آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلزار محمد خان

پاکستان تحریک انصاف قیادت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے مشکل مرحلہ کے بعد اب 15رکنی صوبائی کابینہ کا بھی اعلان کردیا گیا ‘وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں شامل مضبوط امیدوار عاطف خان کو صوبہ کا سینئر وزیر بنایا گیا ہے، اعلان کردہ 15رکنی کابینہ میں پہلے 12وزراء،2مشیر اور ایک معاون خصوصی شامل تھے تاہم ضلع بنوں سے منتخب شاہ محمد خان وزیر نے معاون خصوصی کا عہدہ لینے سے انکار اور پارٹی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے شدید ناراضگی کا اظہار کیا چنانچہ قیادت نے پارٹی کو اختلافات اور گروپ بندی سے بچانے کیلئے شاہ محمد وزیر کو وزیر اعلیٰ محمود خان کے ہمراہ اسلام آباد طلب کرکے معاون خصوصی سے مشیر کے عہدہ پر ترقی دی جس کے بعد شاہ محمد خان احتجاج ختم کرکے رام ہوگئے، صوبائی کابینہ کی عین حلف برداری کے موقع پر نامزد صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش سے وزارت واپس لیکر انہیں معاون خصوصی بنایا گیا جس کے باعث حلف برداری تقریب میں شرکت کے باوجود کامران بنگش نے حلف نہیں اٹھایا ، گویا اگر دیکھا جائے تو انتخابات کے فوراً بعد تحریک انصاف کی صفوں میں جو اختلافات پیدا ہوئے ہیں وہ تاحال جاری ہیں، ان اختلافات کا سب سے بڑا مظاہرہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتخاب کے مرحلہ پر دیکھنے میں آیا تھا جب پارٹی واضح طور پر دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی تھی اگرچہ صوبہ کی وزارت اعلیٰ کیلئے عاطف خان سب سے زیادہ فیورٹ قرار دئیے جانے لگے تھے مگر سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے’’ گروپ‘‘ نے عین موقع پر عاطف خان کا سارا معاملہ بگاڑ دیا اور یوں عاطف خان یقینی کامیابی سے محروم ہوگئے اور قرعہ فال پرویز خٹک کے نامزد کردہ محمود خان کے نام نکلا ، اس کے بعد کابینہ کے معاملے پر اختلافات کی بدولت مسلسل تاخیر ہوتی رہی کیونکہ دونوں گروپ زیادہ سے زیادہ اپنے لوگوں کو کھپانے کی کوشش کررہے تھے تاہم اگر دیکھا جائے تو ان اختلافات کی وجہ سے دونوں گروپوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ ایک طرف پرویز خٹک کے قریب سمجھے جانے والے سابق صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکاخیل اور خلیق الزمان کابینہ کا حصہ بننے سے محروم رہے تو دوسری طرف عاطف خان کو بھی کوئی بھاری بھرکم محکمہ کی بجائے سیاحت کا محکمہ حوالے کیا گیا، اگر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے آنیوالے دنوں میں اختلافات پر قابو پانے کی سنجیدہ کوششیں نہ کیں تو دو تہائی اکثریت رکھنے کے باوجود اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، دوسری طرف اگر صوبہ کی اپوزیشن کے معاملات کا جائزہ لیا جائے تو اس کی صفوں میں بھی ابھی تک مکمل ہم آہنگی نظر نہیں آرہی ہے چنانچہ ابھی تک اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کا مرحلہ طے نہیں پاسکا کیونکہ خود جمعیت علماءاسلام(ف) کے اندر اس سلسلے میں اختلاف رائے پیدا ہونے کے بعد براہ راست صوبائی قیادت نے مداخلت کرتے ہوئے گزشتہ دور میں قائد حزب اختلاف رہنے والے مولانا لطف الرحمان کی بجائے سابق وزیر اعلیٰ محمد اکرم خان درانی کو نہ صرف پارلیمانی لیڈر بلکہ ایم ایم اے کی طرف سے اپوزیشن لیڈر بھی نامزد کرنے کا اعلان کیا کیونکہ اس سے قبل اپوزیشن کی تینوں جماعتیں واضح کرچکی تھیں کہ مولانا لطف الرحمان نے جس طرح اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اہم امور پر ہمیں اعتماد میں لینا گوارا نہیں کیا اور سب سے بڑھ کر صوبہ کے نگران سیٹ اپ کے قیام پر جس طریقہ سے تحریک انصاف کی حکومت کیساتھ مل کر اپنی من مانی کی اور نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے حوالے سے مشاورت کی ضرورت محسوس نہیں کی اس کے بعد کھل کر یہ واضح ہوگیا تھا کہ جے یو آئی خاص کر اس کے سابق اپوزیشن لیڈر کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا، یہی وجہ تھی کہ صوبائی قیادت نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے اکرم درانی کو آگے لانے کا فیصلہ کیا جنہوں نے پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حمایت بھی حاصل کرلی ہے تاہم ابھی اے این پی کی حمایت کے حصول کا مرحلہ باقی ہے کیونکہ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک خود بھی اپوزیشن لیڈر بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں تاہم اگر اکرم درانی اے این پی کی قیادت کو آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر وہ اپوزیشن لیڈر نامزد ہوجائیں گے، ساتھ ہی ساتھ صدارتی انتخابات کے مسئلہ پر بھی اپوزیشن جماعتوں کے اختلافات نے ابتدائی دنوں میں ہی اپوزیشن کی بنیاد یں کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا، ادھر ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخابات کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے، 10اکتوبر کو صوبہ میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی 9نشستوں پر انتخابات ہونے جارہے ہیں جن کیلئے اپوزیشن جماعتوں کی یہ کوشش نظر آرہی ہے کہ تحریک انصاف کے مقابلے میں متفقہ امیدوار سامنے لائے ، اس مقصد کیلئے ابتدائی رابطوں اور مشاروت کا آغاز بھی ہوچکا ہے چنانچہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے78پشاور کی نشست پر اپوزیشن کی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور متحدہ مجلس عمل نے شہید ہارون بلور کی بیوہ ثمر ہارون بلور کی حمایت کا اعلان کردیا ہے جبکہ ساتھ ہی اے این پی کے جرگہ نے صوبہ کے نامزد گورنر شاہ فرمان کیساتھ ملاقات کرکے ان سے تحریک انصاف کا امیدوار دستبردار کرانے اور ثمر بلور کی حمایت کی درخواست کی ہے کیونکہ اے این پی کی خواہش ہے کہ ثمر بلور اس حلقہ سے بلامقابلہ منتخب ہوں، فی الوقت تحریک انصاف کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تاہم اگر ان حالات میں مقابلہ ہوتابھی ہے تو تحریک انصاف کیلئے 25جولائی کی نسبت جیت آسان نہیں ہوگی ،اسی طرح صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے23شانگلہ میں بھی اگرچہ اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رشاد خان کی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن فی الحال اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے، اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اگر ضمنی انتخابات کے دوران اپوزیشن جماعتیں ان10 نشستوں پر مشترکہ امیدوار لانے میں کامیابی ہوجاتی ہیں تو تحریک انصاف کیلئے اپنی بعض نشستوں پر دفاع کرنا مشکل ہوسکتا ہےچنانچہ اب اصل آزمائش اپوزیشن کی ہوگی کہ وہ کس طرح تمام نشستوں پر مشترکہ امیدوار لاکر بھر پور مہم چلاتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

تجزیے اور تبصرے سے مزید
تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید