آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راولپنڈی بار میں متنازع خطاب، سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی فارغ

اسلام آباد (نیوز ایجنسیز/جنگ نیوز )راولپنڈی بار میں متنازع خطاب کرنے کے نتیجے میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی عہدے سے فارغ کردیئے گئے، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی سمری کی منظوردیدی ، اس حوالے سے وزارت قانو ن کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا ، نوٹیفکیشن کے بعد شوکت صدیقی اپنے عہدے فارغ ہوگئے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے اپنی متنازع تقریر میں عدلیہ پر دبا ؤکی بات کی جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے سخت نوٹس لیا اور ان کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیمبر میں اپنے موقف کی وضاحت کی تاہم ان کا جواب غیر تسلی بخش قرار پایا اور کونسل نے عہدے سے ہٹانے

کی سفارش کی۔کونسل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے منصب کی خلاف ورزی کی اس لیے متفقہ طور پر انہیں آئین کی دفعہ 209(6) کے تحت عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ سپریم جوڈ یشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کی جس کی ایک نقل وزیراعظم ہاؤس اور ایک جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی بھجوائی گئی ۔ صدر مملکت نے اس سمری کی منظوری دی اور اس کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹا دیاگیا۔وفاقی وزارت قانون نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔علاوہ ازیں نمائندہ جنگ کے مطابق فاضل سپریم جوڈیشل کونسل نے جمعرات کواپنے اجلاس میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد دی گئی رائے میں قرار دیا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے 21جولائی 2018کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے ممبران سے خطاب کے دوران ان کے رویہ کی روشنی میں ہماری رائے ہے کہ یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج بننے کے اہل ہی نہیں تھے،اس تقریر کے ذریعے انہوں نے ججوں کے ضابطۂ اخلاق کی سنگین ترین خلاف ورزی کی ہےاس لئے انہیں آئین کے آرٹیکل 209(6)کے تحت اس عہدہ سے ہٹانے کی سفارش کی جاتی ہےجبکہ صدر مملکت، عارف علوی کی آئین کے آرٹیکل 209(5)کے تحت حتمی منظوری کے بعد وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف جسٹس ریٹائرڈ عبدالشکور پراچہ کے دستخطوں سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ جس کے بعد جسٹس شوکت عزیز فوری طور پر اس عہدہ سے فارغ ہوگئے ہیں۔یاد رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21جولائی 2018کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے عدالتی امور میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا ، جس پر ان کے خلاف یہ ریفرنس دائر کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل بھی ان کیخلاف دو شکایات زیر سماعت ہیں ،پہلی شکایت سی ڈی اے کے ایک افسر کی جانب سے کی گئی ہے ،جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری مکان کی تزئین و آرائش کیلئے خلاف ضابطہ 80 لاکھ روپے خرچ کرائے ہیں جبکہ دوسری شکایت کلثوم خالق نامی ایک خاتون وکیل نے نومبر 2017کے فیض آبادانٹر چینج پر دیئے گئے دھرنے کے حوالے سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے منفی ریمارکس کے خلاف جمع کرائی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں