آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہر سال کی طرح 2018میں بھی عالمی سطح پر بے شمار اہم واقعات سےرونما ہوئے۔آئیے،ان واقعات کے اجمالی جائزے کا آغازاپنے ارد گرد کے ممالک اور خطوں سے کرتے ہیں۔

چین: اس ملک میںغالباً اس سال کا سب سے اہم واقعہ یہ تھا کہ مارچ2018میں چین کی قومی عوامی کانگریس نے ایک آئینی ترمیم منظور کی جس کے تحت اس کے رہنمائوں کے لیے عہدے کی مدت کی پابندی ختم ہو گئی۔اس طرح اب چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور عوامی جمہوریہ چین کے اعلیٰ ترین عہدے دار،شی جن پھنگ کو تاحیات صدر کا درجہ دے دیا گیا ہے ۔یاد رہے کہ چین کی قومی عوامی کانگریس مقننہ یا قانون ساز ادارے کا کام کرتی ہے۔اس کے تقریباً تین ہزار ارکان ہیں۔ اس طرح یہ دنیا کا سب سے بڑا قانون ساز ادارہ ہے۔

چین کا موجودہ آئین1982میں بنایا گیا تھا جس میں تقریباً ہر پانچ سال بعد ترامیم کی جاتی رہیں، لیکن 2018میں کی جانے والی ترامیم بہت دور رس ہیں ۔ کمال کی بات ہے کہ اتنے بڑے ادارے میں ترامیم یا نئے قوانین کے مسودے حکومت وقت کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں توانہیں شازونادر ہی رد یا مسترد کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ادارہ ایک طرح سے صرف مہر لگانے کا کام کرتا ہے۔ اسی لیے جب مارچ 2018 میں کمیونسٹ پارٹی کو مرکزی کمیٹی کی طرف سے صدر اور نائب صدرپر سے دو مدتوں تک عہدے پر رہنے کی پابندی ہٹانے کی تجویز پیش کی گئی تو چینی کانگریس نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔چینی صدر 65سال کے ہیں اور2018میں کی جانے والی آئینی ترامیم کے بعد وہ آئندہ بیس سال تک بھی صدر رہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ 2018میں چین نے اپنے بیلٹ اور سڑک کے منصوبوں پر کام جاری رکھا جس سے چین کی بین الاقوامی ساکھ خاصی بہتر ہوئی اورپاکستان بھی اس کے فائدے حاصل کر رہا ہے۔

بھارت:پڑوسی ملک میں مرکزی سطح پر بہت کچھ ہوا مگر 2018کے آغاز میں تلنگانہ ریاست نے کمال کردیا ۔ وہاں کے تقریباً ڈھائی کروڑ انسانوں کو ریاستی حکومت نے چوبیس گھنٹے بالکل مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا۔ اس طرح وہ بھارت کے تقریباًتیس صوبوں میں واحد صوبہ بن گیا جہاں کسانوں کو مفت بجلی فراہم کی جارہی ہے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی جاری رہی اور بھارتی فوج نے اسے سختی سے کچلنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میںسیکڑوں مجاہدین شہید اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔ اب کشمیر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس جدوجہد میں شامل ہورہے ہیں۔ بھارت کی ریاست بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پر شاد یادوکوقید کی سزاسنائی گئی۔ وہ سابق وزیر ریلوے بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں اس سے قبل بھی سزائیں دی جا چکی ہیں، مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کی بقیہ زندگی جیل ہی میں گزرے گی۔

بھارت کی حکم راں جماعت بی جے پی کو 2018کے اواخر میںپانچ ریاستوں میںانتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف پہلے جون کے مہینے میں مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کیا گیا،پھر نومبر کے مہینے میں ریاستی اسمبلی توڑ دی گئی۔تا دم تحریر وہاں نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا تھا۔

ایران : حکومت کے خلاف وقتاً فوقتاً مظاہرے جاری رہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ایران کے امریکا اور دیگر مغربی ملکوں کے ساتھ ہونے والے نیو کلیائی معاہدےسے امریکا نے نکلنے کا اعلان کیا تو ایرانی معیشت کم زور ہونا شروع ہو گئی جس سے منہگائی بڑھی اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ دراصل ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ خامنہ ای شروع ہی سے اس معاہدے کے خلاف تھے اور ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاہدے کی پاس داری نہیں کرے گا اس لیے ایرانی صدر روحانی کو اس معاہدے پر دست خط نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن روحانی نے اس امید پر دست خط کیے تھے کہ شاید اس کے بعد امریکی رویے میں تبدیلی آئے گی ۔ممکن ہے کہ اگر امریکا میں ٹرمپ کی جگہ کوئی اورشخص صدر منتخب ہوتا تو یہ معاہدہ برقرار رہتا۔

گزشتہ برس ایران نے بھارت سے تعلقات مزید بہتر بنائے اور ایرانی بندر گاہ چاہ بہار پر کام جاری رہا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے تعلقات ایران سے کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔پاک،ایران سرحد پر مختلف کارروائیوں میں سرکاری اہل کار اور دیگر سرحد پار کرنے والے افراد بھی مارے گئے اور سرحدی کشیدگی برقرار رہی۔2018کے اواخر میں امریکا ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے سے مکمل طور پر الگ ہو چکا تھا اور صدر ٹرمپ اسے دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ اس کے علاوہ یمن کے مسئلے پر ایران اور سعودی عرب کےتعلقات بھی خراب ہی رہے۔اس ضمن میں ایران پر الزام ہے کہ وہ حوثیوں کی مدد کر رہا ہے جو یمنی دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں اور سعودی عرب کے حامی جنوبی یمن کے شہر عدن سے حکومت چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران اس سلسلے میں خاصے دبائو کا شکار رہا ہے۔

افغانستان :گزشتہ برس ہمارا یہ پڑوسی ملک شدید حملوں کا شکار رہا۔نہ صرف کابل اور اس کے گردو نواح میں بلکہ پورے افغانستان میں طالبان اور داعش کے وابستگان چھاپہ مار کارروائیاں کرتے رہے اور ایک ایک حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار ہوئے چالیس سال گزر چکے ہیں جن میں سے صرف دس سال سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی گئی۔ پچھلے تیس سالوں میں افغان گروہ آپس میں لڑتے رہے ہیں یا پھر 2001کے بعد سے اب تک امریکا اس جنگ میں بہ راہ راست ملوث رہا ہے۔اب تک امریکا کے تقریباً ڈھائی ہزار فوجی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں اور صرف پچھلے برس پندرہ امریکی فوجی مارے گئے ۔ 2018میں امریکا کی حمایت یافتہ افغان حکومت کی حالت خاصی نازک رہی اور اس برس تقریباً دو ہزار سویلین افغانوں کی اموات ہوئیں۔

سابق امریکی صدر جارج بش نے اکتوبر 2001میں امریکی فوجیں افغانستان بھیجی تھیں تو ان کا مقصد القاعدہ اور طالبان کا خاتمہ کرنا تھا، مگر سترہ سال گزرنے کے بعدطالبان پہلے سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں۔گزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں امریکا نے زلمے خلیل زاد کو افغان جنگ کے خاتمے کے لیےایک بار پھراپنا نمائندہ نام زد کیا جس کے بعد انہوں نے اس خطے کے کئی دورے کیے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہم وار کی۔اس کے بعدامریکانےطالبان سے بہ راہ راست مذاکرات کیےجس میں افغان حکومت شریک نہیں تھی ،کیوں کہ طالبان اشرف غنی کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔تاہم دسمبر 2018 کے اواخر میں یہ امید پیدا ہوئی کہ امریکا افغانستان سے نکلنے کے لیےطالبان کو حکومت میں شامل کرنے پر راضی ہو جائے گا۔

بنگلا دیش: ماضی میں ہمارا حصہ رہنے والے اس ملک نے آزادی کی47ویں سال گرہ منائی اور وزیر اعظم حسینہ واجد نے اپنی تیسری مدت اقتدار کے پانچویں سال میں قدم رکھا۔2018کے آغاز میں بنگلا دیش میں تبلیغی اجتماع ہوا جسے بسوا اجتماع کہا جاتاہےجو احتجاج کا باعث بنا۔وجہ یہ تھی کہ حکومت نے بھارتی عالم دین مولانا سعد کاندھلوی کو بنگلا دیش میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔پھر فروری میں سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی جس کے بعد انہیں جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس برس بنگلا دیش میں کوٹا سسٹم کے خلاف بھی احتجاج ہوتا رہاکیوں کہ مجموعی سرکاری ملازمتوں کا 56فی صد حصہ مخصوص کوٹےمیں جاتاہے۔ اس 56فی صد کی تفصیل کچھ یوں ہےکہ تیس فی صد ملازمتیں جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کے خاندانوں کےلیے ،دس فی صد سرکاری ملازمتیں خواتین کےلیے مخصوص ہیں۔ مزید دس فی صد اضلاع میں آبادی کے تناسب سے تقسیم کی جاتی ہیں ،پانچ فی صد اقلیتوں اور ایک فی صد معذور افراد کے لیے مخصوص ہیں۔

گزشتہ برس بنگلا دیش نےبھارت سے بہترین تعلقات بنائے رکھے اور حسینہ واجد اور نریندر مودی کی ذاتی دوستی بھی خاصی مضبوط رہی۔ مگر پاکستان کے تعلقات بنگلا دیش کے ساتھ ایسے نہیں رہے اور سفارتی سطح پر انہیںبہتر بنانے کی کوئی ٹھوس کوشش بھی نہیں کی گئی۔اس برس وہاں عام انتخابات ہونے ہیں۔ جس طرح خالدہ ضیا کی جماعت کو کچلا گیا ہے اس سےیہی اندازہ ہوتا ہے کہ حسینہ واجد ایک بار پھر انتخاب جیت کر لگاتار چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بن جائیں گی۔

سعودی عرب: ولی عہد ،شہزادہ محمد بن سلمان نے اس برس بھی سعودی عرب میں تبدیلیوں کا عمل جاری رکھا۔ انہوں نے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی اور کھیلوں کے مقابلے دیکھنے پر بھی پابندیاں نرم کردیں۔ اس طرح سعودی خواتین نے پہلی مرتبہ قانونی طورپر گاڑیاں بھی چلانا شروع کیں اور کھیلوں کے مقابلے بھی اسٹیڈیم میں جاکر دیکھے۔ ان تبدیلیوں کے باوجود ولی عہد کی داخلہ پالیسی شدید تنقید کا شکار رہی۔ پہلے تو انہوں نے درجنوں ارب پتی سعودی افراد کو اغواکرکےبڑے ہوٹلوں میں قید کردیا اور پھر ان سے اربوں ڈالرزبھتے کے طورپر وصول کرکے رہا کیا گیا۔ترکی میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل نے بھی سعودی عرب کو سفارتی طور پر خاصا نقصان پہنچایا۔ جمال سعودی حکم راںخاندان کے شدید خلاف تھے اورعالمی ذرایع ابلاغ کے ذریعے اکثر سعودی عرب میں جمہوریت قائم کرنے کےمطالبے کیا کرتے تھے۔وہ اپنی شادی کے کچھ کاغذات لینے استنبول میں سعودی سفارت خانے گئے تووہاں انہیں قتل کردیا گیا۔پہلے تو سعودی حکام نے اس سے انکار کیا مگر جب ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے تو نہ صرف سعودی عرب کو اس قتل کا اعتراف کرنا پڑا بلکہ بہانہ بھی بنانا پڑا کہ ایسا پوچھ گچھ کے دوران غلطی سے ہوگیا تھا۔ابتدا میں ٹرمپ نے بھی سخت رویہ اختیار کیا، مگر پھر کہا کہ امریکا کے اقتصادی تعلقات سعودی عرب سے بہت گہرے ہیں اور ایک صحافی کے قتل پر امریکا سعودی عرب سے تعلقات خراب نہیں کرے گا۔

عراق: گزشتہ برس اس ملک نے بڑی تبدیلیاں دیکھیں۔ مثلاً اس کی حکومت تبدیل ہوئی اور صدر برہام صالح نے عہدے کا حلف اٹھایا ۔ صالح پرانےکُرد سیاسی کارکن ہیں جنہیں اکتوبر 2018ء میں پارلیمان نے صدر منتخب کیا۔ عراق میں سابق صدر صدام حسین کی معزولی اور پھانسی کے بعد سےیہ رواج چلاآ رہاہے کہ صدرکے رسمی عہدے پر کسی کُرد کو،وزارت عظمیٰ کے انتظامی عہدے پر کسی عرب شیعہ کو منتخب کیا جا ئے گا اور پارلیمان کا اسپیکر لازمی طور پر کوئی سنی عرب ہوگا۔اس طرح وزیراعظم کےعہدے پر عادل عبدالمہدی کو منتخب کیا گیا جو معروف شیعہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ حصہ فرانس میں جلاوطن رہ کر گزاراہے۔ وہ پہلے مارکسی فکر کے حامل تھے، مگر ایران میں انقلاب آنے کے بعد ان کی فکر تبدیل ہوئی۔ پھر صدام حسین کے زوال کے بعد وہ شیعہ اسلامی سپریم کونسل سے منسلک ہوگئےتھے۔

عراق نے گزشتہ برس اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں سے کم و بیش نجات پائی اور وہاں دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد میں خاصی کمی آئی۔دوسری جانب آزادی پسندکُردوںنے بھی مکمل آزادی کے مطالبے پر زیادہ زور نہیں دیا کیوں کہ عراقی آئین کے مطابق اب کُردوں کو بہت زیادہ مقامی آزادیاں حاصل ہیں اور عراق اب ایک کنفیڈریشن کی شکل اختیار کرگیا ہےجہاں کُرد علاقے بڑی حد تک خودمختار ہیں۔ اس لیے اب امکان اس بات کا ہے کہ بالآخر اس ملک میں امن و امان بحال رہے گا اور نئے صدر اور وزیراعظم کی قیادت میں عراق ترقی کی منزلیں تیزی کے ساتھ طے کرے گا۔

شام: برسوں سے آگ اور خون میں نہائے ہوئے اس ملک نے گزشتہ برس کئی نشیب و فرازدیکھے۔ جنوری ہی میں شام کی سرکاری افواج نے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کے ساتھ مل کر غوطہ کے علاقوں کو باغیوں سے چھڑانا شروع کردیاتھا اور اس کوشش میں وہ بڑی حد تک کام یاب رہی تھی۔ پھر اس کار رواں میں روسی افواج بھی بہ راہ راست شامل ہوتی گئیں ۔ گو کہ اس پر امریکا اور دیگر مغربی ممالک شور مچاتے رہے، مگر روس نے کسی کی ایک نہ سنی اور مسلسل شام کی مدد کرتا رہا۔ پھر دمشق کے جنوب کے علاقے بھی،جوباغیوںکےقبضےمیں تھے بہ تدریج آزاد کرالیے گئے۔2018ء میں شام میں ترکی کا کردار بھی بڑا واضح رہا اور اس نے شام کے کُرد اکثریتی علاقے عفرین میں کارروائیاں جاری رکھیں۔ خاص طور پر رجاوا کے علاقے میں کُرد جنگ جووں کو خاصانقصان پہنچایا جہاں سے ترکی کے بہ قول باغی حملے کرتے تھے۔ سال ختم ہوتے ہوتے شامی افواج کی کام یابیاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ بہت کم علاقے باغیوں کے قبضے میں رہ گئے تھے۔ اس طرح امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی شامی صدر بشار الاسد کو ہٹانے کی کوششیں بالکل ناکام ہوتی نظر آنے لگیں۔ گو کہ امریکا نے بار بار شام میں دوبارہ قدم جمانے کی کوشش کی ، مگر شام کی سرکاری افواج، حزب اللہ اور ایرانی اورروسی امدادسے صدر بشار الاسد اپنی کرسی صدارت پر سختی سے جمے رہے۔چناں چہ اکیس دسمبر کو بالآخر امریکا نے اعلان کر ہی دیا کہ وہ داعش کے خلاف اپنی کارروائیاں ختم کررہا ہے، کیوں کہ اسے اس مقصد میں مکمل کام یابی حاصل ہوچکی ہے۔ اس طرح امریکا نے اپنی افواج کو شام سے نکالے کا عندیہ دے دیا۔اب بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ بشار الاسد طویل عرصے تک برسراقتدار رہیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ تجربات سے سیکھیں اور اقتدار پر تاحیات براجمان رہنے کے بجائے ملک میں جمہوریت قائم کریں۔

امریکا: دنیا کے اس سب سے زیادہ طاقت ور ملک کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےگزشتہ برس بھی اپنی پرانی حرکتیں جاری رکھیں۔ انہوں نے نہ صرف ایران کے ساتھ نیو کلیائی معاہدہ ختم کردیا بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی محاذ آرائی جاری رکھی۔ مثلا،انہوں نے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ امریکا کا پراناآزاد تجارت کامعاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا اور ایک نئے معاہدے پر دست خط کرائے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے سے امریکا کو زیادہ فائدہ ہوگا۔اسی طرح امریکا نے پہلے شمالی کوریا کے خلاف سخت بیان بازی کی اور پھرٹرمپ اتنے نرم پڑگئے کہ شمالی کوریا کے رہنماکم جونگ ان سے ملاقات کرنے لگے۔ اس طرح دنیا کے تین بڑے تنازعات،جن میں افغانستان ، شام اور شمالی کوریا شامل ہیں، ٹرمپ کی نرم گرم پالیسی کا شکار رہے۔

پہلے تو ٹرمپ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات پر راضی نہیں ہورہےتھے، مگر سال کے آخر میں نہ صرف انہوں نے طالبان سے مذاکرات کاآغازکرنے کا اعلان کیا بلکہ وہاں امریکی فوجیوں میں مزید کمی کا بھی اعلان کیا۔اسی طرح شام میں انہوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا ۔دوسری جانب امریکا میں اعلیٰ ترین عہدے دار اپنے عہدے چھوڑ کر جاتے رہے کیوں کہ کوئی سینئر عہدے دار ٹرمپ کے ساتھ آسانی سے کام نہیں کرپاتا۔ ادہر میکسیکو کی سرحد پرلاطینی امریکا کے ہزاروں تارکین وطن جمع ہوتے رہے۔انہوں نے امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔امریکا کا ایک اور درد سر فائرنگ کےپے در پے ہونے واقعات ہیں جن میں اسکولوں اور عبادات گاہوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مگر اب تک امریکا میں آتشیں اسلحہ خریدنے کی مکمل آزادی ہے۔

انڈونیشیا: یہ اسلامی ملک گزشتہ برس کئی بم دھماکوں کا شکار ہوا۔ مثلاً مئی کے مہینے میں سورا باباکے علاقے میں تین چرچز میں ہونے والے دھماکوں میں15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس کے بعداسی علاقے میں ایک اپارٹمنٹ کی عمارت میں دھماکا ہوا۔ پھر پولیس کے مرکزی دفتر پر حملہ کیا گیا۔جون کے مہینے میں ایک بڑی کشتی ڈوبنے سے تقریباً دو سو افراد ہلاک ہو گئے۔یہ انڈونیشیا کی تاریخ کا بدترین آبی المیہ ثابت ہوا ۔ پھر ستمبر کے مہینے میں سلاویس کے جزیرے میں آنے والے زلزلے اور سونامی سے ڈھائی ہزار سے زیادہافراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے۔اکتوبر کے مہینے میں سما ٹرا کے علاقے میں سیلاب آنے اور زمینی تودے گرنے سے درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی اور لاپتا ہوئے۔ لیکن انڈونیشیا میں سال کا بدترین حادثہ ایک طیارہ کریش ہونے کی صورت میں ہوا جس میں جاوا کے ایک ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے والا جہاز چندہی منٹ بعد گر کر تباہ ہو گیا۔اس حادثے میں 190 مسافر ہلاک ہوئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ طیارہ بالکل نیا تھا جس کے کریش ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

انڈونیشیا آباد ی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہےجس کی آبادی تقریباً ستائس کروڑنفوس پر مشتمل ہے جس میں تقریباً نوے فی صد مسلمان ہیں۔ انڈونیشیا کے موجودہ صدر جوکو ویدوو اپنے اقتدار کے پانچویں برس میں داخل ہوگئے ہیںاور انہیں اگلے برس انتخابات کا سامنا کرنا ہو گا۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ 2019 میں دوبارہ منتخب ہوتے ہیں یا نہیں۔

روس: کبھی دوسری عالمی طاقت رہنے والا یہ ملک گزشتہ برس عالمی سطح پرکافی خبروں میں رہاجن میں سے زیادہ تر منفی نوعیت کی تھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بھی مغربی ذرایع ابلاغ روس کے بارے میں اپنے پرانے رویوں پر قائم ہیں۔ مثلاً اگر روس شام میں مداخلت کرے تو وہ منفی ہے، مگر امریکا کرے تو وہ جمہوریت کے لیے مثبت ہے۔گزشتہ برس کے آغاز ہی میں برطانیہ نے روس پر الزام لگایا کہ اس کے لوگوںنے برطانیہ میں مقیم ایک سابق روسی شہری کو زہردے کر ہلاک کردیا ہے جو برطانیہ کے لیے جاسوسی کرتا رہا تھا۔ اس پر ساری دنیا کے ذرایع ابلاغ روس کے خلاف بڑھ چڑھ کر بولنے اور لکھنے لگے۔ حتیٰ کہ اتنی کوریج یمن میں عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کو نہیں ملی جتنی اس سابق جاسوس کی ہلاکت کو ملی۔پہلے تو برطانیہ نے روس کے سفارت کاروں کو نکال باہر کیا۔ اس کے جواب میں روس نے بھی کوئی دو درجن برطانوی سفارت کاروں کو ملک سے نکلنے کا حکم دے دیا۔

اس ملک کے حوالے سے گزشتہ برس کی سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ ولادی میر پوٹن چوتھی مدت کےلیے صدر منتخب ہوگئے۔ یاد رہے کہ وہ 18سال سے روسی اقتدار پر قابض ہیں۔پہلے دو مدت تک صدر رہے یعنی 2000 سے 2008 تک۔ پھر چار سال وزیراعظم رہے اور پھر 2012 میں دوبارہ صدر بننے کے بعد انہوں نے صدر کی مدت صدارت چار سال سے بڑھاکر چھ سال کردی۔ اس طرح اب وہ 2024 تک برسراقتدار رہ کر کل ربع صدی روس کے سیاہ و سفید کے مالک رہیں گے۔ ان کے صدارتی انتخاب کے بعد مظاہرے بھی ہوئے، مگر انہیں کچل دیا گیا۔

گزشتہ برس روس نے فٹ بال کے عالمی کپ کے مقابلوں کی میزبانی کی ۔یہ بہت کام یاب ٹورنامنٹ رہا اوردہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ گزشتہ برس روس کے نام ور ہتھیار سازمیخائیل کلاشنی کوف دنیا سے رخصت ہوئےجن کی ایجاد کردہ آٹو میٹک رائفل ، کلاشن کوف دنیامیں سب سے زیادہ بکنے والی آٹو میٹک رائفل ہے۔

مغربی یورپ: اس خِطّےکے ممالک خصوصاجرمنی، فرانس اور برطانیہ غیریقینی صورت حال کا شکار رہے۔ جرمنی میں مہاجرین کی آباد کاری کا کام جاری رہا اور نئے مہاجرین کی آمد میں خاصی کمی ہوئی۔ پھر بھی جرمن چانسلر اینگلا مرکل خاصے دبائو کا شکار رہیں اور ان کی پارٹی میں پھوٹ پڑتی رہی جس سے ان کی مقبولیت میں کمی ہوئی۔

فرانس میں صدر میکرون کے برسراقتدار آنےکے بعد بڑی امیدیں تھیں،لیکن وہ اچانک بڑے مظاہروں کی زد میں آگئے۔ فرانس کے طول و عرض میں تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے ہوئے جن میں عوام نے زردجیکٹس پہن کر مطالبے کیے کہ ایندھن کی قیمتیں کم کی جائیں اور عوامی سہولتوں میں اضافہ کیا جائے۔ گو کہ میکرون ان مظاہروں پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے لیکن 2018 کے اختتام تک انہیں کوئی خاص کام یابی نہیں ملی تھی۔

برطانیہ میں بریگزٹ کا بازار گرم رہا اور وزیراعظم ٹریزا مے کو بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے تو وہ سال بھر تک یورپی یونین سے مذاکرات کرکے بہتر معاہدہ کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ مگر جب معاہدہ ہوا تو اسے شدید مخالفت کا سامنا کرنا۔ خودٹوری پارٹی کے ارکان نے بڑے پیمانے پر اس معاہدے کی مخالفت کی۔ اس پر ٹریزامے ایک بار پھر یورپ کے دورے پر نکل کھڑی ہوئیں اور معاہدے کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتی رہیں۔تاہم سال کے آخر تک برطانیہ کے لوگوں پر یہ واضح نہیں تھا کہ اس معاہدے کے برطانیہ پر مثبت اثرات پڑیں گے یا منفی۔اب صورت حال یہ ہے کہ ٹریزامے اپنے عہدے سے ہاتھ دھو سکتی ہیں۔

عالمی منظر نامہ سے مزید