• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس ترک کرنے پر ہزاروں ڈالر کی پیشکش

یورپی ملک مالٹا نے اپنے شہریوں کو پانچ سال کے لیے ڈرائیونگ لائسنس چھوڑنے کے بدلے 29,000 ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے، اس اسکیم کو ’ڈرائیونگ لائسنس سرینڈر اسکیم‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ڈرائیونگ لائسنس سرینڈر اسکیم کا مقصد یورپ کے اس چھوٹے سے ملک میں سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم کرنا ہے۔

واضح رہے کہ اس مجموعہ الجزائر ملک کا یورپ میں گاڑیوں کی سب سے زیادہ گنجانیت رکھنے والے ملکوں میں شمار ہوتا ہے اور ٹریفک کا رش ایک مستقل مسئلہ ہے جسے کم کرنے کے لیے حکام نے ایک انوکھا پروگرام متعارف کروایا ہے۔ 

اس کا مقصد لوگوں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ اپنے ڈرائیونگ لائسنس کو پانچ سال تک کے لیے رضاکارانہ طور پر ترک کر دیں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ ٹریفک کے دباؤ کو کم  اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکے۔

مالٹا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کرس بونیٹ کے مطابق اس اسکیم کا ایک اہم مقصد خاص طور پر نوجوانوں میں "مووبلٹی شاک" پیدا کرنا ہے، تاکہ گاڑی استعمال کرنے کی عادت ان میں پختہ ہونے سے پہلے ہی اس کو روکا جا سکے۔

پروگرام کے تحت یہ رقم ہر سال 5,000 یورو کی اقساط میں دی جائے گی جو کہ پچیس ہزار یورو یا 29,000 امریکی ڈالر ہوں گے۔ اگر کوئی شخص پانچ سال مکمل ہونے سے پہلے اپنا فیصلہ تبدیل کرتا ہے، تو اسے موصولہ رقم متناسب بنیادوں پر واپس کرنا ہوگی۔

اس اسکیم کے لیے اہل ہونے کے لیے ڈرائیور کی عمر 30 سال یا اس سے کم ہونی چاہیے، وہ کم از کم سات سال سے مالٹا کا رہائشی ہو، اس کے پاس کم از کم 12 ماہ سے ڈرائیونگ لائسنس ہو اور اس کا لائسنس کبھی معطل یا منسوخ نہ ہوا ہو۔

مالٹا نے اس اسکیم کے لیے سالانہ 5 ملین یورو کا بجٹ مختص کیا ہے، جس کے تحت ہر سال زیادہ سے زیادہ 1,000 افراد کو اسکی ترغیب دی جائے گی۔ ابتدائی ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پروگرام میں بہت زیادہ دلچسپی پائی جا رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہت سے نوجوان ڈرائیورز کے لیے مالی فائدہ گاڑی چلانے سے زیادہ اہم ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بار لائسنس جمع کروانے کے بعد اسے مستقل طور پر معطل تصور کیا جائے گا اور پانچ سال بعد نیا لائسنس حاصل کرنے کے لیے اسے 15 گھنٹے کی ڈرائیونگ کلاسز لینا ہوں گی۔

دلچسپ و عجیب سے مزید