• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیٹوز انسانی مدافعتی نظام پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟ تحقیق میں اہم انکشافات

فائل فوٹو
فائل فوٹو

حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹیٹو بنانے کے لیے استعمال ہونے والی سیاہی انسانی مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔

جرنل Immunity & Inflammation میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مدافعتی خلیات ٹیٹو کی سیاہی کے ذرات کو پہچان لیتے ہیں اور انہیں لمف نوڈز تک منتقل کر دیتے ہیں، جہاں یہ وقت کے ساتھ جمع ہو کر سوزش کا باعث بنتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹیٹو کی سیاہی ویکسین کے اثرات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، نتائج کے مطابق ٹیٹو رکھنے والے افراد میں کووِڈ 19 ویکسین کا اثر کچھ حد تک کم ہو سکتا ہے جبکہ غیر فعال فلو ویکسین کے لیے مدافعتی ردعمل بہتر دیکھا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو کی کیمسٹ یولانڈا ہیڈبرگ کے مطابق جدید دور میں استعمال ہونے والی ٹیٹو سیاہیاں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ دہائیوں پہلے ٹیٹوز میں سیسہ اور کرومیم جیسی زہریلی دھاتیں استعمال ہوتی تھیں، جو صحت کے لیے نہایت نقصان دہ تھیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آج کل زیادہ تر ٹیٹو سیاہی مصنوعی رنگوں (Synthetic Pigments) پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں ایزو ڈائیز شامل ہیں، ان رنگوں کو حفاظتی خول میں بند کیا جاتا ہے تاکہ وہ جلد میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوں۔

تاہم، ماہرین کے مطابق خطرات اب بھی موجود ہیں، سب سے عام مسئلہ الرجک ردِعمل ہے اور ایک بار اگر الرجی پیدا ہو جائے تو ٹیٹو کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ لیزر کے ذریعے ٹیٹو ختم کرنے سے رنگ کے ذرات جسم میں مزید پھیل سکتے ہیں۔

مزید برآں، حالیہ طویل المدتی مطالعات سے پتا چلا ہے کہ ٹیٹو رکھنے والے افراد میں لمفوما اور جلد کے کینسر کا خطرہ معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے، اگرچہ یہ خطرہ زیادہ نہیں، لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیٹوز صحت پر معمولی مگر قابلِ پیمائش اثرات ضرور ڈالتے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید