مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی اڈے پر ایرانی میزائل کا نشانہ بننے کے بعد F-35 لڑاکا طیارے نے ایمرجنسی لینڈنگ کی ہے۔
سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق طیارہ ایران کے اوپر ایک آپریشن کے دوران پرواز کر رہا تھا جب اسے لینڈنگ کے لیے مجبور ہونا پڑا۔
کیپٹن ہاکنز نے کہا کہ طیارہ محفوظ طریقے سے اتر گیا اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے، اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق F-35 ایک پانچویں نسل کا اسٹیلتھ طیارہ ہے، جس کی قیمت تقریباً 100 ملین ڈالر سے زائد ہے، امریکا اور اسرائیل دونوں اس جنگ میں F-35 طیارے استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکا کے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران کی جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف ہے، آپریشن کا مقصد فیصلہ کُن کارروائی کرنا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں ہلاک امریکی فوجیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ایران کی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کو ممکنہ طور پر بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران میں 7 ہزار فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، ایران کی 11 آبدوزوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایران کے ریڈار اور دفاعی سسٹم کو تباہ کردیا ہے۔ ایرانی نیوی کے 120 جہازوں کو تباہ کر چکے ہیں۔