آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمیونٹی کے مسائل کے حل میں حکام کی عدم دلچسپی

یورپی ممالک میں جس طرح پاکستانی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، اُسی رفتار سے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔ ناروے ، ڈنمارک ، سویڈن ، فن لینڈ ، جرمنی ، ہالینڈ ، بیلجم ، اٹلی ، فرانس ، پرتگال ، آسٹریا ، یونان ، اسپین اورسوئٹرزلینڈ ایسے ممالک ہیں جہاں پاکستانیوں کی کثیر تعداد آباد ہے جو کاروبار کے ساتھ ساتھ محنت مزدوری جیسے شعبوں سے منسلک ہے ۔یورپ کا خوبصورت اور موسم کے اعتبار سے سر فہرست ملک ا سپین ہے جہاں کبھی مسلمانوں کا دور ِحکومت تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مسلم اقتدار کا سورج 1492 میںہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا ۔پاکستانی کمیونٹی کوا سپین میں کچھ ایسے مسائل کا سامنا ہے جن کاحل حکومتِ پاکستان کے پاس ہے،یعنی ان مسائل کے حل کے لیے پالیسی بنا ئی جا سکتی ہے یا ہسپانوی حکومتی ہم منصبوں سےملاقات کرکے اِن مسائل کا تدارک کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان میں 70کی دہائی سے لے کر آج تک جو حکومتیں اقتدار میںرہیں انہوں نے تارکین وطن کے مسائل کے حل کو یقینی بنانے کے لئے کوئی واضح پالیسی مرتب نہ کی، جس کی وجہ سے تارکین وطن پاکستانی بہت سے معاملات میں اپنی مدد آپ کے تحت مسائل کے حل میں سر گرم عمل رہتے ہیں ۔

اسپین میں تارکین وطن پاکستانیوں کو درپیش سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی پاکستانی، ہسپانوی شہریت حاصل کرنے لگے تو اُسے پاکستان کی شہریت چھوڑنا پڑتی ہے ، یعنی وہ فرانس اور برطانیہ کی طرح دہری شہریت نہیں رکھ سکتا ۔اس حوالے سے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ سرکاری طور پر ہسپانوی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے دہری شہریت رکھنے کا معاہدہ تشکیل دے،تاکہ اسپین میں بسنے والے پاکستانی دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی طرح مستفید ہو سکیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اسپین میں اس وقت قانونی اور غیر قانونی طورپرمقیم پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ چکی ہے اوریہاں کوئی پاکستانی بینک نہیں ہے ، اگر بارسلونا یا اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ یا کسی بھی بڑے شہر میںپاکستانی بینک ہو تو تمام پاکستانی اپنی رقوم اُس بینک کے ذریعے پاکستان ارسال کرسکیں گے جس کا پاکستان کے قومی خزانے کو خاطر خواہ فائدہ ہو گا ۔ اسپین میں مقیم پاکستانیوں کی کل تعداد کا 70فیصد حصہ بارسلونا اور اِس کے گرد و نواح میں مقیم ہے لہذا بینک بارسلونا میں ہی قائم ہونا چاہیے ۔ سفارت خانہ پاکستان میں تعینات سفیر پاکستان خیام اکبر ، ہیڈ آف چانسلری دانش محمود اور قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کو چاہیے کہ وہ مقامی اداروں اور ہسپانوی سیاسی اکابرین کے ساتھ ملاقات میں اس معاملے کو زیر بحث لائیں اورانہیں دہری شہریت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کریں تاکہ وہ سیاسی اکابرین پارلیمنٹ میں جا کر پاکستانیوں کی دہری شہریت کا معاہدہ کرنے کے حوالے سے اپنی حکومت کو مجبور کر سکیں۔سفارت خانہ پاکستان میڈرڈ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کو لکھیں کہ وہ اسپین کا سرکاری دورہ کریں اور اپنے ہم منصبوں سے مل کر پاکستانیوں کو درپیش مسائل جن میں دہری شہریت جیسا مسئلہ ہے اُسے حل کرنے کے لئے اپیل کریں ۔ سفارت خانہ پاکستان میڈرڈ اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بارسلونا کو چاہیے کہ وہ پروگرامز میں مہمان خصوصی بن کر جانے کی بجائے مقامی پاکستانی کمیونٹی کی تاجر برادری کو منظم کریں اور اسپین کے اسکولوں میں اُردو زبان کی کلاسز یا اُردوا سکول کے اجراء کو یقینی بنانے کے لئے تعاون کرنے پر زوردیں، تاکہ ہماری یہاں پیدا ہونے والی نسلیں مقامی تہذیب کے ساتھ ساتھ اپنے کلچر ، زبان اور تہذیب و تمدن کے ساتھ بھی جڑی رہیں ۔پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے بنائی جانے والی درجنوں ایسوسی ایشنز اور فیڈریشنز کو چاہیے کہ وہ اپنے طور پر ان مسائل کو حل کرنے یا کروانے کے لئے میدان میں آئیں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے کی بجائے اپنی آئندہ نسلوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے کام کریں ۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی بارسلونا سے لاہور ، اسلام آباد اور سیالکوٹ کے لئے براہ راست پروازیں تو موجود ہیں لیکن پاکستان سے بارسلونا کے لئے براہ راست پرواز کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے ،جس کے لئے پی آئی اے حکام اور حکومتی نمائندوں کو باور کرانا بہت ضروری امر ہے ۔جس طرح مسلم لیگ قاف کے دور حکومت میں بارسلونا میں قونصلیٹ قائم ہوا اور پاکستان سے بارسلونا اور بارسلونا سے پاکستان کے مختلف شہروں کے لئے براہ راست پروازوں کا اجراء ہوا اِسی طرح موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اسپین میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے میں مدد گار بنے ، اسپین میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کا حل صرف مسلم لیگ قاف کے ذمے نہیں ہونا چاہیے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تارکین وطن پاکستانیوں کی طرف سے سالانہ بھیجا جانے والا زرمبادلہ کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ پاکستان کے قومی خزانے کو سیراب کرتا ہے ۔سفارت خانہ میڈرڈ اور قونصل خانہ بارسلونا کو پاسپورٹ ، شناختی کارڈ اور دوسرے سرکاری کاغذات کی تصدیق کے علاوہ بھی پاکستانی کمیونٹی اور اُن کی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے بہت سے کام کرنے کی ضرورت ہے جس کی طرف متوجہ ہونا،تارکین وطن پاکستانیوں کے حقوق کی پاسداری کے مترادف ہے۔

عالمی منظر نامہ سے مزید