آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ دنوں کراچی میں دو جواں سال نوجوان قتل ہوگئے۔ ایک جواں سال شاہ زیب اور دوسرا جاوید عزیز میمن۔ مبینہ طور پر سندھ کے دو وڈیروں کے بگڑے ہوئے بدمست بیٹوں کے ہاتھوں ایک ڈی ایس پی پولیس کے اکلوتے بیٹے شاہ زیب تو اپنے ہائی پروفائل کیس اور میڈیا کی توسط کی وجہ سے اب ہر گھر کا نام بن چکا ہے لیکن دوسرے مقتول جاوید عزیز کو آپ نہیں جانتے۔ جاوید عزیز میمن جسے کراچی سائیٹ کی حبیب بنک چورنگی پر اپنے بنک سے جہاں وہ کام کرتے تھے،کار میں گھر واپس آتے ہوئے گولی مار دی گئی۔ کہتے ہیں وہ سندھ کے مشیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کے کزن تھے۔ یہ کوئی اہم بات نہیں کہ اس سے جاوید عزیز میمن کو انصاف مل جائے گا! وہ حکومت جو اپنی پانچ سالہ میعاد حکومت کے اختتام کے دنوں تک اپنی پارٹی سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکی (اب تو یہ ایک محاورہ بن چکا ہے) وہ شرجیل انعام میمن کے کزن کے قاتلوں کو کیا ڈھونڈ نکالے گی؟ وہ حکومتی پارٹی تو صف دشمناں کو یہ خبر کرنے اور قاتلوں کو نوید دینے آئی ہے کہ قومی مصالحت سب کیلئے۔ ایک ایسا ملک ، شہر و صوبہ جہاں ایسے لیڈر جن کی پارٹیوں کے قاتل جتھے شہر میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہوں وہ بھی اپنی تقاریر میں فیض کی نظم 'دعا' سے یہ شعر پڑھ رہے ہوتے ہیں
جن کے سر منتظر تیغ

جفا ہیں ان کو
دست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
شہر کراچی جہاں دست قاتل عیاں اور قاتل ”نامعلوم“۔ تو”نامعلوم قاتلوں“ نے اس نوجوان جاوید عزیز کو قتل کردیا۔ جاوید عزیز اپنی زمانہ طالب علمی سے ایک ذہین، محنتی اور اعلیٰ دماغ اور درویش دل کا حامل نوجوان تھا، اس بجھا دیئے گئے چشم و چراغ کا تعلق ٹنڈوجام کے اس سندھی میمن خاندان سے تھا جنہوں نے سندھ میں زمانوں اور دہائیوں سے علم، ادب، آگہی و شعور کے میدانوں میں بڑی خدمت کی ہے۔ ان کے بڑوں نے حافظ کو سندھی میں ترجمہ کیا، بھٹائی کے شاعری کے شارح تھے۔ ممتاز سندھی دانشور اور مصنف سراج الحق میمن کا یہ خاندان سندھ میں پہلا غیر روایتی مڈل کلاس سمجھا جاتا ہے جس نے صحیح معنوں میں سندھ میں سماجی و علمی شعور کو آگے بڑھایا، زندگی کے ہر شعبے میں نام پیدا کیا اور جن کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ گھروں سے باہر نکل کر زندگی کے ہر شعبے میں آگے آئیں۔ اپنے بھائی سراج الحق میمن کی طرح ان کی بہن فہمیدہ حسین بھی سندھی کی لسانیات کی ماہر ہیں۔ وہ کئی برسوں جامعہ کراچی کے شعبے میں پڑھاتی رہیں۔ اس خاندان سے کئی بیوروکریٹس، جج اور وکلاء، اداکار، مصنف و دانشور، ڈاکٹر اور زرعی سائنسدان نکلے ہیں۔ کئی انتہائی پڑھے لکھے سابقہ نوجوان ہیں جن کا سندھ میں یہ جو 1960ء کے عشرے سے1980ء اور 90ئکے عشرے تک سیاسی و ادبی شعور تھا اس کے پھیلانے میں بھی بشمول جاوید عزیز جیسے نوجوانوں اور ان کی اگلی نسل کا بڑا کردار رہا تھا۔ بڑے بڑے ادبی میلے ہوں کہ خواتین اور بچوں کے حقوق کی جدوجہد اس خاندان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آگے آگے رہے تھے۔
ہم تو ٹھہرے ناستک، بے یقین لوگ جبکہ جاوید عزیز صوم و صلوٰة کا اتنا پابند کہ اس عمر میں بھی اس کی پیشانی پر محراب بن گیا تھا۔ اب پتہ نہیں کہ ”نامعلوم قاتلوں“ نے اسے اس کی پیشانی پر محراب اور داڑھی کی وجہ سے نشانہ بنایا یا اس کے بنے اس سر کی وجہ سے جو سندھی مائیں شیر خواری کے زمانے میں اپنے بچوں کے ایسے سر بٹھانے اور بنانے پر بڑی محنت کرتی ہیں۔ لسانی فسادات کے زمانے میں سندھیوں کے بیٹھے ہوئے سر بھی ”نامعلوم بندوق بازوں یا ٹرگر ہیپی یوتھ“ کو متوجہ کرنے کے موجب بنے رہے تھے لیکن کراچی میں تو اب کوئی لسانی فساد بھی نہیں چل رہا۔ اب تو بغیر کسی امتیاز کے خونریزی جاری ہے۔ اب سندھ کے اس غیر روایتی مڈل کلاس کے چشم و چراغ کو لگنے والی گولی سندھ کے شعور کو لگنے والی گولی ہے جس کے مارنے والے سب کو معلوم ہوتے ہوئے بھی ”نا معلوم قاتل“ ہیں۔ نہیں معلوم کہ قاتل اجرتی تھے کہ خود کو مڈل کلاس کہلانے والے شہری وڈیروں کے جیالے۔اب اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر شاہ زیب کے مبینہ قاتلوں نے ایسی واردات اندرون سندھ کی ہوتی جیسا کہ لاڑکانہ اور سکھر کے کئی لوگ گواہ ہیں کا ان کے باپ دادا بھی ایسی کئی وارداتیں کرتے رہے تھے تو شاید ان کو سندھی میں کہتے ہیں کہ جواں سال شاہ زیب کا کیس ”پھب“ جاتا (ہضم ہوجاتا) شاید اب یہ ہضم نہ ہو سکے۔ ڈی ایس پی کا بیٹا ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ مجھے1960ء یا 70ء کی دہائی میں ایک ڈی ایس پی کے بیٹے کا ہالا میں قتل یاد آ رہا ہے جس کا انصاف شاید اب تک نہ مل سکا ہو کہ اس کے بیگناہ خون کے کھرے بااثر لوگوں کی بڑی حویلیوں تک جاتے تھے۔ یہ لوگ حکمران پارٹیوں کے کور کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔لیکن شاہ زیب کے مبینہ قاتلوں کے برعکس جاوید عزیز کے قاتل ایک تو ”نا معلوم“ ہیں اور پھر ان کے والد نہ صدر آصف علی زرداری کے قریبی بتائے جاتے ہوں گے، نہ ان کی جیب میں پی پی پی کے وفاقی و صوبائی وزراء ہوں گے اور نہ ہی ان کو روہڑی سیمنٹ فیکٹری پرائیویٹائیزیشن کی نیلامی میں ملی ہوگی کہ جس کی پیشگی رقم جتنی تو کمیشن تھی جو اس زمانے کے مسٹر ٹین پرسینٹ کی جیب میں جانی تھی اور نہ پھر وہ ایک ایسے ٹی وی چینل کے مالک ہوں گے جس نے اسی شہر اجل میں رینجرز کے ہاتھوں مارے ہوئے نوجوان سرفراز شاہ کے قتل کی کوریج کی تھی تو سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں اور میڈیا جاوید عزیز کو انصاف دلانے کیلئے بھی میدان میں نکلتے۔ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اتنا ہائی لائٹ ہو کر جاوید عزیز کا خون بھی ہائی پروفائل بنتا۔
شاہ زیب ہو کہ جاوید عزیز یا وہ سب کے سب ماؤں کی آنکھوں کے تارے بیٹے اور بیٹیاں جن کو کراچی کی روشن و تاریک راہوں پہ مارا گیا یا کہ جن کے لاشے کراچی سے اندرون سندھ، پختونخوا، پنجاب ہو کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں پہنچے (یہاں تک کہ بگٹی خواتین کے بھی) وہ سب شاہ زیب و جاوید عزیز تھے۔ بقول پروین شاکر
آنسوؤں میں کٹ کٹ کر خواب کتنے گرتے ہیں
ایک جوان کی میت آ رہی ہے گاؤں میں
لیکن گاؤں بھی تو اب علی گل پیر کے گانے کی طرح ”وڈیرے کا بیٹا“ بنے ہوئے ہیں کہ جہاں سائیں تو سائیں، سائیں کا کتا بھی سائیں والی بات ہے۔ جہاں پیر، میر، وڈیرے اور کٹھ ملا گردن مخلوق پر ہمہ تن سوار ہیں۔
اک گردن مخلوق ہے سو ہر حال میں خم ہے
اک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے
اس کی ایک مثال سماجی میڈیا پر جاری ہونے والی وہ ویڈیو ہے جس میں مبینہ طور پر ایک پیر ایک پندرہ سولہ سالہ نوجوان کو ننگا کر کے اس پر ڈنڈے سے تشدد کر رہا ہے۔ خود عدالت اور جج بن کر اس غریب بچے سے موبائل فون کی چوری منوانے کی آڑ میں اس پیر کے پیٹ کا اصل درد اس بچے کی ماں ہے جس کے اتے پتے اور ازدواجی حیثیت معلوم کرنے کیلئے وہ بچے پر بے پناہ تشدد کر رہا ہے۔ وہ بچے کے جسم کے نازک حصوں پر ڈنڈے برسا کر پوچھتا ہے کہ اس کی ماں فلاں شخص کے ساتھ رہ رہی ہے تو نکاح کے ساتھ رہ رہی ہے یا اس نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لی ہے کہ نہیں! یہ سندھ کے لوگ ہیں کہ عظیم روسی ناول نگار دوستووسکی کے ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کے کردار۔ طاقتوروں کے آگے کیڑے مکوڑے سمجھے جانے والے لوگ۔
سندھ جو صوفیانہ کلچر کی حامل سرزمین سمجھی جاتی تھی وہاں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ایک انسان کو پلال (ایک طرح کا خشک گھانس) میں رکھ کر اس کو جلا دیا جائے گا۔ یہ پچھلے دنوں سب کچھ دادو ضلع کے سیتا ولیج گاؤں میں ہوا۔ ایک شخص کو قرآن کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں لوگوں نے گاؤں کی میمن مسجد سے پکڑ کر مقامی پولیس کے حوالے کیا۔ یہ کافی تھا کہ قانون اپنا کام کرتا، فیصلہ عدالتیں کرتی لیکن دوسرے روز21دسمبر کی صبح جب سندھ میں سندھی میڈیا ”سندھی کلچر ڈے“ منا رہا تھا مسجد سے حکمران پارٹی سے تعلق رکھنے والے وڈیرے کے بیٹے نے مبینہ طور اعلان کرکے لوگوں کو اشتعال دلایا اور پھر دو ہزار لوگوں کی مجمع نے تھانے پر حملہ کر کے لاکپ توڑ کر اس شخص کو نکال کر سنگسار کر کے ادھ موا کرنے کے بعد اسے آگ لگادی۔ اس تمام مجمع کے تشدد کی سیل فونوں پر بنی وڈیو سوشل میڈیا پر جرثومے کی طرح پھیلی۔ اس وڈیو میں لوگ مقدس نعرے بھی لگا رہے ہیں تو ایک قوم پرست پارٹی کے سرخ پرچم بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ جلایا جانے والا شخص مخبوط الحواس تھا تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اصل میں پنجابی بولنے والا یہ شخص اناج کا آڑھتی تھا جو مقامی وڈیروں کی طرف اپنی رقم وصول کرنے آیا تھا۔ اب شاید حقائق کبھی معلوم نہ ہوسکیں ۔