آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

3 اپریل 1979سے قبل گڑھی خدا بخش بھٹو، گائوںمیں واقع بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان کے بارے میں زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے،جب سابق وزیر اعظم پاکستان، ذوالفقار علی بھٹو کو وہاں دفنا یا گیا، تو گویا اس قبرستان کو ملک گیر شہرت حاصل ہو گئی۔ ابتدا میں یہ قبرستان ایک قدیم مسجد کے پہلو میں قائم تھا، بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں قبرستان کے قریب ایک نئی مسجد تعمیر کرائی ، وہ باقاعدگی سے ہر عید کی نماز اسی مسجد میں ادا کرتے تھے ۔’’گڑہی خدا بخش بھٹو ‘‘پانچ ، چھ ہزار کچے پکے مکانات پر مبنی ایک گائوں ہے،جو ذوالفقار علی بھٹو کے دادا کے نام سے منسوب ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جب اپنے والد کی وفات کے بعد ان کی یاد میں مقبرہ بنانے کا فیصلہ کیا ، تو اس وقت کے معروف و ماہر سنگ تراش ، سید مہتاب علی کو اس کام کی ذمے داری دی گئی تھی، جن کا خاندان تقسیم ہند سے قبل بھی اس کام کا ماہر سمجھا جاتا تھا، ان کے کزن سید نواب علی مرحوم کو ان کے اعلیٰ کام کی بہ دولت ملکہ ٔ و کٹوریہ نے تعریفی سند سے بھی نوازا تھا۔ اسی طرح گڑہی خدا بخش بھٹو کے کچے پکے قبرستان میںماہرین کی نگرانی میں پہلا مقبرہ سر شاہ نواز بھٹو کا تعمیر کر ایا گیا۔ ان کے مقبرے کی خوب صورتی ،دراصل وہ بارہ دری ہے ، جسے نہایت نفاست سے بنایا گیا تھا ،اس زمانے میں مشینوں سے زیادہ ہاتھ کا کام ہوتا تھا،جو زیادہ محنت طلب تھا، مگر یہ کام آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ 

ابتدامیں بھٹو خاندان کا آبائی قبرستان تقریباً ایک ہزار گز اراضی پر مشتمل تھا۔ بھٹو خاندان سے عقیدت کی وجہ سے روزانہ کئی افراد مقبرے پر جاتے ہیں،بالخصوص ان کی برسی اور سالگرہ کے مواقع پر یہ تعداد بہت بڑھ جاتی ہے۔گڑہی خدا بخش میں دوسرا مقبرہ ذوالفقار علی بھٹو کا تعمیر کیا گیاتھا، جس کا خاکہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے منظور کیاتھا ۔ محترمہ کی خواہش کے مطابق جب مقبرہ بنانے کا کام شروع کیاگیا،تو ابتدائی نقشے سے وہ مطمئن نہیں تھیں۔ وہ یہاں ایک میوزیم اور لائبریری وغیرہ بھی قائم کرنا چاہتی تھیں۔ لہٰذا بھٹو شہید کے مقبرے کی تعمیر کے سلسلے میں ان ہی ماہرین سے رجوع کیا گیا، جنہوں نے پہلے سر شاہ نواز بھٹوکا مقبرہ تعمیر کیا تھا ، انہی کے مقبرے کی طرح وہاں بھی بارہ دری تعمیر کی گئی۔ یہ بارہ دری مربع شکل میں 14فیٹ لمبی اور 14فیٹ چوڑی ہے، جب کہ اس کی اونچائی گیارہ فیٹ ہے۔ اسے بنانے میں ایک خاص قسم کا مہنگا پتھر وہائٹ ماربل استعمال کیا گیا ہے۔اس لحاظ سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا مقبرہ فن تعمیرات کا ایک نادر و نایاب نمونہ بھی ہے۔ یہ مقبرہ 3 برس کی مدت میں مکمل ہوا، پتھروں کی کٹائی اور پالش کا کچھ کام کراچی اور کچھ گڑہی خدا بخش میںمکمل کیا گیا،بعد ازاں اس کی فٹنگ کا مرحلہ بھی خاصا طویل تھا،جو تین ماہ کی لگا تار محنت کے بعد اپنے اختتام کو پہنچا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی قبرچار حصوں پر مشتمل ہے، پہلا حصہ سادے ماربل سے بنا ہوا ہے، جب کہ دوسرے حصہ، جو تقریباً چھ انچ لمبا ہے ، اس پر سنگ تراش نے ہاتھ سے پھول پتیاں نہایت خوب صورتی سے بنائی ہیں، جسے سنگ تراشی کی زبان میں ’’غلطہ‘‘ کہتےہیں۔ پھول پتیوں کے غلطے کے بعد تیسرا حصہ صرف پتوںکی بناوٹ کا ہے ، جس میں پھول نہیں بنے ہوئے۔ یہ سلسلہ بھی ایک فیٹ طویل ہے،جب کہ اوپری اور آخری حصے پر تقریباً ایک فیٹ پر آیت الکرسی ابھری ہوئی ہے۔ قبر کا ڈیزائن سید محبوب علی نے خود ترتیب دیا تھا۔

گڑہی خدا بخش میں،ذوالفقار علی بھٹو کی ہمشیرہ ملک جہاں بھی دفن ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قبر کے دائیں جانب قدرے فاصلے پران کے صاحب زادے شاہنواز بھٹو کو بھی سپر دخاک کیا گیا ہے۔میر مرتضیٰ بھٹوکوشاہنواز بھٹو کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔ گڑہی خدا بخش کے اس قبرستان میںدسمبر 2007 ء کو ایک اور عظیم شخصیت کی قبر کااضافہ ہو ا۔ شہید بینظیر بھٹو کی شہادت سے قبل بھی شہید بھٹو کے مزار پر روزانہ متعدد عقیدت حاضری دیتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقعے پر 4اپریل آنے سے چند دن قبل ہی وہاں چہل پہل شروع ہوجاتی ہے، اسٹالز لگائے جاتے ہیں، عارضی ہوٹل بھی قائم کیے جاتے ہیں،لیکن اگروہاں مستقل طور پر ہوٹلوں کا قیام عمل میں آجائے، تو زائرین دور سے آنے والوں کو بھی آسانی ہوجائے گی۔گڑھی خدا بخش کا یہ قبرستان کیوں کہ اب گڑھی خدا بخش کا تاریخی قبرستان، ایک ورثے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں