آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

21ویں صدی کی برطانوی مسجد کیسی ہونی چاہیے؟ کیا وہ عربی ثقافت کی پیروی کرتے ہوئے گنبد اور مینار پر مبنی ہونی چاہیے یا شمالی افریقی کلچر کی عکاس ہو، جس میں مٹی کا زیاہ استعمال کیا جاتا ہے؟ یا مسلم ثقافت کو ایک طرف رکھتے ہوئے اسے جدید برطانیہ کی پُرتعیش اور عمودی عبادت گاہوں سے متاثر ہونا چاہیے؟ یا پھر کسی مختلف ہائبرڈ آرکیٹیکچر کا انتخاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک بالکل منفرد عبادت گاہ تعمیر کی جائے، جو صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے خوبصورت، ڈیزائن اور طرزِ تعمیر کے باعث اپنی طرف متوجہ کرسکے اور اس کی خوبصورتی سے کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے؟

2007ء میں آرکیٹیکٹ فرم مارکس بارفیلڈ نے جب کیمبرج میں تجویز کردہ اولین مسجد کو ڈیزائن کرنے کا مقابلہ جیتا تو یہی وہ چند سوالات تھے، جو مسجد کے ڈیزائن کو تیار کرنے کے سارے عمل کے دوران فرم پر حاوی رہے۔ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک زیرِ تعمیر رہنے والی ’کیمبرج سینٹرل مسجد‘ کو تکمیل کے بعد اب عوام کے لیے باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا ہے۔

یورپ کی پہلی ماحول دوست مسجد

افتتاح کے ساتھ ہی، کیمبرج میں تعمیر ہونے والی اس نئی خوبصورت مسجد کو یورپ کی سب سے ماحول دوست مسجد (Eco-Friendly Mosque) کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اسے ’زیرو کاربن‘ (ماحول دشمن کاربن گیس کا اخراج نہ ہونے کے برابر) کے قریب ترین رکھنے کیلئے اس میں ’گراؤنڈ سورس ہِیٹ پمپ‘ اور ہوا کیلئے فطری گزرگاہوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

21ویں صدی کی مسجد

2کروڑ 30لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے بنائی جانے والی کیمبرج سینٹرل مسجد تقریباً 12سال زیرِ تعمیر رہی۔ مسجد کے آرکیٹیکٹ کہتے ہیں کہ یہ 21ویں صدی کے برطانیہ میں ’اسلام کا ثقافتی پل‘ ثابت ہو گی۔

گارڈن آف پیراڈائز

یہ مسجد کیمبرج کے مصروف مِل روڈ پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس مسجد کو تمام عقائد کے ماننے والے افراد کے لیے کُھلا رکھا گیا ہے اور اس کے ڈیزائن میں بھی اس بات کو اہمیت دی گئی ہے۔ مسجد کی حدود میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے لان ایریا آتا ہے، جسے کمیونٹی گارڈن کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے آگے بڑھیں گے تو آپ کو مزید درخت اور پانی کے فوّارے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس حصے سے گزرکر آگے جانے کے بعد مسجد کا بیرونی رُخ نمودار ہوتا ہے اور اس کا برآمدہ شروع ہوتا ہے۔

مسجد کی عمارت میں داخل ہونے کے بعد ایک بڑا ایٹریم اور کیفے ٹیریا سامنے آتا ہے، جہاں 300افراد کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس سے آگے استنجا اور وضو کے لیے خصوصی واش رومز اور وضوخانے بنائے گئے ہیں، اس کے بعد آگے جاکر نماز کا مرکزی ہال آتا ہے۔ مرکزی ہال کی چھت 8میٹر اونچی ہے۔

ہرچندکہ مسجد میں کوئی محراب تعمیر نہیں کیا گیا لیکن ایک گنبد بہرحال بنایا گیا ہے، جس کے لیے جگہ کا تعین نماز پڑھنے کے مرکزی ہال کے محراب کی مناسبت سے کیا گیا ہے، اس طرح نماز کے لیے قبلہ رُو ہونے کے لیے رُخ کا تعین ہوجاتا ہے۔

ماحول دوست تعمیر

ہمار ا مذہب اسلام، قدرتی ماحول کی تحریم اور چیزوں کے ضیاع و اسراف سے منع کرتا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں ان باتوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ مثلاً اس مسجد کے باہر جو خوبصورت باغ بنایا گیا ہے، اسے مسجد میں وضو کے لیے استعمال ہونے والے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بارش کے پانی کو بھی دوبارہ استعمال کرنے کیلئے خاص خیال رکھا گیا ہے۔ اس کی چھت ایسی بنائی گئی ہے کہ سارا سال روشنی اندر آتی رہے اور روشنی کے لیے کم سے کم بجلی استعمال کرنا پڑے۔ اس میں ہیٹنگ کے لیے ماحول دوست ہیٹ پمپ لگائے گئے ہیں اور اس کی تعمیر میں زیادہ تر ایسی لکڑی استعمال کی گئی ہے جو ان جنگلات سے لی گئی ہے جن میں درخت کاٹنے سے ماحول پر خاص اثر نہیں پڑتا۔ درحقیقت، سوئٹزرلینڈ سے لائی گئی لکڑی کا کام ہی اس مسجد کی جان ہے۔ اس میں لکڑی کے ستون درخت کی طرح سے بنائے گئے ہیں جو اُوپر جاکر چھت کے ساتھ جڑتے ہیں اور ایک کینوپی سی بن جاتی ہے جو کہ انسان کے قدرتی ماحول کے ساتھ جڑنے کی تشبیہہ لگتی ہے۔

مسجد میں نمازیوں کی گنجائش

کیمبرج سینٹرل مسجد میں بیک وقت ایک ہزار نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں، اس کی زیرِ زمین کار پارکنگ میں 82گاڑیاں اور 300سائیکلیں کھڑی کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

آرکیٹیکٹس نے اس کی تعمیر میں کیمبرج شہر کے فنِ تعمیر، اسلامی طرزِ تعمیر اور علاقے کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھا ہے۔ پورا منصوبہ ایک نخلستان کی طرح ہے، جہاں آنے والا یکدم راحت محسوس کرتا ہے۔ یہاں جو اینٹیں استعمال کی گئی ہیں ان کیلئے اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ وہ کیمبرج جیسے تاریخی شہر کی عمارتوں سے ملتی جلتی ہوں۔ اس میں خطاطی کا کام بھی ترکی کے ماہر خطاط نے کیا ہے۔

مسجد کا طرزِ تعمیر

کیمبرج میں اپنی نوعیت کی اس خاص مسجد کو تعمیر کرنے والے ماہرتعمیرات بھی کوئی عام لوگ نہیں۔ اسے ایوارڈ یافتہ آرکیٹیکٹ ڈیوڈ مارکس اور ان کی پارٹنر جولیا بارفیلڈ کی کمپنی مارکس بارفیلڈ آرکیٹیکٹس نے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ وہی فرم ہے، جس نے لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے مشہور ’لندن آئی‘ اور عالمی شہرت یافتہ کیو گارڈن میں درختوں کے اوپر پیدل چلنے کے لیےپُل ڈیزائن کیا تھا۔ بدقسمتی سے مارکس اپنے اس شاہکار کو تکمیل کے بعد دیکھنے سے پہلے ہی انتقال کر گئے۔

اہم شخصیات کا کردار

اس مسجد کی تعمیر کے روح رواں ماضی کے عظیم گلوکار کیٹ اسٹیونز ہیں، جو بعد میں اسلام قبول کر کے یوسف اسلام کہلائے۔ ان کے علاوہ کیمبرج یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے لیکچرر اور معروف اسکالر ٹم ونٹر کا کردار بھی اس مسجد کی تعمیر میں اہم رہا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں