• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خواب دیکھنا ہم سب کا حق ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آپ اپنا حق کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا درست ہوگا کہ کون کتنا اور کس قدر خواب دیکھنے کا حق استعمال کرتا ہے۔ ہم سب ذاتی نوعیت کی باتیں ایک دوسرے سے چھپاتے ہیں مگر میں کسی سے کچھ نہیں چھپاتا۔ یہ میری خود ثنائی نہیں ہے۔ آدمی چھپاتا تب ہے جب اس کے پاس چھپانے کے لئے کچھ ہوتا ہے۔ میرے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ اس لئے میں آپ سے اپنے خوابوں کا ذکر لے کر بیٹھ گیا ہوں۔ خواب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ خواب جو سو جانے کے بعد ہم دیکھتے ہیں۔ دوسرے وہ خواب جو ہمیں دکھائے جاتے ہیں۔ وہ خواب جو ہم سو جانے کے بعد نیند میں دیکھتے ہیں، مجھے اچھے نہیں لگتے، جو لوگ ہمیں اچھے نہیں لگتے، وہ ہمیں خواب میں آکر ڈراتے ہیں۔ ان کے دانت بڑے اور سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ وہ بھوت لگتے ہیں۔ ہم چیخ مار کر جاگ جاتے ہیں اور پسینے میں شرابور ہوتے ہیں۔ دفتر میں ہماری خواتین کولیگ جو ہمیں گھاس نہیں ڈالتیں، خواب میں وہ ہمیں چڑیلیں لگتی ہیں۔ مجھ جیسے کنجوس مکھی چوس لوگ پائی پائی بچا کر غلے میں جمع کرتے ہیں۔ خواب میں وہ غلہ کوئی ڈکیت ہم سے چھین کر بھاگ جاتا ہے۔ ہم ہڑبڑا کر نیند سے اٹھ بیٹھتے ہیں۔ اس طرح کے ڈرائونے خواب خود بخود آتے ہیں اور ہمیں خوفزدہ کرتے ہیں۔

دوسرے قسم کے خواب ہم خود نہیں دیکھتے۔ دوسرے قسم کے خواب ہمیں دکھائے جاتے ہیں۔ وہ خواب ہمیں بہت اچھے لگتے ہیں۔ خود بخود آنے والے خوابوں اور ہمیں دکھائے جانے والے خوابوں میں کسی قسم کی مماثلت نہیں ہوتی۔ خود بخود آنے والے خوابوں کی کوئی تعبیر نہیں نکلتی۔ خواب میں آپ کا غلہ اٹھا کر بھاگ جانے والے چور سے اگر آپ گتھم گتھا ہوجائیں اور چور آپ کو خنجر گھونپ دے تو آپ مرتے نہیں، آپ جاگ جاتے ہیں۔ تعبیر میں آپ خود کو زندہ جاوید دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس دکھائے جانے والے خوابوں کی تعبیر آپ کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ نقل مکانی پر آمادہ کرنے کے لئے آپ کو خواب دکھائے جاتے ہیں کہ جہاں آپ جارہے ہیں وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ پیسے اور اشرفیاں درختوں پر لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہاں آپ کو محنت مشقت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ضروریات زندگی کے لئے آپ درخت کا تنا جھنجھوڑیں۔ ٹہنیوں پر لگے ہوئے پیسے اور اشرفیاں آپ پر برسنے لگیں گی مگر جب آپ نقل مکانی کرکے وہاں پہنچتے ہیں تب تعبیر میں آپ کو لق و دق صحرا دکھائی دیتا ہے۔ پچھلے دنوں کپتان کی حکومت نے، بلکہ خود کپتان نے پوری قوم کو ایک سہانا سپنا، یعنی خواب دکھایا تھا۔ کپتان کی حکومت سے پہلے کسی حکومت نے اچھی تعبیر کے لئے ترسنے والی قوم کو ایسا سپنا نہیں دکھایا تھا۔ اگلے وقتوں کے حکمران اگر چاہتے تو سترہ مرتبہ ایسا سہانا سپنا دکھا کر قوم کو بھنگڑا ڈالنے کے لئے آمادہ کر سکتے تھے۔ مگر کپتان سے پہلے کسی حاکم نے اتنا بڑا خواب ہمیں نہیں دکھایا تھا۔ اپنے ایک دور اقتدار کے دوران میاں نواز شریف نے قوم کو ایٹم بم کا دھماکا کرکے دکھایا تھا۔ تب قوم نے ان سے پوچھا تھا کہ میاں صاحب ایٹم بم کا دھماکا کرنے کے بعد کیا ہمارے بچوں کا معیار زندگی بہتر ہوجائے گا؟ ان کو اچھی تعلیم میسر ہوسکے گی؟ بے روزگاروں کو روزگار ملے گا؟ سب کو یکساں علاج معالجے کی سہولتیں میسر ہوں گی؟ حقدار کو حق ملے گا؟ انصاف میں تاخیر نہیں ہوگی؟ سائیکل چور کو چھ ماہ کی سزا کا فیصلہ سننے کے لئے بیس برس جیل میں سڑنا نہیں پڑے گا؟ میاں صاحب جواب دئیے بغیر ملازمت سے محروم ہوگئے تھے۔

پچھلے بیس پچیس برسوں سے سمندر کے پاتال میں چھپے تیل اور گیس کے ذخیروں کی تلاش ہورہی ہے۔ کپتان کی باتوں سے متاثر ہو کر قوم نے سہانی تعبیر کے لئے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا شروع کردیا، کپتان کی باتوں سے لگتا تھا کہ سمندر کے پاتال سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہو جانے کے بعد پاکستان دبئی بن جائے گا۔ مگر سمندر کے پاتال سے ہمیں ملیں مری ہوئی مچھلیاں۔ ہمیں دکھائے جانے والے خوابوں کی تعبیر اس سے مختلف نہیں ہوتی۔

پچھلے دو تین برسوں سے کراچی کے ہم پرانے باسیوں کو سہانے سپنے دکھائے جارہے ہیں۔ ہمیں اچھے لگے ہیں۔ کراچی کو انیس سو پچاس اور اس سے پہلے جیسا کراچی بنانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ گزرے ہوئے زمانے کبھی واپس نہیں آتے۔ سمندر میں اتر جانے والا دریائوں کا پانی پلٹ کر پھر کبھی واپس نہیں آتا۔ انیس سو سینتالیس میں کراچی کی آبادی ڈھائی پونے تین لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ انیس سو پچاس میں کراچی کی آبادی بڑھ کر سات آٹھ لاکھ کے قریب ہوگئی تھی۔ اب کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہر عمرانیات ہمیں آگاہ کریں کہ کراچی کے علاوہ دنیا کے کونسے شہروں کی آبادی اس قدر بڑھی ہے؟ خود سندھ سرکار نہیں جانتی کہ کراچی کی آبادی کتنی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی کی آبادی روزانہ ایک ہزار سے پندرہ سو نفوس کے اضافے سے بڑھ رہی ہے۔ بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کیلئے ایک انگریزی محاورہ ہے Population Explosion:آبادی کا دھماکہ اور اسی حوالے سے بے ضبط بڑھتی ہوئی آبادی کو کہتے ہیں Mother of all problemsمسائل کی ماں! پاکستان بننے سے پہلے کراچی میں رہنے والے گنتی کے ہم چند لوگ سہانے سپنے دکھانے والوں سے جاننا چاہتے ہیں کہ ڈھائی کروڑ والے شہر کراچی کو تین لاکھ والے صاف ستھرے شہر کراچی میں کیسے بدلیں گے؟

تازہ ترین