آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12؍رجب المرجب 1440ھ20؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ:آپ گزشتہ 43سال سے فیملیز کو معیاری اورل کیئر(منہ کی حفاظت) اور بے بی کیئر مصنوعات فراہم کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شیلڈ کو ایک ’فیملی برانڈ‘ کی حیثیت حاصل ہے۔ کچھ اس سفر کے بارے میں بتائیں کہ کیسے شروع کیا اوراس مقام پر کیسے پہنچے، جہاں آپ آج ہیں؟

ہارون قاسم:شکریہ آپ کا، 1975ء میں اس کمپنی کی بنیاد محترم بشیر داؤد صاحب نے رکھی تھی۔ اس وقت اس کمپنی کا نام ’ٹرانس پاک کارپوریشن‘تھا اور یہ پبلک لسٹڈ کمپنی تھی۔ 1975ء سے ٹرانس پاک کی مصنوعات کی ڈسٹری بیوشن ہمارے گروپ کی کمپنی’پریمیئر ڈسٹری بیوٹرز‘ کے پاس تھی، میرے والد محترم ابراہیم قاسم اور محترم بشیر داؤد کے دیرینہ تعلقات تھے۔ محترم بشیر داؤد نے اپنے دوسرے بڑے کاروبار پرتوجہ دینے کے لیے جب یہ کمپنی فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ کمپنی ہم نے خرید لی، یہ 2002ء کی بات ہے۔ شیلڈ کے نام سے کمپنی کے برانڈز تو مارکیٹ میں پہلے ہی جانے پہچانے تھے، اس لیے جب ہم نے ٹیک اوور کیا تو کمپنی کا نام بدل کر ’شیلڈ‘ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ 2002ء کے بعد ہم نے ان ہی دو کیٹیگریز میں نئی مصنوعات متعارف کرائی ہیں۔

جنگ:اورل کیئر اوربے بی کیئر ، شیلڈ کے دو بڑے مارکیٹ سیگمنٹس ہیں۔ ان سیگمنٹس میں پاکستان کی مجموعی مارکیٹ صورتِ حال کیا ہے اور اس مارکیٹ میں شیلڈ کارپوریشن کی کیا حیثیت ہے؟

ہارون قاسم: پاکستانی مارکیٹ میں ان مصنوعات کی بہت زیادہ مانگ ہے، خصوصاً بے بی کیئر مصنوعات کی مارکیٹ میں تو مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں اور بچوں پر مشتمل ہے۔ بے بی کیئر سیگمنٹ میں شیلڈ کو ’مارکیٹ لیڈر‘ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سیگمنٹ میں ہمارے پاس فیڈنگ باٹلز، نِپلز، سودرز، ٹیدرز اور ساری لائن Accessories ہیں۔ اگر مارکیٹ شیئر کی بات کریں تو اس سیگمنٹ کا تقریباً 60سے 65 فیصد حصہ ہمارے پاس ہے۔

جہاں تک مارکیٹ میں مسابقت (کامپی ٹیشن) کا تعلق ہے تو مارکیٹ میں کچھ چینی مصنوعات کے علاوہ مقامی کمپنیاں بھی کام کر رہی ہیں۔ 2002ء میں یہ کمپنی لینے کے بعد الحمدللہ، ہم نے بھی کافی ترقی کی ہے۔ جس وقت ہم نے یہ کمپنی لی تھی، اس وقت ہمارے پاس ایک پُرانی مشین تھی، جس کے بعد ہم نے مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی اور کوالٹی میں بھاری سرمایہ کاری اور توسیع کی ہے۔ بے بی نِپل میں بھی ہم بہت زیادہ نفاست لائے ہیں۔

مسابقتی قیمت اور اعلیٰ معیار کے باعث شیلڈ کے ڈائپرز مارکیٹ میں تیزی سے جگہ بنارہے ہیں۔ شیلڈ پاکستان کا پہلا ڈائپر برانڈ ہے، جس نے اس کیٹیگری میں Wetnessانڈیکیٹر متعارف کرایاہے، جو صارف کے استعمال میں ندرت اور بہتری پیدا کرتا ہے۔

اورل کیئر میں دو مصنوعات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ۔ لوگوں میں جیسے جیسے شعور بڑھ رہا ہے، یہ سیگمنٹ بھی بتدریج ترقی کررہا ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی بہت سرگرم ہیں او ر مسلسل توسیع پذیر ہیں۔ ٹوتھ برش کے مقابلے میں ٹوتھ پیسٹ کی مارکیٹ زیادہ بڑی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دانت ٹوتھ پیسٹ سے صاف ہوتے ہیں، جبکہ حقیقتاً دانتوں کو ٹوتھ برش صاف کرتا ہے۔ اس میں بس دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آپ کون سا ٹوتھ برش استعمال کرتے ہیں اور اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں، کیونکہ دانتوں کی اچھی صفائی کے لیے برش کا دُرست استعمال ضروری ہے۔ آپ برش کو پانی میں گیلا کرکے بھی دانتوں کو صاف کرسکتے ہیں، تاہم ٹوتھ پیسٹ آپ کے منہ میں تازگی اور مہک پیدا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ٹوتھ برش کے حوالے سے بین الاقوامی رہنما اصول طے کیے گئے ہیںکہ ہر تین ماہ بعد آپ کو ٹوتھ برش ضرور بدلنا چاہیے۔ ڈاکٹرز یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ آپ کوروزانہ کم از کم دو بار دانت برش کرنے چاہئیں ، ایک دفعہ صبح اور ایک دفعہ رات۔ صبح اور رات کا برش الگ الگ ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ٹوتھ برش کی مارکیٹ بہت کم ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سیگمنٹ میں ابھی تک ہم مارکیٹ پوٹینشل کا صرف 10فیصد ہی حاصل کرپائے ہیں۔یہاں میں یہ بات بھی بتانا چاہوں گا کہ ہمارے پاس حلال سرٹیفیکیشن بھی موجود ہے۔

جنگ: دانتوں کی صحت کے لحاظ سے یہ ایک تشویش ناک صورتِ حال ہے کہ یہاں لوگوں کو ٹوتھ برش کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے۔ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے آپ کیا کررہے ہیں؟

ہارون قاسم: انڈسٹری اپنے تئیں اس سلسلے میں کام کررہی ہے۔ ہم نے اورل کیئر کے حوالے سے 3کے ہندسے کو لے کر ایک مہم چلائی تھی۔ 3 منٹ، 3 دفعہ اور 3 مہینہ۔ لوگ عموماً اتنی جلدی میں ہوتے ہیں کہ ڈیڑھ منٹ ہی بمشکل دانت برش کرتے ہیں، حالانکہ امریکن ڈینٹل ایسوسی ایشن کی گائیڈ لائنز کے مطابق ایک شخص کو دانت 3منٹ تک برش کرنے چاہئیں، اسی طرح روزانہ 3 بار برش کرنا اور ہر 3 ماہ بعد برش ضرور بدلنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اسکولز میں جاکر بچوں کو اورل Hygieneاور اس کی اہمیت کے بارے میں بتائیں۔ ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ انسان کی اورل Hygieneجس قدر اچھی ہوگی، اس کی صحت اتنی زیادہ اچھی رہے گی۔

جنگ: اورل کیئر اور بے بی کیئر مصنوعات کے معاملے میں لوگ قیمت (پرائس) پر تو سمجھوتا کرسکتے ہیں لیکن معیار پرسمجھوتہ نہیں کرتے۔ آپ شیلڈز کی مصنوعات کی کوالٹی کے حوالے سے ہمارے قارئین کو کیا بتانا چاہیں گے؟

ہارون قاسم:ہر کمپنی کے اپنے اپنے معیارات ہوتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ بین الاقوامی بینچ مارکس بھی مقرر ہیں۔ بین الاقوامی بینچ مارکس میں آئی ایس او سرٹیفکیشن ہوتی ہے، جو کہ ہمارے پاس بھی ہے۔ اس کے علاوہ، ہمارے خام مال اور مشین سپلائرز بھی ہمیں بین الاقوامی معیارات اور ان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے مسلسل آگاہ رکھتے ہیں۔ مارکیٹ کامپی ٹیشن (مسابقت) بھی ہمیں اپنے معیارات کو بہتر سے بہتر بنانے پر اُکساتا رہتا ہے۔ بین الاقوامی لیبارٹریز بھی کام کررہی ہیں، جنھیں ہم اپنی مصنوعات بھیجتے ہیں اوروہ ہمیں بتاتی ہیں کہ معیار کے لحاظ سے ہماری مصنوعات کہاں کھڑی ہیں۔

بہت سارے طریقے ہیں، جن کے ذریعے ہم اپنی مصنوعات کا معیار بہتر سے بہتر بنانے میں ہر وقت مصروفِ عمل رہتے ہیں۔

جنگ: جیسا کہ آپ نےبھی اس بات پر روشنی ڈالی کہ برش کادُرست استعمال بھی ایک تیکنیک ہے۔ لیکن ایک تو لوگوں کو برش کی اہمیت کا اندازہ نہیں اور پھر جو برش استعمال کرتے ہیں ان میں سے بھی اکثر کو اس کی دُرست تیکنیک کا علم نہیں ہے۔ ایسے میں کیا اس بات کی ضرورت نہیں کہ آپ اپنی مصنوعات کے ساتھ کچھ تحریری مواد بھی فراہم کریں، جیسے ادویات کے ساتھ شامل ہوتا ہے؟

ہارون قاسم:ہم فارما انڈسٹری کی طرح تو تحریری مواد فراہم نہیں کرتے لیکن جس حد تک ممکن ہوتا ہے ہم پیکنگ پر بنیادی، لازمی اور ٹیکنیکل معلومات ضرور لکھتے ہیں۔ اگر ٹوتھ برش کی بات کریں تو اس کی پیکنگ بہت مختصر ہوتی ہے ، جس کے پیچھے ہم بنیادی معلومات دیتےہیں اور وقتاً فوقتاً اس معلومات کو تبدیل اور اَپ ڈیٹ بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہم جب اسکولوں میں جاتے ہیں تو وہاں آگاہی کے لیے بچوں اور والدین کو تحریری مواد ضرور فراہم کرتے ہیں۔

جنگ: مصنوعات کے معیار اور تیکنیکی پہلوؤں کے بعد کچھ بات کرلیتے ہیں پرائس (قیمت) کی۔ پاکستان میں لوگوں کی قوتِ خرید کی کیا صورت حال ہے اور قوتِ خرید کے لحاظ سےآپ ہماری کنزیومر مارکیٹ کو کس طرح تقسیم کریں گے؟

ہارون قاسم: ہمارے پاس کئی مصنوعات ہیں اور ہر کسی کی اپنی مارکیٹ Dynamics ہیں۔ ٹوتھ برش کی بات کریںتو مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس، اَپر مڈل کلاس، ہر جگہ قوتِ خرید موجود ہے۔ ہمارے ٹوتھ برشز کی پرائس رینج ہر کلاس کی پہنچ میں ہے۔ ہمارے پاس 20روپے سے لے کر120روپے تک کا برش موجود ہے۔ اگر ایک شخص جس کی قوتِ خرید کم ہے تو وہ20روپے کا برش لے سکتا ہے اور جو بہت فینسی برش چاہتا ہے وہ 120روپے والا برش بھی خرید سکتا ہے۔ دراصل قوتِ خرید سے زیادہ سنگین مسئلہ ہماری ترجیحات ہیں۔ لوگ سگریٹ، پان اور چھالیہ پر تو دل کھول کر خرچ کرتے ہیں لیکن انھیں 15روپے کا برش مہنگا لگتا ہے۔ تاہم جب ایک شخص Unhygienic چیزیں کھاکر دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے تو اسے پھر ہزار روپے فیس ادا کرنی پڑجاتی ہے۔

جنگ: روپے کی قدر میں کمی (کرنسی ڈی ویلیوایشن) کے آپ کی انڈسٹری پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

ہارون قاسم: ڈی ویلیوایشن کا اثر یہ پڑتا ہے کہ ہمیں اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ، آپریشنل لحاظ سے ہم کئی چیزوں میں Uncompetitive ہوجاتے ہیں اور ان کی مقامی پیداوار ممکن نہیں رہتی، پھر ان چیزوں کو ہمیں درآمد (اِمپورٹ) کرنا پڑتا ہے۔ آپریشنل Inefficienciesکو کم کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ میں اپنے پیداواری اسکیل کو بڑھاؤں تاکہ فی برش لاگت میں کمی لائی جاسکے۔

جنگ:اسکیل بڑھانے کے بعد آپ اپنی اضافی پیداوار کے لیے نئی منڈیاں کیسے تلاش کرتے ہیں؟ کیا آپ ایکسپورٹ مارکیٹ میں بھی ہیں؟

ہارون قاسم: انٹرنیشنل ٹریڈ میں چین اپنے اسکیل اورکم لاگت کے باعث بہت آگے ہے۔ اس لیے ایکسپورٹ مارکیٹ میں ہمارے لیے چین ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسکیل کے باعث نہ صرف ان کی پیداواری لاگت بہت کم ہے، بلکہ انھیں سبسڈیز سے لے کر نئی منڈیاں تلاش کرنے اور رسائی دِلوانے تک، چین کی حکومت کی بھی بھرپور مدد حاصل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہم مقابلہ کررہے ہیں۔ ہم افریقا اور ایشیا میں ایکسپورٹ کرتے ہیں تاہم اس کا حجم بہت کم ہے، جسے ہم بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

جنگ: مقامی مارکیٹ میں شیلڈ نے دوسرے برانڈز کے مقابلے میں کس طرح اپنی پہچان بنائی ہے؟

ہارون قاسم: ہم نے اپنے برانڈ کو بہت ہی مناسب طور پر لوگوں کے ذہن میں پوزیشن کیا ہوا ہے۔ مارکیٹ بھی ہمیں ایک ایسے برانڈ کے طور پر دیکھتی ہے، جو نہ تو بہت زیادہ مہنگا ہے اور نہ ہی بہت سستا۔ مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ مطمئن ہے کہ ہم مناسب قیمت میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات دینے پر عمل پیرا ہیں۔ ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے مارکیٹ اور اپنے صارفین کو کبھی مایوس نہیں کیا، کیونکہ ہمارا صارف (کنزیومر) برسوں سے نہ صرف ہمارے ساتھ جڑا ہوا ہے بلکہ اس تعداد میں مسلسل اضافہ بھی دیکھا جارہا ہے۔

جنگ: کسی بھی کاروبار کی ترقی اور فروغ کے لیے یکساں مواقع کا ہونا بہت ضروری ہے۔ آپ نے ایکسپورٹ مارکیٹ میں چین کے چیلنج کا ذکر کیا، اسی طرح ملک کے اندر غالباً Greyمارکیٹ آپ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر چین کی مزید بات کریں تو چینی مصنوعات کی ہماری مقامی مارکیٹ میں رسائی پہلے ہی اچھی خاصی ہے اور سی پیک کے بعد اس کے مزید بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ کچھ ان چیلنجز پر روشنی ڈالیں؟

ہارون قاسم: ہم ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہیں، اس لیے ہمیں Complianceکے سخت معیارات پر پورا اُترنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اعلیٰ پروفیشنلز کی خدما ت حاصل کرنا پڑتی ہیں، جس کی وجہ سے ہماری آپریشنل لاگت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں کئی اداروں کے ساتھ ڈیل کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے برعکس، گرے چینل سے جو لوگ کام کررہے ہیں، ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ چین کے ساتھ ہم نے آزادانہ تجارت کا معاہدہ کیا ہو اہے۔ اسکیل کے باعث، ان کی پیداواری لاگت بہت کم ہے، جب کہ FTAکے باعث وہاں سے تیار مصنوعات پریہاں آپ کو بہت ہی معمولی ڈیوٹی ادا کرنا پڑتی ہیں۔ تمام تر مسابقتی ماحول کے باوجود، ہم اپنے طور پر اس کا مقابلہ کررہے ہیں۔

جنگ: اس سلسلے میں آپ کی حکومت کے ساتھ بات ہوتی ہے؟

ہارون قاسم: حکومت سے ہماری جب بھی بات ہوتی ہے تو وہاں سے ہمیں ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ہمیں خود کو Competitiveبنانا ہوگا۔ تاہم میرا سوال یہ ہے کہ جب تک حکومت Industrializationپالیسی نہیں لائےگی، مقامی انڈسٹری کو کیسے فروغ ملے گا۔ اس وقت ہم دنیا کی چھٹی بڑی آبادی ہیں اور 2025ء تک پانچویں بڑی آبادی بن جائیں گے جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق 2030ء تک ہم دنیا کی چوتھی بڑی آبادی ہونگے۔ نوکری کے مواقع سے لے کر کھانے کے لیے اناج اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیےاتنی بڑی آبادی کو کیا کیا نہیں چاہیے۔ ہم اپنے انفرااسٹرکچر کو کیسے تعمیر کریں گے۔ پہلے اپنی معیشت کو Industrializeکریں، مقامی انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں، اس کے بعد اسے سب کے لیے کھولیں۔ ملک کو ایک کنزیومر اکانومی بنادینا کہاں کی عقلمندی ہے۔

جنگ:کوئی آخری بات جو آپ ہمارے قارئین اور اپنے اسٹیک ہولڈرز کے لیےکہنا چاہیں؟

ہارون قاسم: میں شیلڈ کے صارفین خصوصاً ماؤں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ وہ ہماری مصنوعات پر اعتماد کرتی ہیں او ر میں انھیں یہ یقین بھی دِلانا چاہوں گا کہ ہم مستقبل میں ان کے لیے مزید بہتر مصنوعات لے کر آئیںگے اور بہتری کے عمل کو جاری رکھیں گے۔ شیلڈ کارپوریشن ایک پاکستانی کمپنی ہے اور ہم چاہیں گے کہ ہمارے صارفین وقتاً فوقتاً ہمیں اپنے قیمتی مشوروں سے بھی نوازتے رہیں تاکہ ہم پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی معیارات اور بینچ مارکس کے مطابق کرسکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں