• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاسی تاریخ میں نیا باب ،جمہوریت کے تسلسل کے دس سال مکمل

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘میں میزبان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک کی سیاسی تاریخ میں نیا باب رقم ہونے جارہا ہے، جمہوریت کے تسلسل کے دس سال مکمل ہوگئے ہیں، ایک جمہوری حکومت نے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل کیا اور دوسری حکومت اب تیسری حکومت کو اقتدار منتقل کرے گی اور ایسا ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوگا، اس ملک میں پہلی دفعہ جمہوریت کے زیرسایہ پارلیمنٹ نے دو دفعہ اپنی مدت پوری کرلی ہے، جمہوریت کو پہلی دفعہ دس سال کا تسلسل ملا ہے اس کے برعکس آمروں کو مکمل اختیار کے ساتھ دس دس سال ملے مگر ملک پیچھے ہی گیا، اس دس سالہ جمہوری دور میں کوئی ایک سال بھی ایسا نہیں جب حکومت اتنی مشکل میں نہ آئی ہو کہ اس کا اور جمہوریت کا تختہ الٹنے کی صورتحال آگئی ہو، قیاس آرائیاں ہورہی ہوں، باتیں ہورہی ہوں کہ اب نہ حکومت بچے گی نہ جمہوریت بچے گی، جمہوریت بچ گئی تو حکومت نہیں بچے گی، لیکن ان مشکلات کے باوجود جمہوریت چلتی رہی اور ملک آگے بڑھتا رہا، ہر سال بحران آنے کے بعد ملک اور جمہوریت آگے بڑھے، معاملات برے ضرور ہوئے مگر اس کے باوجود ملک نے ترقی ہی کی، 2008 ء میں آمرانہ حکومت سے اقتدار جمہوری حکومت کو منتقل ہوا، فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے نئی مخلوط حکومت بنائی، اس نئے جمہوری سفر میں کئی رکاوٹیں آئیں، بہت سی مشکلات کھڑی ہوئیں، جمہوریت کی کشتی ڈانوال ڈول ہوئی مگر سفر جاری رہا، اقتدار سنبھالتے ہی حکومت کو عالمی سطح پر اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب 26نومبر 2008ء کو ممبئی میں دہشتگردی کا سنگین واقعہ پیش آیا، اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا گیا جس کے بعد بھارت سے تعلقات کشیدہ ہوگئے، عالمی سطح پر بھارتی مہم کے نتیجے میں پاکستان پر دبائو بڑھا ، پاکستان اس معاملہ پر سفارتی تنہائی کا شکار ہونے لگا مگر جمہوریت چلتی رہی اور ملک آگے بڑھتا رہا، ابھی ممبئی حملوں کے اثرات ختم نہیں ہوئے تھے کہ ملک میں ایک سیاسی بحران کھڑا ہوگیا، فروری 2009ء میں شریف برادران کی سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد وفاقی حکومت نے پنجاب میں گورنر راج لگادیا جس کے بعد دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی، اس کے باوجود جمہوریت چلتی رہی، کچھ ہی دنوں بعد عدلیہ بحالی تحریک نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا، سولہ مارچ کو ن لیگ کے قائد نواز شریف کی سربراہی میں وکلاء اوردیگر سیاسی جماعتوں کا قافلہ لاہور روانہ ہوا، اس وقت بھی انہی خدشات نے سر اٹھایا کہ نئی جمہوریت کا سورج کہیں طلوع ہوتے ہی غروب نہ ہوجائے، آپس کی رسہ کشی سے کہیں کوئی تیسری قوت فائدہ نہ اٹھالے، مگر قافلہ کے گوجرانوالہ پہنچتے ہی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے عدلیہ کی بحالی کا اعلان کردیا، اس سے پہلے مشرف دور میں ججوں کو بند کیا گیا، وکلاء تحریک چلتی رہی مگر نہ ججز بحال ہوئے نہ ان کی نظربندی ختم ہوئی بلکہ مکمل طورپر آمرانہ انداز میں اس سارے معاملہ سے نمٹا گیا، اس دوران ملک میں آمرانہ دور کی برائی پروان چڑھتی رہی، دہشتگردوں کے حوصلے بلند ہوئے، دہشتگردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی، عالمی برادری پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ پر سوالات اٹھانے لگی، یہ تک کہا گیا کہ دہشتگردوں کے قدم اسلام آباد تک پہنچ رہے ہیں، میڈیا پر سوالات اٹھائے گئے کہ پاکستان کہیں ناکام ریاست تو نہیں بن جائے گا، ایک طرف یہ خدشات تھے تو دوسری طرف جمہوری قوتوں نے اختلافات کو نظرانداز کر کے مئی 2009ء میں سوات میں فوجی آپریشن راہ راست کا آغاز کیا، پاک فوج نے سیاسی حمایت کے ساتھ دہشتگردوں کا خاتمہ کیا، یہ سب کچھ جمہوریت کی وجہ سے ممکن ہوا، اس سے پہلے آمرانہ دور میں بھی کئی آپریشن ہوئے مگر انہیں وہ کامیابی نہیں ملی جوسوات آپریشن کو ملی، جمہوریت چلتی رہی ملک آگے بڑھتا رہا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں سیاسی کشیدگی برقرا رہی مگر اس دوران سیاسی تاریخ کی اہم ترین آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظور کرلی، آٹھ اپریل 2010ء کو قومی اسمبلی نے اٹھارہویں ترمیم منظور کرلی، اس ترمیم کی تیاری کے عمل میں تمام سیاسی جماعتیں شامل رہیں، صوبوں کو خودمختاری ملی، آئین کے آرٹیکل اٹھاون ٹو بی میں ترمیم کی گئی، اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار صدر نے وزیراعظم کو منتقل کردیا، جنرل ضیاء کا نام آئین سے نکال دیا گیا، صوبہ سرحد کو خیبرپختونخوا کا نام ملا، تیسری دفعہ وزیراعظم بننے سے پابندی ختم ہوگئی، صوبوں اور وفاق میں تعاون کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کا قیام ہوا، ججوں اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا طریقہ کار طے ہوا، صوبے مضبوط ہوئے وفاق مضبوط ہوا اور پاکستان مضبوط ہوا، یہ سب جمہوریت کے ذریعہ ہی ممکن ہوا، جمہوریت چلتی رہی ملک آگے بڑھتا رہا، مگر پھر ایک اور مشکل آگئی جب دو مئی 2011ء کو امریکی فورسز نے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر اسامہ بن لادن کو نشانہ بنایا اور اس کی لاش ساتھ لے گئے، اس آپریشن کے ایک بار پھر پاکستان عالمی تنقید کی زد میں آگیا، سوالات اٹھائے گئے کہ اتنا خطرناک دہشتگرد پاکستان میں کیسے آیا، اتنی آسانی سے پاکستان میں کیسے رہتا رہا، اسے کس کی مدد حاصل رہی، ساتھ ہی امریکی فورسز کی مداخلت نے بھی ملکی سلامتی کی صورتحال پر کئی سوالات اٹھائے، حکومت ایک بار پھر بیرونی اور اندرونی الزام تراشیوں کی زد میں آگئی، حکومتی درخواست پر سپریم کورٹ کے سینئر جج کی سربراہی میں ایبٹ آباد کمیشن قائم ہوا جس کی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آسکی، تمام تر الزامات، خدشات اور تحفظات کے باوجود جمہوریت کا سفر جاری رہا، جمہوریت کا سفر ایک بار پھر اس وقت مشکل میں آگیا جب میموگیٹ اسکینڈل سامنے آیا، اکتوبر 2011ء میں پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز نے امریکی اخبار میں ایک آرٹیکل لکھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا میں پاکستانی سفر حسین حقانی نے انہیں امریکی جنرل مائیک ملن تک مبینہ طور پر آصف زرداری کا خفیہ پیغام پہنچانے کا کہا جس میں مبینہ طور پر صدر زرداری نے اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ فوج جمہوریت کا تختہ الٹ سکتی ہے اس لئے امریکا فوج کو جمہوریت کیخلاف کسی بھی کارروائی سے باز رہنے کا کہے، اس آرٹیکل کی اشاعت کے بعد ملکی سیاست میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا، حکومت ایک بار پھر سے بدترین تنقید کی زد میں آگئی، سول عسکری تعلقات میں سخت کشیدگی آگئی، نواز شریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ چلے گئے، بعد میں نواز شریف کا بیان آیا کہ انہیں میمو کا معاملہ عدالت نہیں لے جانا چاہئے تھا، نواز شریف جب یہ معاملہ عدالت لے کر گئے تو اس وقت ماہر قانون عاصمہ جہانگیر نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ بعد میں درخواست گزاروں کو تکلیف دے گا، جمہوری قوتیں غلطیاں کرتی رہیں اس سے سیکھتی رہیں مگر اس دوران جمہوریت کی کشتی خطرے میں رہی، اس سب کے باوجود جمہوریت کا سفر جاری رہا اور ملک آگے بڑھتا رہا، اس دوران ملک میں جیوڈیشل ایکٹو ازم کی شکایت بھی رہی، حکومت کو شکایت رہی کہ عدلیہ انہیں کام نہیں کرنے دے رہی، ہر معاملہ پر ازخود نوٹسز لیے جاتے رہے اور پھر توہین عدالت کے الزام میں 19جون 2012ء کو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیدیا گیا، نئے وزیراعظم کو آئے ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ جمہوری حکومت کو ایک بار پھر امتحان کا سامنا کرنا پڑا، 13جون 2013ء کو پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے لاہور سے اسلام آباد کا رخ کیا اور وہاں دھرنا دے کر بیٹھ گئے، طاہر القادری اپنے کنٹینر سے حکومت کے خاتمے کے دعوے کرتے رہے، بہرحال جمہوری قوتیں اس وقت حکومت کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور 17جنوری کو دھرنا معاہدے کے بعد ختم ہوگیا، تمام خدشات اور تحفظات دور ہوگئے، جمہوریت چلتی رہی ملک آگے بڑھتا رہا، مئی 2013ء کو ملک میں عام انتخابات ہوئے، ایک جمہوری حکومت نے پانچ سال کی مدت پوری کر کے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار سونپا، پیپلز پارٹی کے بعد حکومت ن لیگ کے پاس آئی، ن لیگ واحد اکثریتی جماعت بن کر ابھری مگر اس دور میں بھی جمہوریت مشکلات میں گھری دکھائی دی، اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اس وقت وزیراعظم نواز شریف نے جون 2013ء کو پارلیمنٹ میں سابق آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا اعلان کیا مگر یہ ٹرائل بعد میں حکومت کیلئے امتحان بن گیا، پرویز مشرف عدالتوں میں پیش ہوئے، ان کیخلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کیلئے خصوصی عدالت بنائی گئی جو اب تک کیس سن رہی ہے ،سابق آرمی چیف کا عدالتوں میں پیش ہونے کو بڑی کامیابی سمجھا گیا مگر اس دوران پرویز مشرف طبیعت کی خرابی اور سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس پر وفاقی وزراء سعد رفیق اور خواجہ آصف کے سخت بیانات سامنے آئے، ان بیانات کے بعد اپریل 2014ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے ایس ایس جی سی کمانڈوز کے ہیڈکوارٹر غازی میں تربیلا کے دورے کے موقع پر ایک بیان سامنے آیا کہ فوج کے وقار کا ہر صورت میں دفاع کریں گے، اس بیان کے بعد سول عسکری تعلقات میں کسی حد تک کشیدگی آئی، پرویز مشرف کے خلاف کیسز عدالتوں میں زیرسماعت رہے پھر اسی حکومت نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے دیا، سترہ جون 2014ء کو عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی وطن واپسی پر پہلے ماڈل ٹائون میں تجاوزات کیخلاف حکومتی آپریشن خونی ہوگیا، اس آپریشن میں مزاحمت کے بعد پولیس کی فائرنگ اور تشدد سے چودہ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے، سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد پنجاب حکومت پر دبائو بڑھا، وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو عہدے سے ہٹایا گیا، یہ معاملہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ جاری ہونے تک جاری رہا، اگست 2014ء میں لاہور سے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا، تحریک انصاف نے انتخابی دھاندلی اور پاکستان عوامی تحریک نے سانحہ ماڈل ٹائون کو جواز بنا کر حکومت کے خلاف اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا، اس دوران عمران خان کی طرف سے بار بار امپائر کی انگلی کی بات کی گئی، طاہر القادری بھی بار بار حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دیتے رہے، طاہر القادری اچانک دھرنا ختم کر کے چلے گئے، اس دھرنے کے دوران تاثر دیا گیا کہ فوج حکومت سے خوش نہیں، اس دھرنے کے دوران ایسی منظرکشی کی گئی کہ حکومت آج گئی یا کل گئی، یہ تک کہا گیا کہ فوج نے وزیراعظم نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ استعفیٰ دیدیں یا طویل رخصت پر چلے جائیں، یہ بات بعد میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہی، اس دھرنے میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، پی ٹی وی پر قبضہ کیا گیا، سپریم کورٹ کی دیوار پر کپڑے دھو دھو کر لٹکائے گئے مگر اس سب کے باوجود پارلیمنٹ حکومت کے ساتھ کھڑی دکھائی دی، آخرکار سترہ دسمبر 2014ء کو عمران خان نے بھی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا، ملک میں جمہوریت چلتی رہی ملک آگے بڑھتا رہا، کچھ عرصہ الزام تراشی کی سیاست چلتی رہی پھر ایسا لگنے لگا کہ ملک میں جمہوری قوتوں کو سمجھ آئے گی ملک تیزی سے آگے بڑھے گا مگر کوئی بحران نہیں آئے گا، مگر اس دوران 3 اپریل 2016ء کو پاناما پیپرز کا اسکینڈل سامنے آگیا ۔
تازہ ترین