگوں کو با ئیں ہا تھ میں دیا جا ئے گا اور وہ ایسا د ن ہو گا کہ کسی پر بھی کو ئی ظلم نہیں کیا جا ئے گا ۔اصحاب الیمین کا میا ب قرار پا ئیں گے اور اصحاب الشما ل سے کہا جا ئے کہ تم کتنے بدبخت تھے کہ تم دنیا کی زندگی میں ہماری آیا ت سے اندھے اور بہرے بن کر رہے ۔اس کا صاف نتیجہ یہ ہے کہ آج تم اندھے بنا کر اٹھائے گئے ہو ۔ رہا تمہارا انجا م تو وہ جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔نبی اکرم ﷺکو تسلی دی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت آپ کے ساتھ ساتھ ہے ۔یہ لو گ اپنی ریشہ دوانیوں میں بہت زیا دہ سرگرم ہیں ۔کبھی یہ چا ہتے ہیں کہ آپ کو یہاں سے نکا ل دیں اور کبھی آپ کے قتل کے نا پا ک منصوبے بنا رہے ہیں لیکن یہ با ت طے ہے کہ وہ اپنے ان ارادوں میں کبھی بھی کامیا ب نہیں ہو سکتے اس لیے کہ ان کی طاقت اللہ کی قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتی لہٰذا انہیں منہ کی کھانی ہو گی اور اس کے نتیجے میں ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بنے گی ۔اللہ تعالیٰ کی اقوام ِ ماضیہ کے بارے میں یہی سنت رہی ہے اور اللہ کی سنت اور طریقے میں رد وبدل نا ممکن ہے ۔اے محمد ﷺ اس مرحلے پر آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اور زیا دہ مصروف ہو جا ئیں ۔صبح و شام کی عبادتوں کے ساتھ ساتھ تہجد کی نماز کا بھی اہتما م کریں اور فجر کی نما ز میں قرآن ِمجید کی آیات کو انتہا ئی ترتیل کے ساتھ تلاوت فرما ئیں اس لیے کہ یہ وقت فرشتوں کے نزول کا وقت ہے اور اس وقت انسان کی تو جہ اور انہما ک اور زیا دہ ہوتا ہے ۔آج جس مکے سے آپ کو نکا لا جا رہا ہے اسی مکے میں آپ فاتح بن کر داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایک عظیم قوت اور اقتدار کے ذریعے آپ کی مدد اور تائید فرما ئے گا اور کسی کو یہ جرات نہ ہو گی کہ وہ مسلمانوں کا مقابلہ کر سکے ۔یہ کفارمکہ آپ سے جو الٹے سیدھے سوال کرتے ہیں آپ کو ان سے گھبرا نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ان کے اعتراضات لا یعنی ہیں اور ان میں دلیل کا کو ئی وزن نہیںہے ۔کبھی یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ پا نی کا کو ئی چشمہ جاری کر دیجیے،کبھی کہتے ہیں کہ آپ کا کھجوروں اور انگوروں کا با غ ہو ،کبھی کہتے ہیں آسما ن سے فرشتے نازل ہو جا ئیں ،کبھی کہتے ہیں کہ آپ کا کو ئی خوبصورت محل ہو اور کبھی کہتے ہیں کہ آپ ہمارے سامنے آسما ن کی بلندیوں پر چڑھ کر ایک کتاب لے کر آئیں ۔یہ سب ان کی دما غ کا ٹیڑھ پن اور ان کے عمل کی کجروی ہے ۔اگر یہ سب کچھ بھی دکھا دیا جا ئے تو بھی یہ لو گ ایما ن نہیں لا ئیں گے ۔جہاں تک قرآن کی حقانیت کی با ت ہے وہ تو یہ ہے کہ اگر سارے جن و انس بھی اکٹھے ہو جا ئیں تو قرآن جیسی کتا ب نہیں بنا سکتے اس لیے کہ یہ کلامِ الٰہی ہے جس کا مقابلہ کرنے کی سکت کسی میں نہیں ہے ۔ان کے اس اعتراض میں بھی کو ئی جا ن نہیںہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کو ئی فرشتہ نا زل کیوں نہیں کیا ۔انہیں جوا ب دیجیے کہ اگر زمین پر فرشتے ہو تے تو ہم فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے لیکن کیونکہ زمین پر انسان رہتے ہیں لہٰذا عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کو ئی انسان ہی ان کے لیے رسول بنا یا جا تا تا کہ وہ اس کے اسوہ حسنہ کی پیروی کر سکتے۔سورت کے آخر میں ایک طرف فرعون کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے حضرت موسیؑ کے نو معجزات کو مسترد کر کے اللہ تعالیٰ کی طاقت کو چیلنج کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے عبرت کا ساما ن بنا دیا اور اس کی طا قت اور قوت اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچا سکی تو دوسری طرف قرآنِ مجید کے تئیس سال میں نازل ہو نے کی یہ وجہ بتا ئی گئی ہے کہ انسا نی راہنما ئی کے لیے یہ ایک فطری طریقہ تھا کہ لو گ کلامِ الٰہی کے نازل شدہ حصے پر آسانی کے ساتھ عمل پیرا ہو جا تے اور یہی طریقہ اسے پڑھنے اور یاد کر نے کے لیے موزوں ترین تھا ۔جن لوگوں کو کلامِ الٰہی کے پڑھنے اور اس پر غور کرنے کی توفیق ملی ہے وہ آیاتِ الٰہی کو پڑھنے یا سننے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو جا تے ہیں جس سے ان کی اطا عت و فرما نبرداری میں اضافہ ہو جا تا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے سارے اسما ئے حسنیٰ اتنے پیارے ہیں کہ جس بھی نا م کے ساتھ تم اسے پکارو گے وہ تمہاری پکار کو سنے گا اور تمہیں اپنی رحمت سے ما لا ما ل فرمائے گا ۔
سورہ کہف
سورہ کہف مکی سورت ہے اور اس میں 110آیات اور با رہ رکوع ہیں۔اس سورہ مبارکہ میں ’’غار والوں ‘‘ کا تذکرہ ہے اسی منا سبت سے اس سورت کا نا م سورہ کہف ہے ۔یہ سورہ مبارکہ دجالی فتنوں کے دور میں اہلِ ایما ن کے لیے پناہ گاہ ہے یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کا فرما ن ہے کہ جو شخص جمعے کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے دجا ل کے فتنے سے محفوظ فرما ئیں گے ۔یہ سورت معرکہ ایما ن و ما دیت کو پیش کر کے بتا رہی ہے کہ اس معرکے میں فتح مادیت کو نہیں ایمان کو ملتی ہے ۔اللہ تعالیٰ کی حمد ثنا ء کے بعد کتاب ِ الٰہی کا تذکرہ ہے جس میں کسی بھی طرح کی کجی اور ٹیڑھ نہیں۔یہ کتاب خوشخبری دینے والی اور ڈر سنا نے والی ہے۔ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ زمین پر پا ئی جانے والی ہر چیز تبا ہ ہو جا ئے گی اور اللہ تعالیٰ روز جزا و سزا کو قائم فرما دیں گے جہاں ہر انسان کو اپنے کیے کا حساب دینا ہو گا ۔نیکو کاروں کو جنت عطا ہو گی اور بدکاروںکو واصلِ جہنم کیا جا ئے گا ۔ اصحابِ کہف وہ عظیم نوجوان تھے جنہوں نے شیطا نی نظام سے علَمِ بغاوت بلند کیا ۔انہیں بڑے بڑے عہدوں کی پیش کش ہو ئی لیکن انہوں نے جا ہلیت کے نظام کے کل پرزے بننے کی بجا ئے ہجرت اور جہاد کے راستے کو اختیار کیا ۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک غار میں پنا ہ دے دی جہاں پر وہ تین سو نو برس تک سوئے رہے ۔ان کے ساتھ چلنے ولا کتا غار کے دہانے پر اتنے ہی سال بیٹھا رہا ۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کا مظاہر ہ تھا کہ دیکھ لو جولوگ ہماری راہ کے راہی بنتے ہیں ہم ان کی حفاظت خود فرما تے ہیں ۔اتنا لمبا عرصہ گذر جا نے کے بعد جب وہ بیدار ہو ئے تو ایک دوسرے سے پو چھا کتنا عرصہ سوئے رہے ہو ؟ جواب تھا ایک دن یا دن کا کو ئی حصہ سو ئے رہے ہیں ۔اب جو بھوک نے ستا یا تو ایک کو بازار بھیجا پھر کیا تھا انکا سارا راز ہی کھل گیا ۔حالات اتنے بدل چکے ہیں کہ کفر کے نظا م کی بجا ئے الٰہی نظا م جارہ ہو چکا تھا ۔لہٰذا یہ نوجوان ساری قوم کی آنکھوں کا تارا بنا دیے گئے اور اس غار پر جہاں انہوں نے پنا ہ لے رکھی تھی ایک مسجد بنا دی گئی تا کہ وہ اللہ کی کبریائی کا منہ بو لتا ثبوت فراہم کرتی رہے ۔یہ واقعہ تاریخ انسانی کا عجیب واقعہ ہے جو تا قیا مت حق و با طل کی کشمکش میں اہلِ ایما ن کی سرخروئی کو ظاہر کرتا رہے گا ۔آیت نمبر28سے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ان غریب جا نثار مسلما نوں کے ساتھ استقامت کے ساتھ رہیے اور انہیں اپنی جناب سے اٹھانے کا تصور بھی نہ کیجیے اس لیے کہ ان کا مقام و مرتبہ اللہ کے ہاں متعین ہو چکا ہے ۔حق کو آیاتِ الٰہی کے ذریعے واضح کیا جا چکا ہے اب انسانوں کی اپنی مرضی ہے کہ اسے قبول کریں یا مسترد کر دیں لیکن انہیں آگا ہ ہونا چا ہیے کہ قبول کرنے کے نتیجے میں وہ اللہ کی رضا اور جنت سے ما لا مال ہو ں گے اور انکا ر کی صورت میں ان کو جہنم کی آگ کا ایندھن بننا پڑے گا ۔جو انسان ما ل و دولت پانے کے بعد نا شکری کا رویہ اختیا ر کرے گا آخر کار عذابِ الٰہی کا کوڑا اس پر دنیا کی زندگی میں ہی برسے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے محروم کر دیا جا ئے گا ۔اس ضمن میں دو دوستوں کی مثال دی گئی ہے جن میں سے ایک مالدار ہے اور دوسرا غریب ہے ۔جب یہ غریب دوست اپنے امیر دوست کے باغوں میں داخل ہوتا ہے تواسے اللہ تعالیٰ کے احسانا ت یاد دلا تا ہے لیکن دوسرا دوست اسے اللہ کے احسان کی بجائے اپنی مہارت کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور شکرِ الٰہی کے بجا ئے تکبر اور غرور کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اس کی زبا ن سے ماشا ء اللہ کا لفظ بھی نہیں نکلتا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے با غوں کو جلا کر خاکستر کر دیا ۔اس واقعے میں ہر اس شخص کے لیے پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادانہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کو ما لکِ حقیقی سمجھنے کی نجائے اپنے آپ کو بااختیار سمجھتا ہے۔
انسانی زندگی کی مثال اس طرح دی گئی ہے کہ جس طرح آسما ن سے با رش ہو اور پھر اس کی سر سبزی و شادابی نگا ہوں کو خیرہ کرنے لگے ۔پھر خزاں کا ہاتھ اسے تبا ہ و بربا د کر دے۔ یہی مرحلے انسانی زندگی کے بھی ہیں پیدائش،جوانی ،بڑھاپا اور موت یہ سب انسانی زندگی کے عبرتناک مظاہر ے ہیں جو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ثبات اور قرار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے ۔پارے کے آخر میں قصہ موسیٰؑ و خضر ؑ بیان کیا گیا ہے۔اس قصے میں جہاںاستاد و شاگرد کے تعلق اور آدابِ تعلیم کو بیا ن کیا گیا ہے وہیں پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس جہاں کے پیچھے ایک اور جہاں بھی ہے جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتا ۔وہ حقیقت جو حضرت موسیٰؑ نہ دیکھ سکے وہ حضرت خضر ؑ کے سامنے تھی ۔یہی وجہ ہے کہ کشتی کے تختے اکھاڑنا اور بچے کو قتل کرنا حضرت موسیؑ سے برداشت نہ ہو سکا لیکن حضرت خضر ؑ اس کی حکمتوں سے آگاہ تھے جنہیں بعد میں ظاہر کردیا گیا۔
تازہ ترین