آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ انٹرنیٹ پر خریداری کے متعلق آپ سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔امید ہے، رہنمائی فرمائیں گے۔(حفیظ الرحمٰن ،کشمیری،یوکے)

جواب:۔ انٹرنیٹ پر خریداری کے مختلف طریقے ہیں ۔عام اورمشہور طریقہ یہ ہے کہ بائع (بیچنے والا)اپنی مصنوعات کی تصاویر اور تمام تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر یا اپنے پیج پر ظاہر کردیتا ہے۔ویب سائٹ یا پیج دیکھنے والا اشیاء کو دیکھ کراپنی مطلوبہ شے پر کلک کرکےاس شے کو خریدنے کا اظہار کرتا ہے۔رقم کی ادائیگی کےلیے مختلف طریقۂ کار اختیار کیے جاتے ہیں ،کبھی ادائیگی ڈیلیوری پر کی جاتی ہے یعنی جب مبیع (بیچی جانے والی چیز)مقرر ہ جگہ پر پہنچا دی جاتی ہے تو خریدار رقم ادا کریتا ہے اور بعض دفعہ ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جاتی ہے، بائع مشتری کا کریڈٹ کارڈ نمبر حاصل کرکے بینک کو بھیجتا ہے اور وہاں سے اپنی رقم وصول کرلیتا ہے۔ مبیع کی ادائیگی بعض اوقات کسی کوریئر سروس کے ذریعے کی جاتی ہے اوربعض اوقات کمپنی خود یہ کام کرتی ہے۔ضروری نہیں کہ مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو، بلکہ وہ وہ آرڈر ملنے پر اشیاء کا انتظام کرتا ہے اور مشتری کے پتے پر یہ اشیاء ارسال کرتا ہے۔اس طریقے پر خریداری کے لیے چندعمومی باتوں کاخیال رکھنا ضروری ہے:

1۔ انٹرنیٹ پرسوناچاندی یا کرنسی کی خریدوفروخت ہو تو بیع صرف کے احکام کی رعایت لازم ہوگی۔

2۔ پروڈکٹ اور قیمت سے متعلقہ امور تمام کی وضاحت ہو۔

3۔ کوئی بھی شرط فاسد نہ لگائی گئی ہو۔

4۔ صرف تصویر دیکھنے سے خیارِ رؤیت (دیکھنے کا اختیار)ساقط نہ ہوگا، لہٰذا اگر مبیع تصویر کے مطابق نہ ہو تو مشتری کو واپس کرنے کا اختیار ہوگا۔

5۔ کوئی ایسی شے فروخت نہ کی جائے جو بوقت معاہدہ فروخت کنندہ کے قبضے میں نہ ہو۔

6۔ اگر ویب سائٹ والے آرڈر ملنے پر کسی اور جگہ سے چیز مہیا کرتے ہوں تو صارف کو اس وقت تک نہ بیچیں ،جب تک چیز ان کے قبضے میں نہ آجائے، البتہ وہ خریدار کے وکیل کے طورپر معاہدہ کرسکتے ہیں۔

7۔ ویب سائٹ پر اشیاء بیچنے والے کو چاہیے کہ ادائیگی کےلیے کریڈٹ کارڈ کا آپشن دینے کے بجائے صرف ڈیبٹ کارڈ یا ڈیلیوری پر ادائیگی کا آپشن دے، تاکہ کریڈٹ کارڈ کے بارے میں علماء کے اختلاف کی رعایت ہوجائے، کیونکہ علماء کی ایک جماعت کے نزدیک کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز نہیں،اگرچہ وقت مقررہ کے اندر ادائیگی کردی جائے اورسود دینے کی نوبت نہ آئے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں