• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسے وقت میں کہ جب ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ایک بار پھر عروج پر ہے، واپڈا کی جانب سے قوم کو پانی سے بجلی کی پیداوار کے اہم منصوبے نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ کی مکمل فعالیت کی بابت آگاہی دینےسے توقع ہے کہ بجلی بحران پر بڑی حد تک قابو پانے میں مدد ملے گی۔ بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے چاروں یونٹ اس وقت اپنی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق نیشنل گرڈ کو 969میگا واٹ بجلی مہیا کر رہے ہیں۔242اعشاریہ25 میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت کے حامل مذکورہ یونٹوں کو مرحلہ وار مکمل کیا گیا۔ منصوبے کےپہلے یونٹ سے اپریل میں بجلی کی پیداوار شروع ہوئی تھی جبکہ باقی تین یونٹ تقریباً ایک ایک ماہ کے وقفے سے آپریشنل کئے گئے، چوتھا اور آخری یونٹ منگل کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا گیا۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں دریائے نیلم پر تعمیر کئے گئے جدید انجینئرنگ کے حامل اس پن بجلی کے منصوبے کا 90 فیصد حصہ زیر زمین ہے جبکہ پروجیکٹ کے اہم حصوں میں نوسیری کے مقام پر تعمیر کیا گیا ڈیم، 52کلومیٹر طویل سرنگوں پر مشتمل زیر زمین واٹر وے اور چھتر کلاس کے مقام پر زمین کے اندر بنایا گیا پاور ہائوس شامل ہیں۔ تکنیکی ماہرین کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ جہاں قومی نظام کو سالانہ اوسطاً 5ارب یونٹ بجلی فراہم کرتے ہوئے ملک میں بجلی کی رسد و طلب پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا وہیں دوسری جانب اس منصوبے کے فوائد کا تخمینہ لگ بھگ 55 ارب روپے سالانہ ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بجلی اور گیس کے بحران سےملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کئی صنعتیں لوڈشیڈنگ اور ایندھن نہ ملنے سے بند ہوگئیں جبکہ اس مسئلے کے حل کیلئے بارہا حکومتی سطح پر مختلف منصوبے بھی شروع کئے گئے لیکن افسوس کہ کوئی بھی منصوبہ طویل المدتی فوائد بہم پہنچانے میں ناکام رہا۔ اس لئے عوام امید کرتے ہیں کہ مذکورہ منصوبے کی افادیت جلد سامنے آئے گی اور ان کو لوڈشیڈنگ کے عذاب مسلسل سے نجات ملے گی۔


اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین