آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: جانوروں میں جس کی ماں مرجائے ،وہ یتیم ہے ،انسانوں میں جس کا باپ مرجائے ،وہ یتیم کہلاتاہے ،انسانوں میں جس کی ماں مرجائے ،وہ کیاکہلاتاہے ؟،(قاضی محمد اشرف ،کراچی )

جواب: لغت کی معروف کتاب ’’المنجد ‘‘ میں ہے: ترجمہ:’’جس بچے کا باپ فوت ہوجائے اور وہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا،وہ یتیم ہے‘‘۔اور جانوروں میں ماں فوت ہوجائے ،توبچہ یتیم ہے ، (ص:923) ‘‘۔علامہ ابوحیان محمد بن یوسف اندلسی لکھتے ہیں:ترجمہ: ’’اوربنی آدم میں یتیم وہ ہے جو باپ سے محروم ہوجائے اور یہ مذکر اور مونث(یعنی بیٹا بیٹی) دونوں کو شامل ہے اور بچے کے بالغ ہونے پر اس پر یتیم کا اطلاق نہیں ہوتا ،اگرہوتا بھی ہوتو مجازاً ہے۔بالغوں پر جو یتیم کا اطلاق ہوتا ہے ،وہ باعتبار ماضی کے ہوتا ہے (یعنی بالغ ہونے کے بعد وہ حقیقت میں یتیم نہیں رہتا)، (البحر المحیط، تفسیر سورۃ النساء، آیت:6)‘‘۔

جانوروں کی نسل کا مدار ماں (یعنی مادہ)پر ہوتاہے ،لہٰذا جانوروں کے لیے ماں کے گم /فوت ہونے پر اسے یتیم شمار کیاجاتاہے ۔اسلامی تعلیمات کے مطابق باپ کفیل ہوتاہے ، اس لیے اس کی وفات سے بچہ کفیل سے محروم ہوجاتا ہے اور ماں شفیق ہوتی ہے ،اس لیے ماں کی وفات سے انسان مادری شفقت سے محروم ہوجاتاہے ۔یتیم کی فقہی تعریف وہی ہے،جو اوپر بیان ہوئی ،البتہ ہمارے عرف میں جس کی ماں فوت ہوجائے ،اسے بھی یتیم کہتے ہیں اور وہ بھی اس بات کا حق دار ہے کہ اس کے سر پر دستِ شفقت رکھاجائے ۔ علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں: ’’انسانوں میں یتیم اس شخص کو کہتے ہیں ،جس کا باپ بچپن میں فوت ہوگیاہو اور حیوانات میں یتیم اس کو کہتے ہیں ،جس کی ماں بچپن میں فوت ہوگئی ہو اور بعض اہلِ لغت یتیم اس شخص کو کہتے ہیں ،جس کے ماں باپ دونوں فوت ہوگئے ہوں ،(تبیان القرآن ،جلد12،ص:758)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں