• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنی ذات و کردار کی تعمیر کا نام اسکاوٹنگ ہے‘پروفیسر جاوید اختر

کوئٹہ(اسٹا ف رپورٹر)اسکاوٹنگ کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو ایسی مدد فراہم کرنا ہے کہ وہ اپنے مکمل جسمانی، ذہنی، روحانی اور سماجی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے ایک بہترین فرد اور ذمہ دار شہری بن کر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا موثر کردار اور اصلاح معاشرے کے لئے کام کر سکیں ۔ یہ بات ہیلپرز اسکول و کالج کے پرنسپل پروفیسر جاوید اختر نے ہیلپرز اسکول کے زیر اہتمام ہنہ اوڑک میں لگائے گئےا سکاوٹ کیمپ کے دورے کے موقع پر طلبا و اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ،یونٹ لیڈر بشیر احمد خلجی ‘ ٹروپ لیڈر احسن علی بٹ،اور اسسٹنٹ ٹروپ لیڈرثاقب احمد نے انھیں بریفنگ دی ،پروفیسر جاوید اختر نےکہا کہ اگر ایک جملہ میں اسکاوٹنگ کا مفہوم سمجھنا ہو تو یوں کہہ سکتے ہیں " اپنی ذات و کردار کی تعمیر کا نام اسکاوٹنگ ہے"یہ وہ سائنس آف آوٹنگ ہے جس میں ایک سکاوٹ اپنی شوق سے ایسی تمام مہارتیں سیکھتا ہے جس سے وہ خود کو نہ صرف عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیتا ہے بلکہ وہ ملک و قوم کے لئے بیش بہا خدمات انجام دینے کے قابل بھی ہو جاتا ہے ۔ اسکاوٹنگ ایک کھیل ہے جو بیرونی فضا میں کھیلا جاتا ہےیک وقت تھا جب تقریبا ہر ایک سکول میں سکاوٹ کیمپ ، ابتدائی طبی امداد ، آگ بجھانے کے طریقے، مریض کو بغیر سٹریچر کے لے کر جانا۔ وغیرہ وغیرہ کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ کالج کیسطح پر این سی سی لیکن جیسے جیسے اس کی ضرورت بڑھتی گئی یہ سب ختم ہوتا گیا۔ سکاوٹس کیمپ ایک خیمہ بستی ہے جہاں سے بہت سیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو اس سرگرمی میں ضرور شریک کیا جائے۔ تاکہ بچے میں اب سے ہی ملک سے محبت ، ادب اور ڈسپلن پیدا ہو جائے اور ایک محب وطن بن کر سوچے۔ انھوں نے کہاکہ سکاؤٹس کیمپ میں ہائیکنگ، ٹریکنگ، کوکنگ، خیمہ لگا نا وغیرہ وغیرہ میں مقابلہ کروایا جا تاہے تاکہ سکاؤٹس میں سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ پیدا ہو۔سکاؤٹ کیمپ ایک تربیت گاہ بھی ہے اور بچوں کی سیر بھی۔بلکہ میں تو مشورہ دوں گا کہ سکاؤٹ کے مختلف ایگزام میں بچوں کو شامل کیا جائے تاکہ ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو، وقت آنے پر یا پھر اسی سکاؤٹس کیمپ میں رضاکارانہ طور پر اپنا رول ادا کر سکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محب وطن، معاشرے کا مدد گار اور قوم کا معمار بنائےسکاؤٹس کیمپ ایک بہترین تربیت گاہ ہے۔ سکاؤٹ کی ٹریننگ (تربیت) ایک فوجی ہی کی طرح ہوتی ہے وقت پڑنے پر فوج کے ساتھ شانہ بہ شانہ اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے اور ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے۔ سکاؤٹ کا وعدہ ”میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پاکستان کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی، دوسروں کی مد د اور سکاؤٹ قانون کی پابندی میں اپنی پوری کوشش کروں گا“بوائے سکاؤٹ کاقانون،سکاؤٹ قابل اعتماد ہوتا ہے،اسکاؤٹ وفادار اور فرمانبردار ہوتا ہے ،اسکاؤٹ خوش اخلاق اور مدد گار ہوتا ہے،اسکاؤٹ ہر ایک دوست اور ہر سکاؤٹ کا بھائی ہوتا ہے، اسکاؤٹ مہربان اور بہادر ہوتا ہے،اسکاؤٹ کفایت شعار ہوتا ہے،اسکاؤٹ پاکیزہ اور ہنس مکھ ہوتا ہے۔ اس وعدہ میں وہ ساری چیزیں آگئی ہیں جس کی ملک و ملت کی ضرورت ہوتی ہے انھوں نے کہاکہ قومی تہواروں کے موقع پر یا حکومت پاکستان کی طرف سے رکھی جانی والی کسی بھی تقریب میں سکاوٹس کے رضاکار ہمیشہ ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔
تازہ ترین