آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاسی نمائندگان:

جیک میڈمنٹ ، ہیری یارک

برطانوی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ بریگزٹ کےلیے بلیو رنگ کا پاسپورٹ ابھی تیار نہیں کیا جائے گابیرون ملک چھٹیاں گزارنے والوں کو 2019 تک گہرے لال رنگ کاپاسپورٹس جاری کئے جائیں گے۔

اس اعلان نے برطانیہ کےیورپی یونین سے انخلا کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیاہے جو ائندہ سال مارچ کے آخر میں برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کے ساتھ ساتھ رسمی و علامتی دستاویزکی واپسی کے خواہشمند ہیں۔

یہ خبراس انکشاف میں سے ایک ہے جس میں حکومت کی تازہ ترین بیچ کے 28 نو ڈیل بریگزٹ کے معاملے پر برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے کی تیاری کے پیپرز شامل ہیں۔

بریگزٹ سیکریٹری ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو شارٹ ٹرم رسک( مختصر مدت کیلئے خطرہ) اور مختصر مدت کےلیےمعطلی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان کا اصرار تھا کہ برطانیہ کا یورپی یونین سے بغیر معاہدے کے انخلا سے دنیا ختم نہیں ہوجائےگی۔

پاسپورٹس

بریگزٹئیر کی جانب سے آئیکونک بلیو پاسپورٹ کی واپسی کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ بلیو پاسپورٹ کی واپسی کو برطانیہ کی اپنی دوبارہ اقتدار اعلیٰ حاصل کرنے کی علامت سمجھا جارہا ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزراء نے تصدیق کی ہے کہ 2019 تک بلیو پاسپورٹس کی واپسی ممکن نہیں ہوسکےگی اور برطانوی شہریوں کو برطانیہ کی برسلز سے علیحدہ ہونے تک بلیو پاسپورٹس کا اجرانہیں کیا جائے گا۔

2019 مارچ کے اخر تک کی مدت کیلئے موجودہ پاسپورٹس پرنٹ کئے گے ہیں تاکہ برطانیہ باضابطہ طور پریورپی یونین سے نکل جائے۔ اس وقت تک گہرے لال رنگ کا پاسپورٹس ہی جاری کئے جائیں گے۔ اس میں صرف ایک تبدیلی کی جائے گی، پاسپورٹ کے کور میں ’’یورپی یونین ‘‘ کانام درج نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں حکومت نے چھٹیاں منانے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے قوانین سے باخبر یا ہوشیار رہیں۔ جب نو ڈیل کے دوران براعظم کا دورہ کریں گے تو ان قوانین کا اطلاق غیر یورپی یونین شہریوں پر ہوگا۔

برطانوی شہریوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگی کہ 10سال کے اندراندر ان کو پاسپورٹ جاری کیا گیا ہو ، جب وہ اس ملک کو جائیں تو ان کے پاسپورٹ کی میعادکی مدت کم از کم تین ماہ ہو۔غیر یورپی یونین شہری کم از کم 90دن تک یورپی یونین کا دورہ کرسکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ برطانوی پاسپورٹ رکھنے والوں کو اپنے پاسپورٹس میں کم ازکم 6ماہ کی میعاد کی مدت رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ آسان لفظوں میں یہ کہ کوئی بھی برطانوی شہری جو یورپی یونین کا دورہ کرنا چاہتاہو ان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگی کہ جس دن وہ سفر کا آغاز کرے اس کا پاسپورٹ نو سال اور چھ ماہ سے زیادہ پرانا نہ ہو ورنہ ان کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

ڈرائیونگ لائسنس

حکومت کی نو ۔ ڈیل نوٹس نے برطانیہ کو خبر دار کیا ہے کہ شاید برطانوی ڈرائیونگ لائسنس کی میعاد کی مدت طویل عرصے تک برقرار نہیں رہ سکے گی اور براعظم میں گاڑیاں چلانے کےلیے اجازت نامہ لینے کی ضرورت ہوگی۔

برطانوی گاڑیاں چلانے والوں کو 5.50پاؤنڈ میں انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ(آئی ڈی پی) اور ساتھ ہی اپنا لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی ۔علاوہ ازیں آئی ڈی پی مختلف اقسام کے ہوں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر وہ یورپی یونین کے مختلف ممالک مثال کے طور پر فرانس اور اسپین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں تو ان کودو اجازت نامے لینے کی ضرورت ہوگی ۔اس دوران اس سے نہ صرف چھٹیاں گزارنے والے افراد متاثر نہیں ہوںگے بلکہ کسی کو بھی جو پیشہ وارانہ طور پر گاڑیاں چلاتے ہیں ان کو بھی آئی ڈی پی لینے کی ضرورت ہوگی۔ ان تمام تبدیلیوں کے باوجودبرطانوی ڈرائیورز، وزراء کا کہنا ہے کہ ’’یورپی یونین لائسنس رکھنے والے ،جو دورہ کررہے ہیں یا برطانیہ میں رہ رہے ہیں،ان کےلیے بھی انتظامات مختلف نہیں ہوں گے۔‘‘

ڈیٹا رومنگ

ڈوڈا فون ، تھری، ای ایس اور O2کے کسٹمرزکوبریگزٹ سے نو۔ڈیل ہونے پررومنگ چارجز ادا نہیں پڑیں گے، ان چار موبائل فونز آپریٹرز، جو 85فیصدسے بھی زیادہ موبائل سبکرائبرز کو کورکرتے ہیں ، نے کہا ہے کہ ہمارے پاس رومنگ چارجز لگانے کا ابھی کوئی پلان نہیں ہے۔ اس وقت برطانوی شہری ’’سرچارج ۔فری رومنگ‘‘ کے ساتھ یورپی یونین کا سفرکر سکتے ہیں لیکن اگر وہ برطانیہ میں رہتے ہیں تو ان سے چارجز اداکئے جائیں گے۔ برطانوی وزراء نے خبردار کیا ہے کہ’’ نو۔ڈیل کا مطلب ہے کہ جب آپ یورپی یونین کا دورہ کریں گے تو سری چارج فری رومنگ کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے۔ ‘‘

ایکسپورٹ

برطانیہ کا بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے انخلا کا مطلب یہ ہوگا کہ برطانوی مینوفیکچرز کےلیے زیادہ زیادہ سرخ فیتہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کچھ مینو فیکچرز گڈز جیسے فرنیچرز، بائیسکلز یورپی یونین کے سخت قوانین سے زیادہ حکومتی قوانین کے تابع ہیں لیکن ان کو بلاک بھر میں ابھی تک فروخت کرسکتے ہیں۔ لیکن نو۔ڈیل بریگزٹ کے نتیجے میں برطانیہ اب ’’ میوچئیل ری گیگنائیزیشن ‘‘ عالمی معاہدے کے اصولوں پر دستخط کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر برطانوی برنس مین اپنی مصنوعات فروخت کرنا چاہتے ہیں تو ان کو یورپی ممالک کی ملکی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پرایک برطانوی سائیکل کمپنی کو ،فرانس کو اپنی مصنوعات ایکسپورٹ کرنے کےلیے فرانس کی قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔

کار وں کی فروخت

برطانوی کار بنانے والی کمپنیوں کواپنی گاڑیاں ایکسپورٹ کرنے کےلیے یورپی ممالک سے اجازت لینی ہوگی ۔کار بنانے والی کمپنیوں کواپنی گاڑیاں فروخت کرنے سےقبل یہ دکھانالازمی ہوگا کہ ان کی گاڑیوں سیفٹی اور ماحولیاتی معیار کے مطابق ہیں یا نہیں۔

برطانوی کمپنیاں ابھی اپنی گاڑیاں فروخت کرسکتی ہیں اور ’’ٹائپ اپروول ‘‘ نامی سسٹم استعمال کرسکتی ہیں ،لیکن برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان کوئی معاہد نہ ہونے کی صورت میں کارسیلز یا یورپی یونین مارکیٹ رجسٹریشن کےلیےاس کی میعاد کی مدت برقرار نہیں رہے گی۔

شپنگ

برطانوی شپنگ کمپنیوں کو یورپی یونین کی بندرگاہوں میں داخل ہونے کےلیے انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ابھی فیرریز (بحری جہاز) یورپی یونین کے دو ممالک کے درمیان سفر کرتا ہےاوراس کو سیکورٹی معلومات بشمول مسافروں کی فہرست فراہم کرنے پر استثنیٰ حاصل ہےجس کی وجہ سے وہ بندرگاہوں میں داخل ہوسکتی ہیں۔

اگر برطانیہ بریگزٹ کے معاملے پر کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو برطانوی کمپنیوں کو کوئی استثنیٰ نہیں ملے گا اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے میں ناکام ہوگی جس کے نتیجے میں  یوری ممالک کی بندرگاہوں میں برطانوی شپنگ کمپنیوں کا داخلہ بند ہوجائے گا۔

بندوق

ابھی برطانیہ میں بندوق رکھنے والے افراد ابھی یورپی یونین فائر آرمز پاس کےلیے اپلائی کرسکتے ہیں جس میں وہ یورپی ممالک کے درمیان اپنے ہتھیاروں کے ساتھ سفر کرسکتے ہیں۔ بریگزٹ کے معاملے میں معاہدے نہ کرنے کی صورت میں برطانوی شہری یورپی یونین فائر آرمز(ای ایف پی)کےلیے اپلائی نہیں کرسکیں گے۔ کوئی بھی برطانوی شہری اگر وہ یورپی ممالک کا دورہ کرنا چاہتا ہے تو اس کوملکی لائسنس ایگریمنٹ پر کاربندرہنا ہوگا۔

سیٹلائٹس اینڈ اسپیس

15بلین گالیلین سیٹلائٹ پروجیکٹ بنانے میں معاونت کرنے کےلیےپہلے ہی سے مستقبل کے کانٹریکٹس کی بندش، اگر برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان بریگزٹ کے معاملے پر کوئی معاہدہ طے نہیں ہوتا توبرطانوی کاروباری افراد کو2019مارچ کے بعد برطرفی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔

برطانیہ کے پروجیکٹ کو بند کرنے کا یورپی یونین کے فیصلے کا مطلب یہ ہوا کہ برطانیہ اپنی جی پی ایس سسٹم استعمال کرنے نہیں کرسکیں گے جس کی وجہ سے برطانوی برنس مین کو معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا اور برطانیہ کو دنیا کی سب سے بڑی زمین کا مشاہدہ کرنے والا پروگرام ’’کوپرنسکس‘‘ کو بھی بند کرنا پڑے گا اور یورپی یونین اسپین سرویلینس اور ٹریکنگ پروگرام سے برطانیہ کو معلومات موصول نہیں ہوسکے گی جو برطانوی کمپنیوں کو خلا کی تباہی،سیٹلائٹس کی حرکت و سکنات کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اس لئے برطانیہ کو صرف امریکا سے موصول ہونے والے موجودہ ڈیٹا پر انحصار کرنا ہوگا۔

یورو اسٹار

ایک فرانسیسی وزیر پر ’’دہشت زدہ خبریں پھیلانے‘‘کا الزام عائدکیا گیا ہے جس نے یہ دعویٰ کیاتھا برطانیہ کا بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد یورو اسٹار ٹرین کی آمد ورفت بند ہوجائی گی اور ائیر کرافٹ کی پروازیں بھی روک دی جائے گی۔ فرانسیسی صدر ایمانئیول میکرون کی یورپی وزیر نتھالی لوئیسو کا کہناہے کہ ’’اگر ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کرتے تو آگے کیا ہوگا؟‘‘

دوسری جانب ڈاؤن اسٹریٹ نے ان کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینل ٹنل ٹرین اور ہوائی جہاز کی آمد ورفت کی معطلی کسی کے مفاد میں بہتر نہیں ہوگا۔ لندن میں نتھالی لوئیسو نے کیتھم ہاؤس انٹرنیشل آفئیر تھنک ٹینک میں خطاب میں یہ دعویٰ کیا۔ اس کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ کیابرطانیہ کا یورپی یونین سے بغیر معاہدےکے انخلا کے بعد لندن سے چلنے والی یورواسٹار ٹرین کو فرانس میں جانے سے روک دیا جائے گا اور برطانوی پروازوں کو فرانس سے واپس بھیج دیا جائے گا جس پر ان کہنا تھا کہ ’’برطانیہ کا یورپی یونین سے بغیر معاہدے کے انخلا کے نیتجے میں جن چیزوں کاآپ نے یہاں ذکر کیا ہے وہ درست ہے۔ اگر ہم کچھ نہیں کرتے ، اگر کوئی معاہدہ طے نہیں ہوتا تو کیا ہوگا۔ اس لئے ہمیں اور اپنے شہریوں کو کوئی معاہدہ طے نہ ہونے کی صورت میں تیار رہنا ہوگا۔ ہم اپنے شہریوں اور کاروباری افراد کو اصل بات کوئی بتادیتے، ان کو ذہنی طور پر اس کے نتائج کے لیے کیوں تیار نہیں کرسکتے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہے کہ معاہدے نہ ہونے کی صورت مین ایسا کچھ نہیں ہوگا، اس لئے وہ اس چیز کو سمجھنے کےلیے تیار نہیں ہیں۔‘‘

وائٹ ہال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی اعتبار سے یہ فرانس پر منحصر ہے ۔ اگرفرانس ایسا چاہتاہے تو برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا لیکن اس کے سنگین نتائج ہمارے ساتھ ساتھ ان کو بھی بھگتنا ہوں گے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں