آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی تپش اور آب وہوا کی تبدیلی میں سب سے بڑا کردار کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہوتا ہے۔ حال ہی میں ماہرین نے اس ماحول دشمن گیس کو دوبارہ کوئلے میں تبدیل کرنے کے لیے ایک ٹیکنالوجی تیار کی ہے ۔اس ضمن میں دنیا بھر کے ماہرین ایسی ٹیکنا لوجیز پر کام کررہے ہیں جو فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈکو دوبارہ جذب کرکے اس کی بڑھتی ہوئی مقدار کو کم کرسکیں ۔آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی نے کاربن ڈائی آکسائیڈکو دوبارہ زمین پر لانے میں کام یابی حاصل کی ہے ۔اس کے ذریعے سپر کیپیسٹر بھی بنائے جاسکتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی میں بہت وقت نہیں لگتا ۔نہ اس کے لیے کسی کیمیائی عمل اور زیادہ پریشر کی ضرورت ہوتی ہے ۔واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ٹھوس شے میں تبدیل کرسکتی ہے ۔اس میں موجود ایک دھات کو اورسیرئیم کے نینو ذرات کو ہلکی سی بجلی دی گئی تو گیس میں سے آکسیجن الگ ہوگئی اور صرف کاربن رہ گیا ۔آرایم آئی ٹی کے ماہر ٹور بن ڈائنا کا کہنا ہے کہ اس طر ح کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تجارتی پیمانے پر قید کرنا ممکن ہوگا ۔اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کو بڑے تجارتی پیمانے پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور کاربن بننے کے عمل میں اس میں چارج کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس عمل کی مدد سےمصنوعی ایندھن بھی تیار کیا جاسکتا ہے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں