لاہور( نمائندہ جنگ )جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے اپیل پر ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کیخلاف دینی جماعتوں نے ملک بھر میں یوم احتجاج منایا ، مساجد میں علماء نے احتجاجی قرار داد یں منظور کرائیں جس میں ہالینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر نے اور سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیااور اس عمل کو عالم اسلام کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا گیا۔لاہور پریس کلب کے باہر جے یو آئی نے ا حتجاجی مظاہر ہ کیا جس کی قیادت جے یو آئی کے ڈپٹی سیکر ٹری جنرل مولانا محمد امجد خان نے کی۔ انہوں نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گستاخانہ خاکوں کامقابلہ سے ہالینڈ کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یو این او تماشا دیکھنے کے بجائے قانون بنائے جس میں ہر پیغمبر کی شان میں گستاخی کو جرم اور اس کی سزا موت مقرر کرے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی مذمتی قرار منظور کرے اور حکومت ہالینڈ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرے اور ہالینڈ کے سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کیا جائے ۔گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کرانے والے عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔وہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ مسلمان ہر بات کو برداشت کر سکتا ہے لیکن گستاخی برداشت نہیں کر سکتاانہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو اس حوالے سے کردار ادا کر نے کے لیئے فوری جرأت مندانہ مؤقف دنیا کے سامنے لانا چاہیے ۔مولانا عزیزالرحمن ثانی ،مولانا محب النبی ،حافظ اشرف گجر نے کہاکہ اسلامی ممالک خاموشی توڑیں اور جرأت مندانہ مؤقف اختیار کریں انہوں نے کہاکہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے اعلان نے عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کیا ہے انہوں نے کہاکہ یو این او اور عالمی ادارے ان باتوں کا سختی سے نوٹس لیں ۔ جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کے زیر اہتمام ہالینڈکی طرف سے اسلام دشمن اقدامات اور توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے خلاف لاہور میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، جمعہ کے اجتماعات میں علماء نے تحفظ ناموس رسالت کے موضوع پر خطابات کئے اور مذمتی قراردادیں منظور کیں ۔سگیاں چوک میں جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید محمد صفدر شاہ گیلانی ،بھاٹی چوک میں علامہ محمد اصغر نورانی ، مغلپورہ میں سید شاہد گردیزی ، چونگی امر سدھو علامہ ذوالفقار حیدری ، شاہدرہ میں مفتی محمد ارشد قادری ، سمن آباد میں علامہ نعیم جاوید نوری ، ہنجروال میں علامہ محمد یوسف، فیروز والا میں مولانا زوار حسین مہاروی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روشنی خیالی کے نام پر توہین قابل قبول نہیں ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں مگر توہین کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے ایک منظم سازش کے تحت دنیا بھر کے امن کو تباہ کرکے انتشار اور فساد پھیلایا جا رہا ہے اسلام امن اور محبت کا دین ہے انہوںنے کہا کہ اب مغرب کا سورج ڈوب چکا ہے اور اسلام کا سورج دنیا میں اپنی روشنی بکھیر رہا ہے علماء نے مطالبہ کیا کہ نئی منتخب پارلیمنٹ غیرت ایمانی کا مظاہرے کرتے ہوئے ہالینڈ کے سفیر کو ملک بدر کریں اور اپنا سفیر واپس بلوا کر ہالینڈ سے سفارتی ،معاشی تعلقات ختم کئے جائیں ۔ جماعت ةالدعوۃ پاکستان کی اپیل پرملک بھر میں خطبات جمعہ میں اسے موضوع بنایا گیا۔ اس دوران مذمتی قراردادیں پاس کی گئیں اور مسلم حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تمام بین الاقوامی فورمز پر اس معاملہ کو اٹھائیں اور عالمی سطح پر گستاخی کی اسلامی شریعت کے مطابق سزا کا قانون پاس کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ دفاع پاکستان کونسل اور جماعت الدعوۃ ة کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے جامع مسجد قبا اسلام آباد میں خطبہ جمعہ کے دوران کہاکہ مسلم حکمران ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے اعلان پر عمل درآمد روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔مولانا امیر حمزہ نے خطبہ جمعہ کے دوران کہا کہ گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانے کا اعلان بدترین دہشت گردی ہے۔ مسلم دنیا اس کا نوٹس لے ۔ ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہاکہ گستاخ رکن پارلیمنٹ کو حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے چیئرمین محمد یعقوب شیخ، مولانا محمد یوسف طیبی، حافظ طلحہ سعید، انجینئر نوید قمر، جماعت الدعوۃ لاہور کے مسؤل ابو الہاشم ربانی،شیخ فیاض احمد، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی،فیصل ندیم ، احسان اللہ، عبداللہ احمدو دیگر نے ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانے کے اعلان کو تہذیبوں کا تصادم بھڑکانے کی خوفناک سازش قرار دیا ۔