آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

خوش خوراکی میں کراچی والے بھی کسی سے کم نہیں

عطا محمد

کراچی بدل چکا ہے۔ یہاں کی آب و ہوا وہی ہے، لیکن اب رہنے سہنے ،کھانے پینے اور سیر و تفریح کے سب انداز بدل چکے ہیں۔کراچی کی نہاری جو دو تین روپے میں پیٹ بھر دیتی تھی، اب غریب کی پہنچ سے دور ہوکر امیروں کا چونچلا بن گئی ہے۔ نہاری کی پلیٹ سو روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ نہ وہ ذائقہ ہے نہ وہ ماحول ۔کراچی جو 70 کی دہائی تک ایک بڑا غریب پرور شہر ہوتا تھا اور یہاں ملنے والے کھانے اور پکوان لذت اور معیار کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہوا کرتے تھے،یہ خوش ذائقہ اشیائے خورونوش نہ صر ف تازہ اور معیاری ہوا کرتی تھیں بلکہ کم قیمت بھی،نہ جیب پر گراں گزرتی تھیں، نہ معدہ پر،ہوٹلوں میں آدھا نان بھی مل جاتا تھا، جبکہ گریبی مفت ہوتی تھی، یہ شہر برنس روڈ کی مغز نہاری ، نلی نہاری ،سری پائے، سیخ کباب، گولہ کباب ، کٹا کٹ ،میٹھے دہی بڑے،ربڑی ، نمکین و میٹھی لسی ، پیر کالونی کی حلوہ پوری ،ڈرگ کالونی کے چپلی کباب ، بولٹن مارکیٹ کی تلی مچھلی، لیاری کے ماما ڈوسا کی دال چاول، ناظم آباد کے مرغ چھولے ، لنڈی کوتل چورنگی کا بالٹی گوشت ، سپر ہائی وے کا دنبہ روسٹ ،حسن اسکوائر کی سجی،لیاقت آباد کی مٹکا قلفی ،جامعہ کلاتھ مارکیٹ کی چاٹ ، پانی پوری ، گنے کے رس اور فریسکوکے سموسوںکےلئے مشہو ر تھا- لیکن اب یہ شہر بڑے تیزی سے مغربی ملکوں کے جنک فوڈ کلچر کو اپناتا جارہا ہے۔ کراچی والوں کے نخرے بدل گئے،ان کی زبان کے چٹخارے بھی ماحول کے ساتھ بدل گئے۔ اب یہاں بڑے بڑے غیرملکی اور مہنگے مہنگےریستوران کھل گئے ہیں۔پاکستان اب دال روٹی کھانے والا معاشرہ نہیں رہا ،بڑے شہروں اور خاص طور پر کراچی میں تو امریکی اور مغربی فوڈ چین اور فرنچائز کا انبار لگتا جارہا ہے۔70 کی دہائی میں نرسری پر خیام سنیما کی عقبی گلی میں ایک برگر شاپ ہوتی تھی ،جہاں سلاد کے بڑے بڑے پتوں کے ساتھبرگر اور کولڈ ڈرنک 2 روپے میں ملا کرتا تھا لیکن اس زمانے میں اس برگر کو ہیم برگر کہا جاتا تھا ، یہاں کھانے والوں کی قطار لگی رہتی تھی۔ برگر کا چلن توکوئی 25 سال پہلے عام ہوا، آج کراچی میں ایک وقت میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ برگر کھالیے جاتے ہیں،صرف برگرز کی اقسام اور ناموں پر نظر ڈالیں تو بھی یہ تعداد حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ جس شہر میں پہلے ٹھیلوں اورریڑھیوں پر صرف مرغ چھولے، حلیم، بریانی یا بن کباب کھائے جاتے تھے، آج وہاں بڑے بڑے غیر ملکی آوٹ لیٹس کھلے ہوئے ہیں اور ان کی ہر روز بڑھتی ہوئی رونق، گاہکوں کا رش، جدید انداز و تراش خراش اور صاف صفائی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ گویا آپ کسی اور ملک میں بیٹھے ہیں۔نئی نسل کے لیے حلیم اوربریانی کا ذائقہ اولڈ ہوگیا،آج برگر، سینڈوچ اور پیزا ان کاپسندیدہ ہے۔کراچی میں 90کی دہائی میں برگر کو متعارف کرانے کا سہرا مسٹربرگر کے سر ہے، اس امریکی غذا کو پاکستان کے دال روٹی والے معاشرے میں وہ پذیرائی ملی کہ آج 25 سال بعد بھی اسے ہاتھوں ہاتھوں خریدا جاتا ہے۔90کی دہائی میں لوگ برگر کے نام سے بھی ناواقف تھے ۔ 1998 میں پہلی مرتبہ امریکی فاسٹ فوڈ کمپنی نے پاکستانی معاشرے میں قدم رکھا ،جس کے بعد اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

فاسٹ فوڈ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کا آغاز 18 ویں صدی میں امریکا سے ہوا تھا۔ ابتدا میں سستے اور غیر معیاری قسم کے برگر صرف میلوں ٹھیلوں اور سرکس وغیرہ میں اسٹالز پر دستیاب ہوتے تھے۔ بعد ازاں انیسویں صدی میں ’’وائٹ کاسل‘‘ نامی پہلی فوڈ چین معرض وجود میں آئی جو اعلیٰ معیار کے برگر اپنے گاہکوں کو ریستورانوں میں فراہم کرتے تھے۔ اس کے 1948 اپنی فوڈ چین کا آغاز کیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے تیزی سے بدلتی دنیا میں فاسٹ فوڈ کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پانے لگا۔ رفتہ رفتہ فاسٹ فوڈ کی مقبولیت یورپ اور امریکا کے ساتھ دنیا میں پھیلنے لگی۔ مغرب سے فاسٹ فوڈ کلچر مشرق اور دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی پہنچ گیا۔ اگر چہ طبی ماہرین اور صحت سے متعلق اداروں نے فاسٹ فوڈ کو نقصان دہ قرار دیا ہے، مگر زمانے کی تیز رفتار ترقی اور وقت کی کمی کے باعث یہ کلچر تیزی سے ساری دنیا میں پھیلنے لگا۔ ہمارے یہاں رات کے کھانے کے طور پر ، شام کی چائے کے ساتھ برگر ہضم کرلیا جاتا ہے۔ گویا برگر ایک فیشن کی حیثیت اختیار کرگیا ہے،اب ہر چھوٹے بڑے شاپنگ مال میں فوڈ کورٹس کھل گئے ہیں-

لوگ گھر کے بنے ہوئے سادہ کھانوں کے بجائے بازار کے بنے ہوئے کھانے زیادہ شوق سے کھاتے ہیں۔ کراچی شہر کے جس علاقے اور حصے میں جائیں وہاں ہر گلی، محلے میں کھانے کی اشیا ءفروخت ہوتی نظر آئیں گی۔ کئی دکان والےجو دوسرا کام کرتے تھے، انہوں نے وہ کام چھوڑ کر، کھانے پینے کی اشیا ءفروخت کرنی شروع کردی ہیں، جس میں سب سے زیادہ فاسٹ فوڈ بکتا ہے‘۔‘۔ شہر میں فاسٹ فوڈ کے نام پر بکنے والے چکن اور بیف برگرز، بن کباب، فرنچ فرائز، رولز اور دیگراشیاء شامل ہیں۔ اکثر اوقات دفتروں اور دیگر اداروں میں کام کرنیوالے افراد لنچ ٹائم میں بھی اسی طرح کے کھانے کھانا پسند کرتے ہیں۔ چھٹی کا دن ہو یا ویک اینڈ شہریوں کی ایک بڑی تعداد ان کھانوں لئے شہر کے مختلف ریستورانوں کا رخ کرتی ہے۔

ان غیر معیاری کھانوں سے انسانی صحت تباہ ہورہی ہے۔ فاسٹ فوڈ کا کاروبار کرنیوالے ان اشیا ءکی تیاری حفظان صحت کے اصولوں کو پس پشت ڈال کر اپنا کاروبار چمکانے میں مگن ہیں۔ شہری یہ نہیں جانتے یا جانتے ہوئے بھی کہ زبان کے چٹخارے انھیں کئی بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیںوہ ان کو کھانے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔

جنک فوڈ سے جسم میں توانائی کے بجائے کیلوریز میں اضافہ کرتا ہے۔ صبح کا ناشتا اور رات کا کھانا تاخیر سے کھانے کے باعث کراچی کے لوگوں کی سماجی زندگی اب گھر اور خاندان کے بجائے ہوٹلوں تک محدود ہوگئی ہے۔ جو لوگ اچھا کھانا کھانے اور کھلانے کے شوقین تھے، اب گھروں پر روایتی کھانوں کی دعوتیں کرنے کے بجائے ہوٹلوں میں کھانا کھانے اور کھلانے کو ترجیح دیتے ہیں ‘۔کراچی کسی بھی علاقے میں چلے جائیںریستوران میں رش کی وجہ سے جگہ نہیں ملتی،تو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ گھنٹوں تک ٹریفک میں پھنسے رہنے کی کوفت کے باجود لوگ ان آوٹ لیٹ میں جگہ ملنے کا انتظار کرتے ہیں۔ بعض علاقے تو ایسے ہیں ،جہاں کے ریستوران بہت عروج پرہیں۔ جنک فوڈ اور ان کے ساتھ انرجی سافٹ ڈرنک کے استعمال سے معدے میں تیزابیت بڑھ رہی ہے ،جس سے نظام ہضم کی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے،اس کے باوجود اب بھی شام ہی سے کراچی میں انواع و اقسام کے کھانوں کا مراکز پر کھانوں کے شائقین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ خوش خوراکی میں کراچی والے بھی کسی سے کم نہیں۔

کولاچی کراچی سے مزید