آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’میر علی شیر قانع ٹھٹھوی‘‘ نامور مؤرخ

نامور مؤرخ کی تصنیف تحفہ الکرام سندھ کی تاریخ کی جامع دستاویز ہے

سندھ کا قدیم شہر ٹھٹھہ علم و ادب کے حوالے سے عالمی شہرت کا حامل تھا۔ یہ شہر کبھی نامور شعرا، تذکرہ نگار، مورخین، علما و فضلا، فقہا اور محدثین کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔ ٹھٹھہ شہر مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی، مخدوم ابو الحسن صغیر ٹھٹھوی مدنی، طاہر محمد نسیانی ٹھٹسوی،مخدوم عبد الخالق ٹھٹھوی، مخدوم محمد معین ٹھٹھوی،حافظ آدم طالب ٹھٹھوی، مخدوم ضیاء الدین ٹھٹھوی، مخدوم عبد اللہ واعظ ٹھٹھوی اور دیگر مشاہیر کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ انہی رجال میں سے سندھ کے معروف مورخ اور شاعر میر علی شیر قانع ٹھٹھوی بھی تھے، جنہوں نے تحفۃ الکرم، مکلی نامہ اور مقالات الشعرا جیسی مارکۃالآرا تصانیف لکھ کر اہلِ علم پر احسان کیا۔ میر علی شیر قانع ٹھٹھوی کے جدِ امجد سید شکر اللہ شیرازی تھے جو ہرات سے نق مکانی کرکے قندھار آئے اور وہاں سے سید شاہ مبین، سید کمال اور سید عبد اللہ کی رفاقت میں 927 ھ میں ارغون حکمران شاہ بیگ ارغون کے دورِ حکومت میں ٹھٹھہ تشریف لائے۔ یہ چاروں بزرگ علم و فضل یگانہ روزگار تھے جنہوں نے نہ صرف شہر ٹھٹھہ بلکہ پورے سندھ کو اپنے علم وفضل سے منور کیا۔ شاہ بیگ ارغون کے انتقال کے بعد ان کے فرزند اور جاں نشیں شاہ حسن ارغون بدستور سید شکر اللہ شیرازی کا معتقد رہا اور اس نے سید موصوف کے علم و فضل، دینی عظمت اور بزرگی کے پیشِ نظر انہیں اپنی حکومت کا شیخ الاسلام مقرر کرکے پورے سندھ کا منصبِ قضا ان کے سپردکردیا۔ سید شکر اللہ شیرازی ہی وہ شخصیت تھے جن کی نسل سے ٹھٹھہ کے شکر اللہ سادات کا سلسلہ آگے بڑھا۔ یہی وہ موتیوں کی لڑی ہے جس کا ایک درِ شہوار سندھ کا لافانی مورخ، بے مثل تذکرہ نگار اورقادر الکلام شاعر میر علی شیر قانع ٹھٹھوی تھا۔ میر علی شیر قانع ٹھٹھوی 1140 ہجری بہ مطابق 1728 عیسوی میں سندھ کے علم و فضل کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت کے حامل شہر، ٹھٹھہ میں پیدا ہوئے۔ میر علی شیر قانع نے اپنے وقت کے جید علما ء، میاں نعمت اللہ اور میاں محمد صادق سے ان کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی جو دینی و دنیوی علوم میں کامل دسترس رکھتے تھے۔ ان اساتذہ کے علاوہ میر علی شیر قانع نے آخوند محمد شفیع (متوفی 1156ھ) سے بھی علم حاصل کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ مولوی مرزا جعفر شیرازی سیر و تفریح کے لیے جب ٹھٹھہ تشریف لائے تو میر علی شیرقانع نے ان سے بھی فیض حاصل کیا۔ آخوند ابو الحسن (بے تکلف) ٹھٹھوی بھی فارسی میں میر علی شیر قانع کے استاد تھے۔

میر علی شیر قانع کے خاندان کو کبھی بھی فکرِ معاش کا سامنا نہیں رہا۔ قدیم خاندانی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کا خاندان شروع سے ہی معاش کے حوالے سے خوشحال اور فارغ البال تھا۔میر علی شیر کے جدِ امجد میر سید شکر اللہ شیرازی جب 927 ھ میں ہجری میں ٹھٹھہ آئے تو ارغون سرکارکی طرف سے وظیفہ جاری ہوا۔ ہمایوں کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے خاندان کو مغل شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کی طرف سے بھی وظیفہ جاری ہوا تھا ا ور ساکرو پرگنہ میں کچھ زمین بطورمالی تعاون بھی ملی تھی۔ مرزا جانی بیگ ترخان نے بھی ـجون پرگنہـ میں کئی گاؤں میر علی شیر کے خاندان کو بطور مالی تعاون دئیے ۔مغل بادشاہ جہانگیر نے سید ظہیر الدین بن سید شکر اللہ ثانی شیرازی کے لیے دھان کی فصل کا کچھ حصہ سالانہ بطور وظیفہ مقرر کیا۔میاں نور محمد کلہوڑو کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیر کے والدکو سید عزت اللہ شیرازی کو جگت پور اور ککراللہ کے کئی گاؤں بہ بطور جاگیر ملے تھے۔ اس کے علاوہ میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میر فتح علی خان تالپور نے بھی میر علی شیر کے خاندان کو وظیفہ جات اور مراعات عطا کیں۔ میر علی شیر سندھ کے کلہوڑا دربار کے شاہی مورخ تھے۔ کلہوڑا حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو نے انہیں اپنےخاندان کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا تھا لیکن وہ یہ کام نا معلوم وجوہات کی بنا پر مکمل نہ کرسکے۔

میر علی شیر قانع بارہ سال کی عمر یعنی 1152ھ میں جب وہ مکتب میں تحصیل علم کررہے تھے ، مشقِ سخن کی ابتدا کی۔ اسی عمر میں آٹھ ہزار اشعار کا دیوان مرتب کیا جس میں سبھی اصنافِ سخن شامل تھیں، لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے تمام دیوان دریا برد کردیا۔ تقریباً دو سالہ خاموشی کے

بعد یعنی1155ھ میں میر علی شیر کی میر حیدر ابو تراب کامل جیسے استاد سے ملاقات ہوئی اور انہی بزرگ کی صحبت کی بہ دولت دوبارہ شاعری کا آغاز کرنے کے لیےان کی شاگردی اختیار کی۔ میر علی شیر قانع کثیر التصانیف مصنف تھے، انہوں نے شاعری، تاریخ، تذکرہ، سیرو سیاحت، لغت، دائرۃ المعارف اور سوانح سمیت مختلف موضوعات پر لاتعداد کتب تحریر کیں۔ ان تصانیف میں دیوان علی شیر ، مثنوی قضا و قدر، مثنوی قصۂ کامروپ ، دیوان قال غم،ساقی نامہ، واقعاتِ حضرت شاہ، تزویج نامہ حسن و عشق، اشعارِ متفرقہ در صنایع و تاریخ، بوستان بہار المعروف مکلی نامہ، مقالات الشعرا، تاریخ عباسیہ، تحفۃ الکرام ، اعلانِ غم (مثنوی)، زبدۃ المناقب (خلفائے راشدین اور حضرات اثنا عشری کے مناقب)، مختار نامہ (مختار ثقفی کے حالات)، نصاب البلغا(قاموس کی طرز پر کتاب)، مثنوی ختم السلوک، شجرۂ اطہر اہلبیت، معیارِ سالکان طریقت (سندھ اور بیرونِ سندھ 500 بزرگ و مشاہیر کا تذکرہ)، بیاض محک الشعراء اور انشائے قانع وغیرہ شامل ہیں جن میں سے سب سے زیادہ شہرت تحفۃ الکرام کو ملی۔ میر علی شیرکا مطالعہ وسیع تھا جس کا ثبوت تحقۃ الکرام میں جا بجا نظر آتا ہے۔انہوں نے تحفۃ الکرام قلمبند کرکے سندھ کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم و قارئین پر عظیم احسان کیا ہے۔ اس کتاب کا میر علی شیر قانع کے ہاتھ سے تحریر کردہ دستخط شدہ نسخہ اورینٹل کالج لاہور کے سابق پرنسپل، پروفیسر مولوی محمد شفیع کے ذاتی کتب خانے میں اور دو نسخے برٹش میوزیم لندن میں موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میر علی شیرقانع 1188ھ تک مذکورہ کتاب میں ترامیم و اضافہ کرتے رہے تھے۔

افغان محقق عبد الحئی حبیبی کے مطابق’’میرقانع ایک توانا مصنف، دقیق مورخ اور فارسی زبان کے اعلیٰ درجہ کےشاعر تھے۔ ان کی منزلت اور ان کے علم کا اندازہ ان کی تالیف کردہ کتب سے لگایا جاسکتا ہے۔میر علی شیر قانع، فن تاریخ نویسی، صنائع و بدائعِ ادبی میں خاص طور پر مہارت رکھتے تھے۔فنِ لغت، الفاظ کی شناسائی اور مختلف زبانوں جیسے عربی، فارسی، ترکی ، سندھی اور ہندی وغیرہ کی اصطلاحات کے متعلق وسیع معلومات رکھتے تھے۔مختصر الفاظ میں کہا جائے تو میر علی شیر قانع جیسے بافضیلت اور ہنر مند رجال زمانے میں کم ہی نظر آتے ہیں‘‘۔ سندھ کے عظیم مورخ اور باکمال شاعر 1203ھ کو 64 سال کی عمر میں ٹھٹہ شہر میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے اور اپنے پیچھے علم و ادب کے شاہکار بطور یادگار چھوڑ گئے۔ 

وادی مہران سے مزید