آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ دورے میں 20؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہونے کو پاک سعودی تعلقات میں تزویراتی اقتصادی شراکت کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو بڑے اقتصادی پیکیجز دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود موجودہ حکومت بڑے پیمانے پر بیرونی قرضے اور بیرونی مالی وسائل حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بیرونی مالی وسائل پر بے تحاشہ انحصار بڑھاتے چلے جانے کے سیاسی مضمرات اور سلامتی کے تقاضوں سے قطع نظر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لئے ملکی و بیرونی وسائل میں توازن رکھنا ضروری ہوتا ہے جوکہ نہیں رکھا جا رہا۔

پاکستان جی ڈی پی کے تناسب سے اپنے جیسے کچھ ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں ٹیکسوں کی وصولی، قومی بچتوں اور ملکی سرمایہ کاری کی مد میں تقریباً گیارہ ہزار ارب روپے سالانہ (تقریباً 80؍ارب ڈالر سالانہ) کم وصول کر رہا ہے۔ دوست ممالک، عالمی مالیاتی اداروں اور انٹرنیشنل بانڈز وغیرہ کے اجراء سے پاکستان موجودہ مالی سال میں 80؍ارب ڈالر کا صرف ایک حصہ ہی حاصل کر پائے گا جو کہ معیشت کی پائیدار بحالی کے لئے ناکافی ہو گا۔

وطن عزیز میں جو حالیہ معاشی بحران لایا گیا تھا وہ بڑھتے ہوئے بجٹ اور تجارتی خسارے کا مرہون منت تھا۔ ان خرابیوں کی وجوہات دور کرنے کے لئے موجودہ حکومت نے اپنے منشور کی روشنی میں وفاق اور صوبوں کی سطح پر ضروری اقدامات اٹھانے کے بجائے ایسی معاشی پالیسیاں اپنائیں جن کے نتیجے میں بجٹ اور تجارتی خسارہ مزید بڑھ گیا۔ چند حقائق اور اعداد و شمار نذر قارئین ہیں

(1)موجودہ مالی سال کے پہلے 6؍ماہ میں جی ڈی پی کے تناسب سے بجٹ خسارہ 2.7فیصد رہا جو گزشتہ 8؍برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

(2)موجودہ مالی سال کے پہلے 7؍ماہ میں تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ رہا حالانکہ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لئے متعدد ایسے اقدامات کئے جن کا بوجھ عام آدمی پر ہی پڑا۔ توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں صورت حال بہتر ہو گی۔

(3)گزشتہ مالی سال میں افراط زر کی شرح 3.9فیصد رہی تھی جبکہ جنوری 2019ء میں یہ شرح 7.2فیصد رہی۔

(4)موجودہ مالی سال کے پہلے 7؍ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 17فیصد کمی ہوئی۔

(5)گزشتہ مالی سال میں معیشت کی شرح نمو 5.8 فیصد رہی تھی جبکہ موجودہ مالی سال میں یہ تقریباً 4فیصد رہ سکتی ہے۔

عالمی بینک کے کمیشن کی 2008ء کی رپورٹ کی روشنی میں مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں جاری کردہ ’’وژن 2025ء‘‘ میں کہا گیا تھا کہ 2018ء سے پاکستانی معیشت کی شرح نمو 8فیصد سے زائد رہے گی۔ موجودہ حکومت نے جو پالیسیاں اپنائی ہیں ان کے نتیجے میں عالمی ادارے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ مالی برسوں 2019ء، 2020ء اور 2021ء میں بھی پاکستانی معیشت کی شرح نمو بھارت اور بنگلہ دیش سے کم رہے گی۔

یہ امر باعت تشویش ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے 12؍ویں پانچ سالہ منصوبے میں معیشت کی اوسط شرح نمو صرف 5.4فیصد رکھی ہے۔

پاکستان کی کمزور معیشت، بیرونی قرضوں و امداد پر بے تحاشہ انحصار اور ملک میں سیاسی افراتفری اور بے یقینی کی کیفیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی مندرجہ ذیل صورت حال تشویش کا جواز فراہم کرتی ہے:

(1)متحدہ عرب امارات میں یکم مارچ سے ہونے والی مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس میں بھارت کو نہ صرف اعزازی مہمان کی حیثیت سے شرکت کرنے بلکہ اس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت بھی دینا۔

(2)برادر اسلامی ملک ایران نے 2016ء میں بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان ایرانی بندرگاہ چا بہار کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجارتی راہداری کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس سے پاکستان کو نظرانداز کر کے بھارت کو بھی افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں سمیت متعدد منڈیوں تک رسائی مل گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کشمیر کا مسئلہ حل ہوئے بغیر بھارت کو یہ راہداری دینے کے لئے آمادہ نہیں تھا۔

(3)2017-18ء میں پاکستان نے سعودی عرب کو صرف 303ملین ڈالر کا سامان برآمد کیا جبکہ اسی مالی سال میں بھارت کی سعودی عرب کو برآمدات کا حجم 5400؍ملین ڈالر رہا۔اب سعودیہ اگلے دو برسوں میں بھارت میں 100؍ارب ڈلر سے زائد کی سرمایہ کاری کے مواقع دیکھ رہا ہے۔

(4)2017-18ء میں پاکستان اور برادر اسلامی ملک ایران کی آپس میں تجارت کا مجموعی حجم صرف 400؍ملین ڈالر تھا جبکہ بھارت اور ایران کی آپس میں تجارت کا مجموعی حجم 13760؍ملین ڈالر تھا۔

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات روز اول سے ہی برادرانہ رہے ہیں اور سعودی عرب نے مشکل وقت میں پاکستان کی متعدد مرتبہ مدد کی ہے۔ نائن الیون کے بعد صورت حال میں یقیناً کچھ تبدیلی آئی ہے۔ فرینڈز آف پاکستان گروپ کے 26؍ستمبر 2008ء کے اجلاس میں امریکہ کی ایماء پر دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو اپنا پارٹنر بنانے کے لئے پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسانے کی حکمت عملی وضع کی گئی تھی۔ اس کے بعد 11؍نومبر 2008ء کو حکومت پاکستان نے کہا تھا کہ تمام دوست ممالک امداد دینے سے قبل یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان پہلے آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر اپنی معاشی پالیسیوں کی توثیق کرائے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ نے خطے میں اپنے استعماری مقاصد تبدیل کئے بغیر حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کرنے کے لئے پاکستان سے مدد کرنے کی درخواست کی ہے چنانچہ دوست مسلمان ملکوں کا رویہ بھی ہمدردانہ اور مثبت ہو گیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا 13؍فروری 2019ء کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ پاکستان کو یمن سعودی تنازع میں جھونکنے کی سازش نہیں ہو رہی لیکن یہ خدشہ اپنی جگہ برقرار ہے کہ اگر پاکستان نے خود انحصاری پر مبنی معاشی پالیسیاں نہ اپنائیں تو اول پاکستان نہ چاہتے ہوئے بھی آگے چل کر کسی تنازع میں ملوث ہوسکتا ہے اور دوم، بلوچستان میں (جہاں کئی بیرونی طاقتیں مداخلت کرتی رہی ہیں) احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے مناسب رقوم مختص نہیں کی جا سکیں گی چنانچہ پاکستانی معیشت اور سلامتی کے لئے خطرات بڑھتے چلے جائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں