آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 10؍جمادی الثانی 1440ھ 16؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اندازہ ہے کہ اگر پلاسٹک کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی تدبیر نہ کی گئی تو 2050ء تک ہمارے سمندروں میں مچھلیاں کم اور پلاسٹک زیادہ ہوگا۔ دنیا کے لیے یہ ایک بڑا اور سنگین چیلنج ہے۔

دراصل، پلاسٹک کا مسئلہ ہمارے دریاؤں، سمندروں اور ساحلوں تک پہنچنے سے پہلے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ یہ مسئلہ شروع ہوتا ہے ہمارے ٹوٹے پھوٹے پیداواری نظام کے ساتھ، جہاں ہم کوئی بھی چیز پیدا یا تیار کرنے سے پہلے یہ سوچنا بھی گوارہ نہیں کرتے کہ استعمال کرنے کے بعد اس کا کیا ہوگا۔ نتیجتاً، ہر منٹ میں ایک ٹرک جتنا پلاسٹک کا کچرہ سمندر میں داخل ہورہا ہے، جو ایک سال میں 80لاکھ ٹن بن جاتا ہے۔ ایک ایسی چیز، جسے تخلیق کے وقت انسانی ذہانت کی اعلیٰ مثال قرار دیا گیا تھا، آج دنیا کا سب سے زیادہ تیزی سے بڑھتا مسئلہ بن چکی ہے۔

دنیا میں کچھ لوگ اور کمپنیاں اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کے لیے اِکٹھے ہوئے ہیں۔ کئی لوگ جس طرح خریداری کرتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور اپنی روز مرہ زندگی گزارتے ہیں، وہ اس سب میں بدلاؤ لارہے ہیں۔ سمندروں اور ساحلوں کو پلاسٹک سے صاف کرنے کے لیے کروڑں ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں۔ تاہم یہ سب کوششیں، اس وقت تک بے سود ثابت ہوتی رہیں گی، جب تک ہم اپنی موجودہ روش جاری رکھتے ہوئے، پلاسٹک کو آلودگی کا حصہ بناتے رہیں گے۔ یاد رکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ محض ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بناکر اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا، ہم پلاسٹک کی آلودگی کے مسئلے سے ری سائیکلنگ اور ساحلوں کی صفائی کے ذریعے نہیں نمٹ سکتے۔ ہمیں اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ہوگا اور اسے وہاں ختم کرنا ہوگا، جہاں یہ پیدا ہوتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ماحولیات اور معاشی فوائد پر سمجھوتہ کیے بغیر پلاسٹک کے فوائد سے استفادہ کرتے رہیں، تو ہمیں ایک مشترکہ مفاد کے حصول کے لیے ’پلاسٹک سسٹم‘ کو اپنے فوائد کے مطابق تشکیل دینا ہوگا۔ محققین بھی اس بات پر متفق ہیں۔

ختم کریں (Eliminate)

کچھ پلاسٹک ایسا بھی ہے جس کی یقیناً ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ جیسے کہ ایک بار استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والے اسٹرا(Straw)، پلاسٹک کے چھرے، تھیلیاں، کانٹے اور چمچے، کپ اور گلاس، پیکیجنگ مٹیریل اور ایسے آئٹمز جن کا بہتر اور ماحول دوست متبادل موجود ہے۔

جدت پیدا کریں (Innovate)

جو پلاسٹک تیار اور استعمال کیا جاتا ہے، اسے اس طرح ڈیزائن کیا جائے کہ وہ تمام پلاسٹک بآسانی اور بحفاظت دوبارہ استعمال کے لائق بنایا جاسکے یا وہ زمین میں حل ہونے کی خصوصیت رکھتا ہو۔

گردش میں رکھیں (Circulate)

ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ استعمال کیا جانے والا پلاسٹک معیشت کا حصہ بنا رہے اور وہ کبھی بھی کچرے یا آلودگی کا حصہ نہ بنے۔

اس سلسلے میں ایلن مک آرتھر فاؤنڈیشن نے UN Environment کے اشتراک سے ’نیو پلاسٹکس اکانومی گلوبل کمٹمنٹ‘ کا آغاز کیا ہے۔ اس کمٹمنٹ پر دنیا بھر سے 250سے زائد اسٹیک ہولڈرز نے دستخط کیے ہیں، جن میں پروڈیوسرز، برانڈز، ریٹیلرز، انویسٹرز، ری سائیکلرز، حکومتیں اور غیرسرکاری تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ کمٹمنٹ ’سرکلراکانومی‘ کے بنیادی اور منفرد اصول پر مبنی ہے:معاشی ترقی کا ایک ایسا نظام ترتیب دیا جائے، جہاں ضیاع اور آلودگی کو ختم کیا جاسکے، ایک ہی پراڈکٹ اور مٹیریل کو بار بار اور مستقل استعمال میں رکھا جاسکے اور فطری نظام کی پیداوار کا عمل جاری رکھا جاسکے۔

اس کمٹ منٹ میں ختم کریں (Eliminate)، جدت پیدا کریں (Innovate) اورگردش میں رکھیں (Circulate) کے لائحہ عمل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے تاکہ معیشت میں پلاسٹک کا مؤثر اور کارآمد استعمال جاری رہےاور یہ آلودگی بڑھانے میں حصہ دار نہ بنے۔

کاروباری طبقے اور پالیسی سازوں کے درمیان ٹھوس اور وقت کے پابند اقدامات پر اتفاق ہونا، ایک بے مثال اشتراکی کوشش ہے، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک مقصد کے حصول اور مطلوبہ ضروری اقدامات کے لیےمستقبل کا منصوبہ، نقشہ اور رہنما دستاویز فراہم کرتی ہے۔

اس کمٹمنٹ پر ابھی دنیا بھر سے پلاسٹک پیکیجنگ تیار کرنے والی 20فی صد کمپنیوں نے دستخط کیے ہیں، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس میں مزید کمپنیوں، حکومتوں اور غیرسرکاری تنظیموں کا شامل کیا جائے۔

پلاسٹک کے لیے ’سرکلر اکانومی‘ کی اس کمٹمنٹ کو ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (WWF)، ورلڈ اکنامک فورم اور کنزیومر گڈز فورم کی رضامندی حاصل ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کو احساس ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مٹیریل سائنس، پراڈکٹ ڈیزائن اور ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی میں جدت ناگزیر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بہترین 40یونیورسٹیوں، انسٹیٹیوشنز اور محققین کو بھی آن بورڈ لیا گیا ہے۔

جدت کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کی ضرورت ناگزیر ہوگی تاکہ آلودگی کا حصہ بننے والے پلاسٹک کو اکٹھا کرکے اسے دوبارہ استعمال کے قابلِ بنانے کے لیے ضروری انفرااسٹرکچر تعمیر کیا جاسکے۔ خوش قسمتی سے سرمایہ کے حصول میں کامیابی کے کچھ امکانات نظر آرہے ہیںاور پلاسٹک کی ’سرکلر اکانومی‘ تشکیل دینے کے لیے 5وینچر کیپٹل فنڈز نے 200ملین ڈالرز (20کروڑ ڈالر) فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کمٹمنٹ پر دستخط کرنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز، سالانہ بنیاد پر پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہونگے۔ اہداف کا ہر 18ماہ بعد جائزہ لیا جائے گا اور آنے والے برسوں میں اہداف کو مزید سخت بنایا جائے گا۔

حرفِ آخر یہ کہ اس وقت سوال یہ نہیں ہے کہ کیا ہم پلاسٹک کی آلودگی سے پاک دنیا تخلیق کرسکتے ہیں یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ایسی دنیا کو تخلیق کرنے کے لیے ہم کیا کوششیں کرسکتے ہیں اور کتنی کرینگے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں
لیاقت علی جتوئی سے مزید