آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے آخری میچ سے قبل ایک بار پھر پاکستان ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ پاکستانی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا تعین کرے گا۔


سرفراز احمدنے اعتراف کیا ہے کہ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے سیمی فائنل میں کوالیفائی کرنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں، تاہم مشن امپوسیبل کے لئے میری ٹیم آل آؤٹ جائے گی۔

پاکستان ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعدمخالفین نےاپنی توپوں کا رخ ٹیم انتظامیہ،کپتان اور کھلاڑیوں کی جانب کردیا ہے۔ ایک بار پھر تبدیلی اور اکھاڑ پچھاڑ کی باتیں ہورہی ہیں۔

سرفراز احمد سے پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ جس فارمیٹ میں آپ سے کارکردگی نہیں ہورہی ہےیا آپ کی کارکردگی کے بارے میں باتیں اٹھ رہی ہیں، اس فارمیٹ کو خیرباد کہنے کا سوچ رہے ہیں۔ مکی آرتھر کے عہدے کی معیاد بھی ورلڈ کپ کے بعد ختم ہورہی ہے۔

سرفراز احمد نے کہا کہ تبدیلی کا فیصلہ پی سی بی نے کرنا ہے، جو بھی خواہش ہے وہ میرے دل میں ہےاور خواہش کو میڈیا میں نہیں لاؤں گا، دل ہی میں رہے گی، جو بہتر فیصلہ ہوگا وہ پی سی بی حکام کریں گے۔

جمعرات کو پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں میری کارکردگی ملی جلی رہی، کوشش کی کہ اپنی کارکردگی سے ٹیم کو فائدہ پہنچا سکوں، کبھی بیٹنگ اور کبھی کیپنگ سے ٹیم کو سہارا دیا۔ ٹورنامنٹ میں کارکردگی مایوس کن ضرور ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو کپتان، ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑیوں کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ مجھے کپتان برقرار رکھا جاتا ہے یا نہیں اس بارے میں خواہش میرے دل میں ہے۔ پی سی بی بہتر جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔

سرفراز احمد نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے بعد ہیڈ کوچ اور منیجر کی رپورٹ جائے گی اور فیصلہ کرکٹ بورڈ کو کرنا ہے۔ ورلڈ کپ کے بعد دو ڈھائی ماہ کا گیپ ہے، اس دوران پی سی بی ہوم ورک کرے گا۔ انہیں پتہ ہے کہ کن کن چیزوں میں بہتری لانا ہے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید
ویڈیو رپورٹس سے مزید