ماریہ خٹک
یہودیت دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا میں ایک کروڑ چوالیس لاکھ پینتیس ہزار نو سو یہودی بستے ہیں۔ یہودی مذہب کی نسبت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف کی جاتی ہے۔ چوں کہ ان کا نسلی تعلق حضرت یعقوب علیہ السلام سے، جن کا لقب’’ اسرائیل‘‘ تھا، ہے، اس لیے انھیں بنی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ یہودیوں نے 1948 ء میں ایک عالمی سازش کے تحت فلسطین پر قبضہ کرکے اسرائیل کے نام سے ایک الگ مُلک قائم کیا، جہاں انہی کی حکومت ہے۔ دوسرے مذاہب کی طرح یہودیت میں بھی بعض دنوں کو خصوصی تقدّس حاصل ہے، جن کا مختصر احوال پیشِ خدمت ہے۔
سبت(Shabbat): یہودیت اور بعض عیسائی فرقوں میں سبت عبادت کا دن ہے۔ اسے یہودیوں کے مقدّس دنوں میں سب سے اہم ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ سبت، جمعہ کے روز غروبِ آفتاب سے شروع ہو کر اگلے روز غروبِ آفتاب تک جاری رہتا ہے۔ یہ دن روایتی طور پر تین ضروری کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ غیر آرتھوڈوکس یہودیوں کے لیے جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات کا کھانا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور وہ اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ اس کھانے کا آغاز چالہ روٹی سے ہوتا ہے، جو برکت کے طور پر کھائی جاتی ہے۔ سبت کو امن اور پاکیزگی کا دن سمجھا جاتا ہے۔ اس روز روایتی طور پر اچھے کپڑے پہننے کو اہمیت دی جاتی ہے اور بعض لوگ، پاکیزگی کی علامت کے طور پر سفید کپڑے پہنتے ہیں۔ جمعے کی رات کو گھر میں موم بتیوں کو روشن کیا جاتا ہے اور صبح سویرے عبادت گاہوں کا رُخ کیا جاتا ہے، جہاں اس دن کی مناسبت سے خصوصی عبادات کی جاتی ہیں۔ نیز، سخت نظریات کے حامل یہودی اس روز تمباکو نوشی، آتش بازی، محنت مزدوری اور گاڑیوں میں سفر کرنے سے منع کرتے ہیں۔
پیساک(Pesach): پیساک کا تہوار اسرائیلیوں کی قدیم مصری غلامی سے نجات کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ہر برس عبرانی مہینے، نسان یا مارچ، اپریل میں سات روز تک اس کی تقریبات جاری رہتی ہیں۔ پیساک کی پہلی دو راتوں میں سیڈر کے کھانے کا اہتمام ہوتا ہے، جب کہ تہوار کے پہلے دو اور آخری دو دنوں میں مکمل تعطیلات ہوتی ہیں۔ ان چھٹیوں کے دَوران رات کو خصوصی طور پر موم بتیاں روشن کی جاتی ہیں۔ جس کے بعد ریڈ سمندر کی تقسیم کی یاد میں تقریب ہوتی ہے۔ پیساک کے دنوں میں سفر، لکھنے یا برقی آلات استعمال کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی اور کھانا پکانے یا باہر جانے کی بھی اجازت ہوتی ہے، جب کہ سبت کے موقعے پر ان چیزوں پر پاپندی ہوتی ہے۔
ہفتوں کا تہوار (Shavuot):شیوت، عبرانی لفظ ہے، جس کے معنی ’’ہفتوں‘‘ کے ہیں۔ یہ ایک زرعی تہوار کے طور پر شروع ہوا، لیکن اب اسے دیگر یہودی تہواروں کی طرح بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ اس موقعے پر گھروں کو پھولوں سے سجایا جاتا ہے۔ یہ تہوار پیساک کے پچاس دنوں کے بعد، سیوان (مئی،جون) کے چھٹے اور ساتویں روز منایا جاتا ہے۔ دراصل، یہ تہوار ایک طرح سے گندم کی فصل کے اختتام کا اعلان ہوتا ہے۔ شیوت کو کئی ناموں سے جانا جاتا ہے، جیسے چگ ہاساویوٹ (ہفتے کے فیسٹیول)، چگ حبیکرکر (پہلے پھل کی دعوت)۔ اس تہوار کو واقعۂ خروج سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔
سال نو (Rosh Hashanah): ’’ روش ہشنہ‘‘کے لفظی معنی’’ سال کا آغاز‘‘ کے ہیں۔ اسے یہودیوں کا نیا سال بھی کہا جاتا ہے۔ اس تہوار کا آغاز، مدّتِ استغفار سے ہوتا ہے، جس کی عبادت10 دن پر محیط ہوتی ہے۔ یہ تہوار بنیادی طور پر توبہ اور استغفار کا تہوار ہے۔ اس موقعے پر دنیا بھر کے یہودی اپنی عبادت گاہوں کا رُخ کرتے ہیں۔ اس تہوار کا اختتام، اگلے روز’’ یومِ کفارہ‘‘ پر ہوتا ہے، جو انتہائی مقدّس دن کہلاتا ہے۔ یہ تہوار، تشرے( ستمبر یا اکتوبر) کی پہلی اور دوسری تاریخ کو منایا جاتا ہے اور یہودی ایک دوسرے کو سیب اور شہد چکھا کر نئے سال کی مبارک باد دیتے ہیں۔
یوم کفارہ (Yom Kippur): یہودی کیلنڈر میں تشری کا مہینہ سب سے زیادہ مقدّس مہینہ اور یومِ کیپوریا کفارہ کا دن، سب سے مقدّس دن تصوّر کیا جاتا ہے۔ دراصل یہ یہودیوں کا یومِ عید ہے۔ اس موقعے پر 25 گھنٹوں کا روزہ رکھا جاتا ہے اور جانور کی قربانی کی جاتی ہے، جب کہ گناہوں کی بخشش کے لیے دعائیں کرنے کے ساتھ، خیرات بھی تقسیم کی جاتی ہے۔
سو کوتھ (Sukkot): عبرانی میں سوکوتھ کا مطلب’’ عارضی جھونپڑا یا چھپر‘‘ کے ہیں۔ یہ موسمِ خزاں کی فصل کی کٹائی کا تہوار ہے اور بعض دیگر مقدّس دنوں کی طرح اسے بھی واقعۂ خروج سے منسلک کیا جاتا ہے، جب اسرا ئیلی صحرائے سینا میں مارے مارے پِھرتے تھے اور سوکوتھ میں رہتے تھے۔ یومِ کفارہ کے پانچ روز بعد، تشرے کی پندرہ تاریخ کو سوکوتھ منایا جاتا ہے۔
بار متز واہ (Bar Mitzvah): بار منترواہ تہوار عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔ یہودی قانون کے مطابق، جب کوئی لڑکا یا لڑکی تیرہ برس کی عُمر کو پہنچ جائے، تو وہ اپنے اعمال کے جواب دہ بن جاتے ہیں۔ اس’’ منترواہ‘‘ کی عُمر تک پہنچنے سے قبل بچّے کے والدین ہی اُس کے اعمال کے ذمّے دار تصوّر کیے جاتے ہیں۔ اس موقعے پر خصوصی اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر’’ اصلاحی‘‘ تقاریر کی جاتی ہیں۔