آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ اقرأ اسلامی صفحہ میں آپ نے ایک سائل کے جواب میں انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری کے بارے میں شرعی اصولوں کو بیان کیا ہے۔ اس ضمن میں میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم ویب سائٹ پر کوئی چیز خرید تے ہیں اور وہ اس طرح نہیں ہوتی ،جس طرح ہمارا آرڈر تھا تو اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اگر ہم چیز رکھ لیتے ہیں اور خریدار سے قیمت کم کرواتے ہیں تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتا ہے اوراگر اسی قیمت پر رکھتے ہیں تو وہ ہمارے معیار کے مطابق نہیں ہوتی،اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب:۔ اگر ویب سائٹ پرخریدی گئی چیز ان صفات کی حامل نہ ہو، جو صفات اس کی بیان کی گئی ہوں تو خریدار کو خیار ِرؤیت حاصل ہوگا، یعنی وہ چاہے تو سودا منسوخ کرسکتا ہے اوراگرچیز میں کوئی ایسا عیب ہو جس کا خریدار کو علم نہیں تھا تو پھر خریدار کو خیارِ عیب حاصل ہوگا،جس کامطلب یہ ہے کہ وہ اگر چاہے تو پوری قیمت پر چیز رکھ لے اور اگر چاہے تو سودا منسوخ کردے، مگراسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ چیز تو رکھ لے اورعیب کے بقدر قیمت کم کرالے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں