آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اللہ کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں۔ اللہ تعالیٰ عمران خان کو وزیر اعظم بنا ۔لگ پتہ جانا تھا،لگ پتہ گیاہے۔55دن میں تبدیلی چاروں شانے چِت۔ کاش! بیاد’’ عاصمہ جہانگیر کانفرنس ‘‘میں افراسیاب خٹک کی گفتگو من و عن نقل کرپاتا۔ قلم تو کسی طور متحمل رہتا،وطن عزیز پر طاری کیفیت رکاوٹ۔ چند سالوں سے وطن عزیزخصوصی حالات کا شکار، بہت سارے پابند سلاسل، زبان بندی، سیاسی حد بندی، کئی تابع دار، بکثرت مع عوام سزا وار۔ بہت سارے آزاداور بے شمار شتر بے مہار، آئین و قانون سے ماورا۔اگرچہ مجھے باضابطہ تفتیش اوراسکی تحقیقات بارے شد بد نہیں۔دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ نیب،FIA، اینٹی کرپشن وغیرہ ،معمولی اہلکار سے لے کر اوپر تک ، میرے حوالے کر دیں۔نیب قوانین پر دسترس رہے، اکثر کے اقرار جرم کے سوتے نہ پھوٹیں ،مجھے نشان عبرت بنا دیں۔چند دن پہلے ملکی طول و عرض میں ضمنی انتخابات کا ریلا آیا۔تحریک انصاف کا بہت کچھ بہہ گیا۔وزیر اعظم بنتے ہی طمطراق سے حلقے کھولنے کا اعلان فرمایا، NA131کا حلقہ کھلا، 40/30پولنگ اسٹیشنوں کی گنتی پر حالات بگڑے تو یوٹرن لے لیا۔اللہ نے عام انتخابات کی شفافیت کاپردہ چاک کر نا تھا،ضمنی الیکشن نے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا۔خواجہ سعد رفیق کی ٹویٹ حسبِ حال،’’خان صاحب! آپ نے وعدہ کر کے حلقہ کھولنے سے راہ فرار اختیار کی۔آج جہاں جہاں الیکشن ہوئے، عوام نے حلقے کھول دیئے، نتیجہ آپ کے سامنے ‘‘۔جنگجو لیڈی مریم اورنگزیب دو ہاتھ آگے، ’’جس حلقے میں دوبارہ الیکشن کروائیںگے، عوام الناس حلقہ کھولنے میں بخل نہیں دکھائیں گے‘‘۔ ساری سہولتیں عام انتخابات والی ضمنی الیکشن میں موجود رہیں۔اس الیکشن کی سب سے وسیع المنظر بات، تحریک انصاف نے سوات، اٹک،جہلم، فیصل آباد، لاہور،شجاع آباد،ڈیرہ غازی خان،انواع و اقسام کی رنگ، نسل، زبان، علاقہ میں اپنی جیتی نشستیں، انصاف پر قربان کر دیں۔

پچھلے ہفتے کالم روانہ کیا تو پروفیسر ڈاکٹر اکرم چوہدری کی گرفتاری کی خبر ملی۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری کو ہتھکڑیوں میں دیکھ کر دل پژمردہ۔ ابھی ذہنی طور پر اندوہناک انہونی سے نبردآزما ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا کہ اگلے دو دنوں میں بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان پروفیسر ڈاکٹرمجاہد کامران مع چھ دوسرے سینئر پروفیسروں کوزنجیروں میں جکڑے دیکھا۔

ایک لطیف نکتہ ،یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز مقرر کرنے کے لیے شرطِ اول ،سینئر ترین پروفیسر کے ساتھ تحقیق میں صف اول کی صفوں میں پایا جائے۔یعنی کہ جانچ پڑتال کا پہلا معیار، تعلیم و تحقیق میں سکہ منوا چکا ہو۔جبکہ انتظامی امورکا تجربہ سرے سے پروفیسری کے سفر سے باہر ۔شاذو نادر ہی کہ سکہ بند محقق، نابغۂ روزگار پروفیسر بہترین منتظم بھی ہو۔ شایدیہی وجہ کہ امریکہ میں جب کسی یونیورسٹی کو اچھا وائس چانسلر،یاریکٹر مل جائے تو سالوں اور بعض کیسوں میں دہائیوںاس منصب پر فائز رہتے ہیں۔ اچھا اسکالر ، محقق ،انتظامی امور میں بھی کسب کمال رکھتاہو،خال خال ملیں گے۔کیا پروفیسروں کی باہمی چپقلش پر شکایات یا انتظامی غفلت پرکسی پروفیسر یا وائس چانسلر کے خلاف پولیس ، نیب کیس بننا چاہئے ؟ حد امکان کہ کوئی کمیشن ،اکیڈمک کونسل، ہائر ایجوکیشن تحقیق کرے،معطل کرے، تنخواہ ،پنشن روک لے۔

امریکہ میں دوران تعلیم ،یونیورسٹی میں پہلا دن،غیر ملکی طلبہ کی ORIENTATION کا اہتمام رہا۔ اسٹیٹ اٹارنی نے اپنے حصے کا لیکچر دیا۔ایک بات ازبر کرائی’’ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اساتذہ کے خلاف کوئی بندہ اپنا مقدمہ نہیں جیت سکتا۔کرایہ دار کی حیثیت سے آپ ہر مالک مکان سے مقدمہ جیت جائیں کہ عدالت کی نظر میںآپ مظلوم ہیں۔بفرض محال مالک مکان پروفیسر تو امکان کہ جج صاحب فیصلہ پروفیسر کے حق میں دے گا۔ بڑے ٹھوس الزامات کی زد میں ملوث اساتذہ کے خلاف فیصلہ دیتے جج کا ہاتھ ساتھ نہیں دے گا‘‘۔امریکہ میںاساتذہ کے خلاف مقدمہ درج کراتے وقت درجن دفعہ سوچنا پڑتا ہے کہ اکثر فیصلہ مدعی کیخلاف آتا ہے۔ڈاکٹر اکرم چوہدری اور ڈاکٹر مجاہد کامران کئی کتابوں کے مصنف، بے شمار تحقیقی مضامین اور مقالے لکھے، بے شمار طالب علموں کی تحقیق میں رہنمائی کی، ہزاروں اساتذہ پیدا کیے۔اتنی عظیم المرتبت شخصیات کے خلاف ایسا غیر مہذب رویہ، جو سلوک روا رکھا گیا، معاشرے کے ماتھے پررسوائی کے داغ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ڈاکٹر مجاہد کامران اور ڈاکٹر اکرم چوہدری کی درجنوں کتابیں میرے سامنے، سینکڑوں تحقیقی مقالے، مضامین اس کے علاوہ ۔ہتھکڑیوں والی تصویر کو ساتھ جوڑتا ہوں ،آنکھوں میں خون اترتا ہے۔قومی اثاثہ، ابھی تو فکر و دانش میں ان دوحضرات سے بہت کام لینا تھا۔دونوںنابغے تسلسل سے تحقیق و تخلیق سے جڑے تھے۔ہم دوستوںمیں مہینوں سے مشورہ جاری، دونوں صاحب روزگاروں کے ساتھ مہینے میں ایک یا دو نشستوں کا بندو بست مستقل بنیادوں پر کیا جائے تاکہ ان کی فکر و دانش سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھایا جائے۔

ڈاکٹر اکرم چوہدری سرتا پا سادہ لوح، درویش ،عربی زبان اور قرآنی عربی پر ایسی دسترس ،ایک کتاب "SYNONYMS IN ARABIC" میرے زیر مطالعہ ،اپنی مثال آپ۔ ڈاکٹر مجاہد کامران جو یونیورسٹی آف لاہور کے وائس چانسلر،ایک سال میں یونیورسٹی کے وقار کو مزید چاند لگا چکے ہیں۔ یونیورسٹی آف لاہور بورڈ میں صف ماتم بچھی ہے۔ چیئرمین لاہور یونیورسٹی بورڈ اویس رؤف کی آنکھوں کی نمی خشک ہونے کو نہیں۔ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف تو حقیقتاً گھناؤنی سازش ہوئی ہے۔ پچھلے دس سالوں سے مجاہدانہ زندگی بین الاقوامی سطح پر یہودی سازشوں اور مختلف انسانیت دشمن گروہوں کو بے نقاب کرنے میں وقف کر رکھی تھی۔ انسانیت دشمن تنظیموں کے ہرکارے ،نمائندے،ایجنٹ پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ،مجاہد کامران نے سب کو پریشان کر رکھا تھا۔ عرصہ دراز سے سوہان روح تھے۔ انور مسعود نے 15اکتوبر2018ء کو ایک قطعہ ڈاکٹر مجاہد کامران کی نذر کیا۔

کتنی ہے گرانقدر یہ تنبیہ جو انورؔ

اِک بندہِ درویش سے موصول ہوئی ہے

جس دور میں استاد کی توہین ہو بھائی

اس دور کے حکام سے کچھ بھول ہوئی ہے

پچھلے کئی مہینوں سے جنون طاری تھا کہ ملکی سطح پر ان دو اصحاب کے ’’قارونی علم و دانش‘‘ سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکمرانوں کو اکسایا جائے۔ دل مچلتا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان جو ڈاکٹر مجاہد کامران کو ذاتی طور پر جانتے تھے، سمجھتے اور بوجھتے تھے،ان سے کوئی بڑا کام لیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کو جلد از جلد ہائر ایجوکیشن کا چیئرمین بنا کے تعلیمی نظام کے بل نکالیں۔ کیا معلوم کہ تعلیم و تدریس کے پینٹ ہاؤس کے رہائشی ، نیب اور اندھے قانون کی بیسمنٹ میںمقید ہوجائیںگے۔رحم، اللہ رحم! وطن عزیز شدید مشکلات میں۔حکام کی بھول چوک، ریاست ہلکان کر رہی ہے۔دہائی ہے،رسوائی ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں