آپ آف لائن ہیں
اتوار 8؍ذوالقعدہ1439ھ 22؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی سیاسی جماعت بنائی، سرفراز نواز، بہرام ڈی آواری اور قاسم ضیا نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا، سلیم ملک اور اختر رسول بھی سیاسی اکھاڑے میں اُترے‘‘

کھیل اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے،زیادہ تر کھیلوں میں سیاست کی بازگشت سنائی دیتی ہے جب کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دنیا کے متعدد کھلاڑی کھیل سے ریٹائر منٹ کے بعد ملکی سیاست میں جلوہ گر ہوئے، جن میں سے امریکی اداکار اورایتھلیٹ آرنلڈ شوازنیگرآٹھ سال تک امریکی ریاست کیلی فورنیا کے گورنر رہے ۔ کئی ممالک کے کھلاڑی پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کے بعد وزیر ، مشیر سمیت کئی اعلیٰ ملکی عہدوں پرخدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ پاکستان کے فاسٹ بالرعمران خان، جو کرکٹ میں متعدد ریکارڈ کے حامل رہے، کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے فلاحی منصوبوں پر کام کیا ، بعد ازاں سیاسی جماعت بنا کر ملکی سیاست میں وارد ہوئے ۔

قارئین کی دل چسپی کے لیے کھیل کے شعبے سے تعلق رکھنے والی متعدد ایسی شخصیات کا تذکرہ پیش کریں گے ،جنہوں نے اپنے شعبے سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور رکن صوبائی و قومی اسمبلی منتخب ہوکر وزیراورمشیرکے عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔

عمران خان پشتونوں کے نیازی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور اکرام اللہ خان نیازی کے اکلوتے فرزند ہیں ۔ ان کی والدہ شوکت خانم لاہور کی بجائےزیادہ تر میانوالی میں سکونت پذیر رہیں۔عمران خان نے ابتدائی تعلیم لاہور میں کیتھڈرل اسکول اور ایچسن کالج ، وورسسٹر اور آکسفورڈ کے کیبلے کالج میں حاصل کی۔ان کا شمارقومی ٹیم کے بہترین کھلاڑیوں میں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے 13 سال کی عمر سے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ انہوں نے اپنے کالج کی جانب سے کھیل کا آغاز کیا، بعدازاں لندن میں قیام کے دوران وہ، وورسسٹر شائر کرکٹ کلب کا حصہ بن گئے۔ 

آکسفورڈ سے گریجویشن کرنے کے بعد 1976ء میں وہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے اور1992ء تک ٹیم کا حصہ رہے۔ 1982ء سے 1992ء تک انہوں نے پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔ 1992ء میں پاکستان ان کی قیادت میں کرکٹ کا عالمی چیمپئن بنا۔ 1992ء میں انہوں نےاپنے عروج کے زمانے میںکھیل سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ 1991ء میں اپنی والدہ کی یاد میں ایک کینسر اسپتال کی تعمیر کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم کا آغاز کیا ۔1994ء میں اس رقم سے انہوں نےلاہور میں شوکت خانم میموریل اسپتال کے نام سے ایشیا میں کینسر کا سب سے بڑا اسپتال بنایا۔ دوسرا اسپتال 2015ء میں پشاور میں بنایا گیا۔ 1992ء میں انہیں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز دیا گیا۔ 

1975ء میں برطانیہ کے ارب پتی تاجر گولڈ اسمتھ کی صاحب زادی جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ وہ رشتہ ازواج میں منسلک ہوگئے۔ اپریل 1996ء میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی اور ملک میں ایک قومی سیاسی رہنما کے طور پر عوام کے سامنے آئے۔ ان کی جماعت نے 1997ء کے عام انتخابات میں حصہ لیالیکن کوئی نشست نہ جیت سکی۔ 2002ء کے انتخابات میںعمران خان میانوالی سے انتخاب لڑے اور انہوں نے قومی اسمبلی کی ایک نشست حاصل کی، جو ان کی جماعت کی واحد نشست تھی۔ 2008ء کے انتخابات میں تحریک انصاف انتخابی عمل سے باہر رہی۔

اکتوبر 2007ء میں ’’آل پارٹیز موومنٹ ‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس کے وہ فعال رکن تھے۔ 6اکتوبر 2007کو جنرل پرویز مشرف کے بغیر وردی اتارے صدارتی انتخاب لڑنے کے فیصلے کے خلاف وہ احتجاجاً 85ارکین اسمبلی کے ہم راہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔ 3نومبر کو مشرف حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ، عمران خان کو ان کے گھر میں نظربند کردیا گیا لیکن وہ سیکورٹی اہل کاروں کو چکمہ دے کروہاں سے فرار ہوکر روپوش ہوگئے۔ 

14نومبر کو اچانک انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک احتجاجی جلسے میں شرکت کی۔ 30اکتوبر 2011کو انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے لاہور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیااور وہاں پہلی مرتبہ ’’سونامی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جو 2013ء کے عام انتخابات کی تیاریوں کا حصہ تھا۔

2013ء میں ان کی جماعت نے بھرپور طریقےسے انتخابات میں حصہ لیا ،جنرل نشستوں پر 28، خواتین کی نشستوں پر 6 اور ایک اقلیتی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ مجموعی طور سے ان کی جماعت نے قومی اسمبلی کی 35 نشستیں جیتیں۔ عمران خان ،دوسری مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ 2013ء کے انتخاب کے نتیجے نے ان کی جماعت پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ عوامی رائے دہی کے نتیجے میں تحریک انصاف ،ملک کی دوسری بڑی اکثریتی جماعت کی حیثیت سے سیاسی افق پر ابھری۔ وہ 2013ء سے 2018ء تک قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی کی جانب سے پارلیمانی قائدکا کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی جماعت نے خیبر پختون خوا میں اکثریت حاصل کرکےبعض جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔اب 25جولائی 2018کو عام انتخابات میں وہ بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

اختر رسول

کھیل کے میدان سے سیاست تک

کھیل سے سیاست تک سفر کرنے والوں میں ہاکی کے سابق اولمپئن اختر رسول بھی شامل ہیں۔ چوہدری اختر رسول ،ہاکی کے معروف کھلاڑی اور کپتان رہے ہیں۔ ان کے والد چوہدری غلام رسول بھی ہاکی کے بہترین کھلاڑی تھے جو 1956ء سے 1963ء تک پاکستان ہاکی ٹیم میں شامل رہے اور 1956ء کے میلبورن اولمپکس، روم اولمپکس اور ایشین ہاکی مقابلوں میں حصہ لیا۔اختر رسول کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ہاکی ورلڈ کپ کے چار ٹورنامنٹس میں شرکت کی تھی۔ 

کھیل میں بہترین کارکردگی پر 1983ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 1985ء میں انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں غیر جماعتی انتخابات سے ملکی سیاست میں حصہ لیا اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ کر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1986ء میں انہیں پنجاب کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ 1988ء کے عام انتخابات میں انہوں نے پی پی 128 اچھرہ سے اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور جیتنے کے بعد پنجاب کے وزیر کھیل بنے۔ 1990ء کے عام انتخابات میں انہوں نے دوبارہ اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے جیت کر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 

1993ء میں انہوں نے مسلم لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا اور ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1997ء میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر دوبارہ انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ 1999ء میں میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد وہ مسلم لیگ ق میں شامل ہوگئے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ پر حملہ کیس کی وجہ سے وہ انتخابی سیاست سے نااہل ہونے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہ لے سکے۔ اختر رسول پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جو 5 مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر رہے۔

بہرام ڈی آواری

کھیل کے میدان سے سیاست تک

بہرام ڈنشا جی آواری پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت ہونے کے ساتھ کراچی پارسی انجمن کے صدربھی ہیں۔ لیکن وہ کاروبار کے ساتھ کھیل اور ملکی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔وہ ملک کے معروف پیراک اور کشتی رانی کے کھیل سے منسلک تھے اورکھیل میں کئی میڈلز حاصل کیے۔1976ء اور 1980ء میں کراچی یاٹ کلب میں ’’کموڈور ‘‘کے عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے 1978ء میں بنکاک میں ہونے والے ایشین گیمز میں کشتی رانی کے مقابلوں میں منیر صادق کی پارٹنر شپ میں پاکستان کے لیے سونے کا تمغہ جیتا۔ 

1982ء میں وہ نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ایشین کھیلوں کے مقابلے میں پاکستان ٹیم کی طرف سے اپنی اہلیہ گوسپی کے ساتھ شریک ہوئے اور ملک کے لیے دوسرا طلائی تمغہ جیتا۔ 1978ء میں کینیڈا میں منعقدہ کشتی رانی کی عالمی چیمپئن شپ میں وہ نقرئی تمغہ جیت کر دوسرے نمبر پر رہے۔

دسمبر 1981میں جب صدر ضیاء الحق نے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ’’مجلس شوریـ‘‘ بنائی تو بہرام ڈی آواری کو پارسی برادری کی نمائندگی کے لیے اس کی رکنیت دی گئی۔1988 کے عام انتخابات میں وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ بنے ۔اس وقت وہ کینیڈا کے اعزازی قونصلرجنرل ہیں۔

سرفراز نواز

کھیل کے میدان سے سیاست تک

سرفراز نواز کا شمار بھی پاکستان کے ان کرکٹرز میں ہوتا ہے جنہوں نے کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کا رخ کیا۔انہیںکرکٹ میں ریورس سوئنگ کا موجد کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1969ء میں ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کراچی ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ ان کی سوئنگ گیندوں سے مخالف ٹیم کے بلے باز ہراساں رہتے تھے۔ 1978ء میں ان کی تیز بالنگ سے گھبرا کر بھارتی ٹیم میدان چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ 1985ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں انہوں نے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا اور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسی سال انہیں پنجاب اسپورٹس بورڈ کا وائس چیئرمین بنادیا گیا ۔

1988ء میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر انہیں ضمنی انتخاب لڑنے کا موقع فراہم کیا جائے تو وہ جیت سکتے ہیں۔ پارٹی کی طرف سے انہیں ضمنی انتخاب کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا گیا اور وہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوگئے۔سرفراز نوازدو مرتبہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں کھیلوں کے مشیر رہے لیکن ان کی سیاست کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی۔ فروری 2011ء میں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ 2013ء میں انہیں صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا لیکن آشوب چشم کے عارضہ کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نے لے سکے۔اب وہ سیاست میں نظر نہیں آرہے۔

قاسم ضیاء

کھیل کے میدان سے سیاست تک

اولمپین قاسم ضیاءدنیائے کھیل کی ایسی شخصیت ہیں، جنہوں نے قومی ہاکی ٹیم سے شہرت حاصل کی، ریٹائرمنٹ کے بعد ملکی سیاست میں حصہ لیا اور کئی حکومتی عہدوں پر براجمان رہے ۔ 1997ء میں وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور 1997ء سے 2001ء تک سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ 2001ء سے 2007ء تک وہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور 2007ء میں انہیں ممبر سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی مقرر کیا گیا۔2002ء کے انتخابات میں وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کیا۔ 

2008ء کے ضمنی انتخابات میں وہ دوبارہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ان کا تعلق ایک سیاسی خانوادے سے ہے، ان کے والد کے چچا میاں امیر الدین اور کزن خواجہ طارق رحیم گورنر پنجاب رہے ہیں۔ ان کے دادا میاں امین الدین لاہور کے پہلے میئر تھے۔ چچا، میاں صلاح الدین ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی وزیراور میاں یوسف صلاح الدین 1988-90ء کے دوران رکن صوبائی اسمبلی رہے ہیں۔قاسم ضیاء کو اکتوبر 2008ء میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا 23واں صدر مقرر کیا۔ قاسم ضیاء کی کھیل اور سیاست میں خدمات پر 2014ء میں صدر پاکستان نے ستارہ امتیاز سے نوازا، اس سے قبل 2011ء میں قاسم ضیاء کو تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا۔

سلیم ملک

کھیل کے میدان سے سیاست تک

سلیم ملک کا شمار پاکستان کے باصلاحیت بلے بازوں میں ہوتا ہےاور وہ قومی کرکٹ ٹیم کے بہترین کھلاڑی رہے ہیں جنہوں نے اپنے 17سالہ کرکٹ کیرئیر میں کئی ریکارڈ قائم کیے۔ 1982ء میں سری لنکا کے خلاف اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں انہوں نے سینچری اسکور کرکے دنیا کے سب سے کم عمر سنچری بنانے والے بلے باز کا اعزاز حاصل کیا۔ 25جولائی 2017کوسلیم ملک نے لاہور میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما،چوہدری پرویز الہٰی سے ملاقات کی اور ق لیگ میں باقاعدہ شمولیت کے ساتھ ملکی سیاست میں قدم رکھنے کلا اعلان کیا۔اس موقع پر چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ سلیم ملک ایک بہترین کرکٹر تھے اور امید ہے کہ مستقبل میں وہ ایک بہترین سیاستدان بھی ثابت ہوں گے-

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں