• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غلافِ کعبہ پکڑ کر حمد و نعت لکھنے کی دُعا مانگی

بات چیت:عذرا انتصار

کہتے ہیں کہ شاعری کی نہیں جاتی، بلکہ اس کا نزول ہوتا ہے ۔ ایک شاعر معاشرے کا حسّاس ترین فرد ہوتا ہے اور بہترین شاعر اُسے تسلیم کیا جاتا ہے کہ جس کی شاعری عوامی جذبات کی ترجمان ہو۔ حسّاسیت کے علاوہ شعراء کی ایک اور پہچان بھی ہے اور وہ ہے، عشق۔ عشق جتنا سچّا ہوگا، شعر بھی اتنا ہی عُمدہ ہوگا۔ اور جب کوئی شاعر عشقِ حقیقی میں مبتلا ہو جائے، حمدو نعت گوئی کی سعادت حاصل کرلے، تو اس کی کیفیات کی بات ہی کیا۔ ایک ایسی ہی عاشقِ رسولﷺ ،بہترین نعت گو شاعرہ، نورین طلعت عروبہ بھی ہیں۔’’حاضری ‘‘ اور ’’زہے مقدّر‘‘ جیسی نعتیہ شاعری کی خالق،نورین طلعت عروبہ سے،جو امریکا میں مقیم ہیں، گزشتہ دنوں ایک خصوصی نشست ہوئی، جس کا احوال پیشِ خدمت ہے۔

س :اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں۔

ج :میری پیدایش پنجاب کے ضلع، اٹک میں ہوئی، لیکن ابھی چند ماہ کی تھی کہ خاندان راول پنڈی منتقل ہو گیا۔ میرے دادا، اظفر حسین پیشے کے اعتبار سے معالج تھے، لیکن حمدیہ اور نعتیہ شاعری کے علاوہ انہوں نے سلام اور مناقب بھی لکھیں۔ شاعری کا شوق دادا سے ہوتا، والد کے ذریعے ہم سات بہن، بھائیوں میں سے پانچ تک پہنچا۔ مَیں اپنے ددھیال کے بچّوں میں سب سے بڑی تھی اور میرا بچپن ہر لحاظ سے شان دار تھا۔ پہلی اولاد ہونے کے ناتے مُجھے اپنے بڑوں سے سیکھنے کا خُوب موقع ملا اور میری ہر فرمائش پوری ہوئی۔ گھر کا ماحول ابتدا ہی سے دوستانہ تھا۔ والدین نے خُوب صُورت تہذیبی اقدار کے ساتھ پروان چڑھایا۔ دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میرے والد بھی شاعری کیا کرتے تھے۔ گھر میں ایک بڑی سی لائبریری تھی اور اہلِ خانہ کے درمیان زیادہ تر گفتگو مصرعوں میں ہوتی تھی۔ میری ادب دوست والدہ، فہمیدہ انوار نے میرے ادبی ذوق کو جِلا بخشی۔ زمانۂ طالب علمی میں بین الکلیاتی مباحثوں کے لیے تقاریر وہ ہی لکھ کر دیتی تھیں اور انہیں یاد کروانے ، جملوں کی ادائیگی وغیرہ کی ذمّے داری بھی انہوں نے اپنے سَر لے رکھی تھی۔ والدہ کی اس محنت کی بہ دولت مَیں کالج اور یونی ورسٹی کے 6سالہ دَور میں 342 انعامات حاصل کرنے کا ریکارڈ بنانے والی واحد طالبہ تھی۔ مَیں نے قائد اعظم یونی ورسٹی سے مطالعۂ پاکستان اور پنجاب یونی ورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کیا۔

س :شاعری بالخصوص نعتیہ شاعری کی طرف کیسے راغب ہوئیں؟

ج :ایک تو گھر کا ماحول علمی و ادبی تھا، پھر والدین کے علاوہ مَیں نانی کی وجہ سے بھی شاعری کی جانب راغب ہوئی۔ انہیں کئی اشعار زبانی یاد تھے اور وہ ہم سب کزنز کے درمیان بیت بازی کے مقابلے کرواتی تھیں۔ ہمیں زیادہ تر علاّمہ اقبال کے اشعار یاد کروائے جاتے اور بیت بازی کا مقابلہ جیتنے پر انعام بھی ملتا۔ شعر و شاعری سے یہ اُنسیت دَورِ طالب علمی میں میرے لیے بہت مفید ثابت ہوئی۔ میں نے کالج کے زمانے ہی سے غزلیں ، نظمیں لکھنا شروع کر دی تھیں اور کالج کے پہلے بین الکلیاتی مشاعرے میں پہلا انعام حاصل کیا۔ تب اکثر افراد اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مَیں شاید اپنے والدکا کلام پڑھتی ہوں ۔ مُلک کے معروف شاعر، انور مسعود کی اہلیہ، صدیقہ انور ہمیں کالج میں پڑھاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ کالج کی ٹیم لے کر لاہور جا رہی تھیں۔ اتفاقاً انور مسعود صاحب کو بھی کسی کام سے لاہور جانا تھا اور وہ بھی ٹرین میں ہمارے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ وہ میرے والد کے بہت اچّھے اور بے تکلف دوست تھے۔ وہ راول پنڈی سے لاہور تک اَن گنت چھوٹے بڑے مصرعوں پر مُجھ سے گرہیں لگواتے رہے اور آخر میں کہا کہ ’’اب اگر کوئی میرے سامنے یہ کہے گا کہ تم اپنے ابو سے شاعری لکھوا کر پڑھتی ہو، تو مَیں اُسے بتائوں گا کہ ایسا نہیں ہے۔‘‘ میری شادی کم عُمری ہی میں ہو گئی اور شادی کے بعد سعودی عرب میں سکونت پزیر ہونے کا موقع ملا، تو اس دوران مسجد الحرام اور مسجدِ نبویؐ میں متواتر حاضری نے میرے دل کی کیفیت بدل دی ۔ ایک روز مَیں نے حطیم میں غلافِ کعبہ پکڑ کر یہ دُعا مانگی کہ ’’یا اللہ !مُجھے حمد و نعت لکھنے کی توفیق عطا فرما، چاہے اس کے بدلے مُجھ سے غزل کہنے کی صلاحیت واپس لے لے۔‘‘ مَیں یہ دُعا مانگ کر ابھی پلٹی ہی تھی کہ اچانک یہ شعر ذہن میں آیا کہ؎ نعت کا شعر عقیدت کے اجالے سے بنے… میری پہچان اسی ایک حوالے سے بنے۔ بھلا خانۂ کعبہ میں مانگی گئی دُعا کیسے رَد ہو سکتی تھی اور پھر حمد و نعت ہی میری پہچان اور حوالہ بن گئے۔ آج دُنیا میں کہیں بھی حمد و نعت کا تذکرہ ہو، تو اس میں میرے حصّے کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ اس واقعے کے بعد چند ماہ کے دوران ہی مَیں نے اچّھی خاصی نعتیں لکھیں۔ کچھ عرصے بعد معروف شاعر اور پبلشر، خالد شریف اپنی اہلیہ کے ساتھ عُمرے پر تشریف لائے ،تو انہوں نے میری نعتیں دیکھیں اور کہا کہ ’’ہم تمہاری نعتوں کی کتاب چھاپیں گے۔‘‘ یہ کُل 72نعتیں تھیں۔ میری نعتوں کی تعداد شمار کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ’’ میں نے شاعرات کی نظموں اور غزلوں کے بے شمار مجموعے شایع کیے ہیں، لیکن اس عہد میں یہ کسی شاعرہ کی پہلی کتاب ہو گی، جو باقاعدہ نعتیہ مجموعہ کہلائے گی۔‘‘ یوں 2001ء میں میری نعتوں کا پہلا مجموعہ ماورا پبلشر نے ’’حاضری‘‘ کے نام سے شایع کیا۔ میری خوش نصیبی ہے کہ محسن بھوپالی صاحب نے میری اس کتاب پر ایک مضمون لکھا اور کتاب کے فلیپس جناب حفیظ تائب اور امجد اسلام امجد نے تحریر کیے۔ اس کتاب کو خاصی پزیرائی ملی اور قومی سیرت کانفرنس میں صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور صوبائی سیرت کانفرنس میں گورنر پنجاب نے اسے سیرت ایوارڈ سے نوازا۔

غلافِ کعبہ پکڑ کر حمد و نعت لکھنے کی دُعا مانگی
کیلنڈر کا حصّہ بننے والی نورین طلعت عروبہ کی نعتیہ شاعری کا ایک عکس

س :کہا جاتا ہے کہ شاعری کا نزول ہوتا ہے، تو نعتیہ کلام لکھتے وقت ایک شاعر کی کیا کیفیات ہوتی ہیں؟

ج :یہ تو لُطف و کرم کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے، جو میری ایک مقبول دُعا کے بعد شروع ہوا۔ اس دُعا کے بعد کوئی دن ایسا نہیں گزرا کہ جس روز مَیں نے کوئی نعتیہ یا حمدیہ شعر نہ کہا ہو۔ تاہم، اس وقت کی کیفیات بیان نہیں کر سکتی۔ البتہ یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ کرم کے اس سلسلے سے جو افراد بھی وابستہ ہیں، وہ شُکر گزار بھی ہیں اور انہیں اپنی ذمّے داری دوسروں سے زیادہ ہونے کا احساس بھی ہے۔ مَیں ہر گھڑی اپنے رب کا شُکر ادا کرتی رہتی ہوں، مگر میرے منہ سے ادا ہونے والے الفاظ اس کی بے پایاں رحمت کے سامنے ہیچ ہیں۔

س :آپ کسی نعت گو شاعر سے متاثر ہیں؟

ج :گرچہ مُجھے مختلف اوقات میں مختلف شعراء کے اشعار متاثر کرتے ہیں، لیکن مولانا ظفر علی خان کی نعتیہ شاعری مُجھے بے حد پسند ہے۔ دَورِ حاضر کے شعراء میں سے صبیح رحمانی، قمر وارثی اور سرور حسین نقشبندی سے متاثر ہوں، جب کہ ان کے علاوہ بھی بہت سے نعت گو شعراء اچّھے شعر کہہ رہے ہیں۔ میرے خیال میں تو یہ صدی نعت کی صدی ہے۔

س :اب تک آپ کے کتنے شعری مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں؟

ج: میرے دو نعتیہ مجموعے، ’’حاضری‘‘ اور’’ زہے مقدّر‘‘ اور ایک حمدیہ شاعری کا مجموعہ، ’’ربّنا‘‘شایع ہو چُکا ہے، جب کہ ایک نعتیہ شاعری کا مجموعہ، ’’مستحب‘‘ اور ایک حمدیہ شاعری کا مجموعہ،’’ الّٰلھم لبّیک‘‘ اشاعت کے مراحل میں ہے۔

س :آپ نے کافی عرصہ سعودی عرب میں گزارا اور آج کل امریکا میں مقیم ہیں ۔ ان دونوں ممالک کے ماحول میں خاصا فرق پایا جاتا ہے، تو کیا ماحول بھی آپ کی شاعری پر اثر انداز ہوتا ہے؟

ج :میرے معاملے میں وقت کی ترتیب کچھ اور ہی رہی ہے۔ مُجھے خدا کا گھر پہلے اور خدا کی شان بعد میں دکھائی گئی۔ سعودی عرب میں گزرا ہوا وقت بے شک میری زندگی کا سرمایہ ہے اور امریکا میں بھی اچّھا وقت گزر رہا ہے۔ یہاں میرے دَورِ طالب علمی کی کئی سہیلیاں مقیم ہیں اور ریڈیو، ٹی وی کے کچھ پُرانے احباب بھی موجود ہیں۔ لہٰذا، مَیں خود کو پاکستانی ماحول کے قریب تر پاتی ہوں۔ اب جہاں تک شاعری کی بات ہے، تو سعودی عرب کی طرح امریکا میں بھی مجھ پر اللہ پاک کی عنایات کا سلسلہ جاری ہے۔ حمدیہ و نعتیہ شاعری کے لیے دِل کا جو ماحول ہونا چاہیے، وہ مُجھے میسّر ہے اور ویسے بھی میرے لیے سُخن کے اعتبار سے ہر جگہ ایک جیسی ہے۔

س :حمدیہ و نعتیہ شاعری کو مسلمانوں اور اسلامی ممالک میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے آپ کا تجربہ کیسا رہا اور آپ کی شاعری کو کس قدر پزیرائی ملی؟ نیز، کیا آج کل کے نوجوانوں میں بھی حمدیہ و نعتیہ شاعری کا رجحان پایا جاتا ہے؟

ج :مُجھے نعتیہ شاعری کو فروغ پاتا دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔اس وقت تقریباً پوری دُنیا ہی میں دوسری اصنافِ سُخن کے ساتھ حمد و نعت پر بھی کافی کام ہو رہا ہے اور یہ آپ ﷺ کے نامِ مبارک کا صدقہ ہے کہ اس صنفِ سُخن اور اس سے وابستہ افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔؎ دُنیا جو دیکھتی ہے مُجھے احترام سے… یہ قدر و منزلت ہے محمدؐ کے نام سے۔ تاہم، اردو زبان کو آج ہم نے جس حال تک پہنچا دیا ہے، وہ افسوس ناک ہے اور اسی لیے نوجوان نسل اس جانب متوجّہ نہیں۔ مگر اس صورتِ حال کے ذمّے دار بچّے نہیں، بلکہ اُن کے والدین ہیں، جو اردو کا گلا گھونٹنے میں مصروف ہیں۔ مُجھے کم سنی میں آپ ﷺ کی مدحت کا اعزاز نصیب ہوا اور یہ کوئی معمولی اعزاز نہیں۔ مدحتِ رسولﷺ کے باعث مُجھے دُنیا بَھر میں جو عزّت ملی، وہ بہت کم خواتین کو ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی پر میں اس کا شُکر ادا کرتے نہیں تھکتی۔

غلافِ کعبہ پکڑ کر حمد و نعت لکھنے کی دُعا مانگی
سابق صدر، آصف علی زرداری سے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے

س :ذاتی زندگی کے بارے میں بھی مختصراً بتائیں۔

ج: زمانۂ طالب علمی ہی میں میری شادی ہو گئی تھی اور یہ خالصتاً ارینجڈ میرج تھی۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے میرے خاوند، چوہدری خورشید انور بھی شعر و ادب کے دل دادہ تھے۔ مَیں نے آج تک اُن کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا فرد نہیں دیکھا کہ جسے کلیاتِ اقبال زبانی یاد ہو۔ میرے رفیقِ حیات کے حافظے کا یہ عالم تھا کہ انہیں نثر کی مشہور کتاب، ’’آوازِ دوست‘‘ بھی لفظ بہ لفظ یاد تھی۔ انہوں نے ادبی سرگرمیوں میں ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ ہماری تین بیٹیاں ہیں، مدیحہ، وجیہہ اور تعظیم، جو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ ان تینوں کو شاعری صرف سُننے کی حد تک پسند ہے۔

س :زندگی میں کبھی مشکلات کا سامنا کیا؟

ج :مَیں تو لفظ مشکل کے مفہوم سے بھی واقف نہیں۔ والدین کے گھر میں تھی، تو محبتوں کے حصار میں تھی اور اس’’ تختِ طاؤس‘‘ سے اُتری، تو شوہر کے دل میں جا بیٹھی۔ انہوں نے کسی معاملے میں بھی مُجھ سے اختلاف نہیں کیا۔

س :زندگی کا وہ لمحہ، جب خود پر فخر محسوس ہوا ہو؟

ج :میری زندگی میں ایسے لمحات بہت آئے۔ یہی وجہ ہے کہ میرا وقت اُس ربِ کائنات کی شُکر گزاری میں بسر ہوتا ہے، جس نے ہمیشہ مُجھ پر اپنے کرم کا سایہ کیے رکھا۔ البتہ اپنی پہلی بیٹی، مدیحہ انور کی پیدایش اور اپنی پہلی نعتیہ کتاب، ’’حاضری‘‘ کی اشاعت پر عطا کا احساس مُجھے ہمیشہ مسرور کر دیتا ہے۔

س :اب تک کتنے ممالک کی سیر کر چُکی ہیں اور پسندیدہ مُلک کون سا ہے؟

ج :مَیں نے کئی ممالک کی سیر کی، لیکن دُنیا کا کوئی مُلک پاکستان جیسا نہیں۔

س :ان دنوں کیا مصروفیات ہیں اور فارغ وقت کیسے گزارتی ہیں؟

ج : ویسے شاعر کو اپنی زندگی میں فرصت نہیں ملتی۔ البتہ شاعری کے علاوہ میرا دوسرا شوق کھانا بنانا ہے اور یہی آج کل کی مصروفیت ہے۔ مَیں گزشتہ 2برس سے امریکا میں ہوں اور اس دوران مزید3کُتب ترتیب دے چُکی ہوں ، جب کہ چوتھی مکمل ہونے کے قریب ہے۔

س :سعودی عرب اور امریکا میں گزارے گئے رمضان المبارک میں کیا فرق ہے؟

ج :سعودی عرب اور امریکا میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ یہاں ہمارے کان اذان کی آواز سُننے کو ترس جاتے ہیں ۔ موبائل فون پر اذان کے اوقات سیٹ کرنے پڑتے ہیں۔ البتہ یہاں بھی سعودی عرب ہی کی طرح افطار پارٹیز ہوتی ہیں اور مسلمان اپنے طور پر عبادات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ یہاں کے سبزی، پھل اور گوشت وغیرہ سمیت کوئی چیز بھی ذائقے دار نہیں اور کھانے کو بڑی محنت سے مزے دار بنانا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں ہم فروٹ چاٹ کے لیے امرود لینے گئے، تو کئی دُکانوں کے چکر لگانے کے بعد امرود ملا اور وہ بھی ڈیڑھ کلو کا۔ اس ایک امرود سے 15روزوں تک فروٹ چاٹ بن سکتی ہے۔

س :کوئی ایسی خواہش، جو پوری نہ ہوئی ہو؟

ج: مسجدِ اقصیٰ کی زیارت کی تمنّا ہے۔

س :پسندیدہ شعر؟

ج: دُنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ…مَیں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰﷺ کے بعد۔

س:پسندیدہ شاعر؟

ج: منیر نیازی۔

س :پسندیدہ لباس اور کھانا؟

ج: شلوار قمیص میرا پسندیدہ لباس ہے اور مٹن کی روایتی ڈشز بالخصوص کباب کی مختلف ورائٹیز پسند ہیں۔

س :زندگی میں کام یابی کے لیے کوئی خاص وظیفہ؟

ج: درودِ ابراہیمیؑ سے اچّھا کوئی وظیفہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جو افراد یہ درود پڑھنے کے عادی ہیں، وہ اس کے فضائل سے واقف ہیں۔

س :قارئین کے لیے کوئی پیغام؟

ج: ہماری زندگی بہت مختصر ہے ، اسے نفرتوں میں ضایع نہیں کرنا چاہیے،لہٰذا محبتیں بانٹیے اور خوش رہیے۔

تازہ ترین