لندن (زاہد مرزا نمائندہ جنگ) منکرین ختم نبوت شعائر اسلام کے استعمال کے لیے دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ وہ اگر اسلام کے اجماعی عقائد کو اپنالیں تو ہم انہیں دل و جان سے قبول کرلیں گے۔ دہشت گردی ہر قسم کی قابل مذمت ہے۔ عسکری ہو یا فکری و نظریاتی، انفرادی ہو یا ریاستی، دہشت گرد امن عالم کے دشمن اور صفات انسانی سے عاری ہیں۔ عالمی تاجدار ختم نبوت کانفرنس کی قراردادیں۔ حکومت پاکستان نصاب تعلیم میں ختم نبوت کا باب داخل کرے اور مشاہیر اسلام کی خدمات کو شامل نصاب کرے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جماعت اہل سنت یوکے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے زیراہتمام مقررین نے اپنے خطبات اور قراردادوں کے ذریعہ عالمی تاجدار ختم نبوت کانفرنس کی دوسری نشست میں کیا۔ یہ کانفرنس دارالعلوم قادریہ جیلانیہ والتھم سٹو میں ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر جیلانی کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت پروفیسر پیر سید احمد حسین ترمذی نے کی اور نظامت کے فرائض علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے سرانجام دئیے۔ اپنے خصوصی خطاب میں ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر جیلانی نے کہا کہ ہر دور کے مجتہدین علما کا اتفاق اجماع امت کہلاتا ہے۔ امام غزالیؒ کے مطابق اگر مجتہد بدعتی بھی ہو تو اس کی رائے بھی شامل کی جائے گی بشرطیکہ اس کی بدعت کفر تک نہ پہنچے۔ پچھلی صدی میں تمام مسلم مکاتب فکر نے خواجہ سید مہر علی شاہ گولڑویؒ کو رئیس المجددین اور امام العصر تسلیم کیا ہے۔ خواجہ گولڑوی نے اس فتنہ کبریٰ کا مقابلہ کیا جس کے سرپرستوں کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ سیرت خلفائے راشدین پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے سات سو حافظ قرآن اصحاب رسولؐ کی شہادت گوارا کرلی لیکن منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کو ہر عمل پر ترجیح دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسیح موعود وہی ہوگا جو ابن مریم ہوگا اور وہی جس کی علامات قرآن و حدیث اور سابقہ کتب آسمانی میں مذکور میں علامہ پروفیسر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے کہا کہ اگر منکرین ختم نبوت مسلمانوں کے حقوق کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو وہ باقاعدہ تائب ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں، پوری امت انہیں دل و جان سے قبول کرے گی، لیکن وہ مسلمانوں کا مذہبی و معاشی مقاطعہ کرکے اپنی علیحدہ قوت تعمیر کرتے ہیں اور ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے جرم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے مرکزی جماعت اہل سنت کی چالیس سالہ دینی و ملی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر فتنہ کی سرکوبی کے لیے علما اہل سنت نے بھرپور اور مثالی کردار ادا کیا ہے۔ برطانیہ کے ممتاز سکالر علامہ مفتی محمد فیض رسول نے کہا کہ ہر علم کو اس کے ماہرین کے وضع کردہ اصول و ضوابط پر پرکھا جاتا ہے۔ قرآن کی تفسیر بھی اصول تفسیر کے بغیر قبول نہیں ہوگی۔ منکرین ختم نبوت سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنی ذاتی تعبیرات و توضیحات پیش کرکے ملت اسلامیہ کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ علامہ مفتی برکات احمد چشتی نے کہا کہ خلفائے راشدین نے اپنی سیرت و کردار سے عقیدہ ختم نبوت کو ترجیحی بنیاد پر واضح کیا اور جنگ یمامہ واحد جنگ ہے جو منکرین ختم نبوت کے خلاف اور جارحانہ طور پر لڑی گئی۔ نوجوان سکالر پیر محمد عمران ابدالی نے اپنے انگلش خطاب میں اتحاد و اتفاق کی برکات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سامراج آج بھی مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی مسلسل سازشوں میں مصروف ہے۔ علامہ انعام الحق قادری نے کہا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے تمام اسباب دنیا حضورﷺ پر قربان کرکے بھی کہا تھا کہ میں اور میرا سب کچھ تو رسول اللہؐ ہی کی ملکیت ہے۔ علامہ جنید عالم قادری نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی قران کی نص کے مطابق مسیح موعود ہیں۔ الشیخ محمد عمر رمضان قادری نے کہا، اہل سنت و جماعت کے سچے اور سچے عقیدہ کی ترویج و اشاعت مرکزی جماعت اہلسنت احسن طریقہ سے کررہی ہے۔ مولانا حمزہ حسن قادری نے اپنے انگلش خطاب میں کہا کہ منکرین ختم نبوت کی ہمدردیاں ہمیشہ غیر مسلموں سے رہی ہیں، اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کس ملت سے ہیں۔ علامہ مفتی محمد خان قادری نے کہا کہ قرآن کے صفحہ اول پر ایمانیات کی تفصیل سے ختم نبوت کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے کہ حضورﷺ سے قبل اور حضورﷺ تک وحی الٰہی کو ماننا ہی دین و ایمان ہے۔ علامہ نیاز احمد صدیقی نے کہا کہ اہل سنت و جماعت وہی ہوسکتا ہے جو نبیﷺ و آل نبیﷺ کو ٹوٹ کر چاہے اور ہر نعت رسولﷺ کا احترام کرے۔ پیر سید نور احمد شاہ کاظمی نے کہا کہ جمیع کمالات نبوت و رسالت حضور اکرمﷺ پر تمام ہوچکے اور اب مشن نبوت کا سلسلہ علما و مشائخ کے ذریعہ جاری رہے گا۔ مولانا قاری محمد امین نقشبندی اور مولانا قاری محمد اشرف سیالوی نے بارگاہ رسالت میں منظوم ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ سید طاہر عباس ترمذی، مولانا محمود الحسن قادری، صاحبزادہ سید حامد رضا گیلانی، علامہ ضیاء الاسلام ہزاروی، حافظ عمران علی قادری، علامہ شاہ محمد نوری، پیر سید افضال حسین شاہ بخاری، برینٹ مسجد کے صدر چوہدری محمد صدیق، والتھم سٹو کے سابق میئر چوہدری شوکت علی، علامہ قاضی عبدالرشید چشتی، مولانا خطیب الرحمن نقشبندی، قاری محمد صادق ضیائی، مولانا تصور حسین قادری، مولانا قاری واجد حسین چشتی، قاری محمد عاصم مرزا، صاحبزادہ قاری حسنات احمد چشتی، حافظ ذوالفقار علی قادری، حافظ محمد قاسم چشتی، صاحبزادہ حافظ سید محمد حیدر ترمذی، علامہ سید زین العابدین، خلیفہ عبدالرحمن قادری، صاحبزادہ ذیشان قادری، مولانا حافظ محمد تنویر، مصر کے قاری الشیخ محمد ترکی المصری، صوفی غلام عباس چشتی سلو، طہٰ قریشی ختم نبوت فائونڈیشن، صوفی محمد حسین طارق، محمد منیر قادری کے علاوہ کثیر تعداد میں علما و مشائخ، ائمہ و خطبا اور مساجد کمیٹیوں کے اراکین نے شرکت کی۔ ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے حقوق غیر مسلم اقلیت کو نہ سونپے کہ اس عمل سے حقوق اکثریت کا استحصال ہورہا ہے۔ ایک قرارداد کے ذریعہ کشمیر کے حق خودارادیت کی حمایت اور بھارتی ظلم و بربریت کی بھرپور مذمت کی گئی۔ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ خلفائے راشدین کے نظام کو نافذ کرکے ریاست مدینہ کا فلاحی پروگرام عملی طور پر اپنائے۔ نیز تعلیمی نصاب کو قوم کی امنگوں کے مطابق ترتیب دے کر مشاہیر اسلام اور مجاہدین ختم نبوت کی سیرت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والی فکری و نظریاتی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کی گئی اور ہر محاذ پر اس کے قلع قمع کا عزم کیا گیا۔ مرکزی جماعت اہل سنت یوکے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کا ایک اقتصادی اعلامیہ جماعت کے صدر پروفیسر علامہ سید احمد حسین ترمذی نے پڑھ کر سنایا جس میں اعتقادی قواعد و ضوابط کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ پیر سید صابر حسین شاہ گیلانی نے انتظامی معاملات اور کانفرنس کے انتظامات کی نگرانی کی۔ دارالعلوم قادریہ جیلانیہ والتھم سٹو کی انتظامیہ کی طرف سے جملہ شرکا، کانفرنس کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ پیر سید انور حسین شاہ کاظمی نے کہا کہ منکرین ختم نبوت جب اپنے سوا پوری ملت اسلامیہ کو معاذ اللہ گمراہ تصور کرتے ہیں تو پھر انہی میں اپنا سر کیوں گھسیڑتے ہیں۔ اپنے الگ مذہبی تشخص کو اپنائیں اور امت مسلمہ میں انتشار کا سبب نہ بنیں۔