آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1940ء میں اعلان ہواکہ آل انڈیا مسلم لیگ کا جلسہ مارچ کے آخری ایا م میں لاہو ر میں ہونے جارہاہے، اس اطلاع کے ملتے ہی برصغیر کے مسلمانوںمیں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوگیا۔ لاکھوں کا مجمع اپنے قائد کی آواز سننے کو بیتاب تھا۔ قائد اعظم ؒ فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پر اترے تو لوگوں کا ایک ہجوم اپنے قائد کا شایان شان استقبال کرنے کیلئے موجود تھا، اسٹیشن پر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے تقریباً 100منٹ پر مشتمل ایسی تقریر کی کہ ہزاروں کی تعداد میں موجود حاضرین دم بخود رہ گئے۔ قائد نے برملا کہا ’’ ہندو الگ قوم ہیں اور ہم ایک الگ قوم، میں فخر سے کہتا ہوں کہ میںمسلمان ہوں اور مسلمانوں کا رہنما ہوں‘‘۔

قراردادِ پاکستان کے محرکات، وجوہات اور اس کے اثرات سے سبھی واقف ہیں۔ یہ ایک ایسا تاریخ ساز دن تھا، جس نے ہندو رہنمائوں کو دن میں تارے دکھادیے ۔اس قرارداد کی اساس پر چلنے والی سات سالہ جدوجہد کی بدولت جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بھارت کی خوش فہمی تھی کہ پاکستان ایک دن بھی اپنے پائوں پر کھڑا نہیں رہ سکے گا اور جلد ہندوستان میں شامل ہوجائے گا۔ اسی خوش فہمی میں 70سال سے زائد عرصہ بیت گیا اور تب سے لےکر آج تک نام نہاد سیکیولر ملک بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ حالیہ پاک بھارت کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی واپسی پر بھارتی حکومت احسان مند ہونے کے بجائے احسان فراموشی کی تصویر بنی رہی۔ ہمارا یقین ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والی ریاست پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی مگر بھارت اپنی کینہ پرور فطرت سے مجبور ہوکر پاکستان پر مختلف طریقوں سے وار کرنے کی لاحاصل کوششیں کرتا رہتا ہے۔

اگرہم خود پر بھی نظر ڈالیں تو کیا ہم قرار داد پاکستان کی روح کے مطابق زندگی بسر کررہے ہیں؟ قرار داد تو یہی کہتی تھی کہ ہر شخص کو مکمل آزادی ہوگی، لیکن درحقیقت معاشرے میں ایسا نظر نہیں آتا۔ ارتکاز دولت کی وجہ سے امیر اور غریب کا فرق بڑھتا جارہاہے ۔ صحت عامہ اور تعلیم کے مواقع ہرکسی کو حاصل نہیں ہیں۔ یہی صورتحال روزگار اور انصاف کی ہے۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ آنےوالا دن نیا ہوگا اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

ملک بھر میں یوم پاکستان پورے قومی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ دن کا آغازوفاقی دارالحکومت میں 31اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوتا ہے۔ ایک پُروقار تقریب میں صدرِ مملکت کی جانب سے اپنے شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی یوم پاکستان پریڈ شایانِ شان انداز سے منعقد کی جارہی ہے، جس کیلئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے گزشتہ ہفتے ـ’’دل دل پاکستان کی آواز پاکستان زندہ باد‘‘ کے عنوان سے نیا پرومو جاری کیا۔ زندہ قوموں کی پہچان ہے کہ وہ اپنے قومی دنوں کو جوش وجذبہ اور زندہ دلی سے مناتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دن جذبہ حب الوطنی کی تجدید بھی کی جائے۔ اس دن ایسے اقدامات یا عہد کیے جائیں، جس سے آپ پاکستان کی ترقی وخوشحالی میں بھی شراکت دار بنیں۔ ہمیں اس دن کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے، اس تاریخی دن نے آزاد ملک کے قیام کے لیے ایک لکیر کھینچ دی تھی، لہٰذا ہمیں ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں جس سے دشمن کا فائدہ ہوتا ہو۔ ایسی تمام باتوں کا بائیکاٹ کیا جائے، جس سے دشمن کو تقویت پہنچتی ہو۔ اس دن کو یومِ تجدید عہد سمجھتے ہوئے وطن عزیز کی سربلندی کیلئے کوششیں کرنے کا ارادہ کرنا چاہیے۔ ہمیں آپس کے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوںگے۔ اس کے علاوہ قائداعظم کے تین سنہری اصول ’’اتحاد، ایمان اور تنظیم‘‘ پر کاربند ہوتے ہوئے خود کو لسانی، علاقائی، مسلکی اور گروہی اختلافات سے دور رکھناہوگا۔ ساتھ ہی حکومت کی ان تمام پالیسیوںکی حمایت کرنی ہوگی، جو ملکی مفاد میں ہوں۔ ہمیں ملک کوصحیح سمت میں گامزن کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا ہوگا۔ ہمیں دوسروں کو بدلنے کیلئے پہلے خود کو بدلنا ہوگا ، بقول ظفرعلی خان

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں