آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات19؍محرم الحرام 1441ھ 19؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اور قومی سیادت کا معیار

تحریر:محمد شریف بقا ۔۔۔ لندن
مملکت پاکستان کے قیام سے پیشتر ہی اس کے بانی نے قوم کی قیادت اور سیادت کرنے والوں کے بارے میں اپنے مخصوص آئینی نظریات اور سیاسی افکار کا اظہار کرکے اس کی راہ متعین کردی تھی۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح ایک بلند پایہ قانون دان اور بالغ نظر سیاستدان ہونے کی وجہ سے عوام الناس اور ان کے سیاسی رہنمائوں کے باہمی ربط اور اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے۔ انہیں اس امر کا گہرا ادراک تھا کہ مستقبل میں آئینی گھتیوں اور سیاسی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے یہ اشد ضروری ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے ہی اس کی قیادت و سیادت کے مناصب پر فائز ہونے والوں کیلئے چند رہنمااصول بتا دیئے جائیں تاکہ ملک و وطن سیاسی بحرانوں کا شکار نہ ہوں۔ یہ بات باعث تاسف ہے کہ ان کی واضح ہدایات اور فکرانگیز ارشادات کے باوجود ہماری قومی قیادت عوام الناس کی پوری توقعات کی آئینہ دار نہ ہوسکی۔ اس کے ذمہ دار عوام بھی ہیں اور اہل سیاست بھی۔ اگر ہماری سیاسی جماعتیں حقیقی طور پر عوام کی فلاح و بہبود اور خدمت کیلئے کوشاں ہوتیں تو پاکستان میں بار بار قیادتِ قومی کے بحران پیدا نہ ہوتے۔ جب تک عوام اور ارباب حل و عقد کے درمیان فکری ہم آہنگی، باہمی مقاصد کے تعین کی خوشگوار فضا، قومی یک جہتی کی آرزو اور ملکی فلاح و بہبود کے بارے

میں پرخلوص تعاون و محبت کے جذبات کی فراوانی کی اہمیت و افادیت کا شدید احساس موجود رہتا ہے اس وقت تک وہ قوم ترقی و خوشحالی کے مراحل طے کرتی رہتی ہے۔ جونہی یہ احساس کمزور ہونے لگتا ہے تو عوام الناس اور سیاستدانوں کے درمیان مفاہمت کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔ عوام اور اہل سیاست کے حقوق و فرائض کی صحیح نگہداشت کا جذبہ صادق ہی انہیں آپس میں متحد و مربوط رکھتا ہے۔ جب سیاسی قائدین عوام اور ملک کی صحیح خدمت کی بجائے ذاتی مفادات اور گروہی تعصبات کو مقصود حیات بنالیتے ہیں تو پھر عوام کے اندر اضطراب کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ان کے اندر سیاستدانوں کے خلاف نفرت اورغصہ کے جذبات پرورش پاتے ہیں جن کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرتی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ اس ضمن میں بانی پاکستان کے چند درج اقتباسات ہمارے لئے حقیقت کشا ثابت ہوسکتے ہیں۔ قائداعظمؒ کی رائے میں مسلم لیڈروں کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ عوام الناس کی جائز ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ان کی فلاح و بہبود کا لائحہ عمل بنائیں اور زندگی کے اہم شعبہ جات میں ان کی رہنمائی کریں، وہ عوام کے خادم ہیں نہ کہ ان کے آقا اور مخدوم۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے،قوم کا سردار افراد قوم کا خادم ہے۔ سیاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ بنا کر وہ دنیا و دین کی حسنات کے مستحق ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر انہیں رسوائی ہی ملے گی۔ بانی پاکستان نے شاید اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے مارچ1940ء میں لاہور میں انعقاد پذیر آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کے موقع پر اپنے صدارتی خطبہ میں کہا تھا:۔
"Come forward as servants of Islam, organise the people economically, socially, educationally and politically..."
یہ بات اہل فکر ونظر سے پوشیدہ نہیں کہ جب دیانتدار، مخلص، محب وطن، عوام دوست اور دوراندیش سیاستدانوں سے یہ خالی ہوتا گیا تو پھر سیاست کو ذاتی مفادات کے حصول، زر پرستی، خودغرضی، ابن الوقتی اور لوٹ کھسوٹ کا بہترین ذریعہ بنایا گیا۔ ’’پیسہ لگائو اور پیسہ کمائو‘‘ کا اصول رائج ہوکر عوام استحصال، غربت ، پسماندگی اور دل و دماغ کی بے سکونی کو جنم دیتا چلا گیا۔ افلاس، جہالت اور معاشی ناہمواریوں کے شکار مظلوم لوگ یہ فریاد کرنے پر مجبور ہوگئے: خداوندا! یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری۔ قائداعظمؒ پاکستان میں اس قسم کی غلط اور استحصالی سیاست کے ہرگز حامی نہیں تھے۔ وہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے کہ لوگ جب مذہب اور سیاست کے پردے میں اپنی مفادپرستی کو فروغ دیتے ہیں تو پھر سوسائٹی گوناگوں مفاسد، تکالیف، شکایات اور مظالم کو جنم دے کر زوال پذیر ہونے لگتی ہے۔ اگرچہ بعض سیاستدان عوام کے مفادات، ان کی فلاح و بہبود، ان کی صحیح رہنمائی اور مناسب خدمت نہ کرنے کے ذمہ دار ہیں تاہم اس سلسلے میں عوام بھی مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ وہ بھی خوبصورت کاغذی منشور، جذباتی نعروں، وقتی مصلحت کوشی اور جلب منفعت کی ترغیب سے متاثر ہوکر ان لوگوں کو منتخب کرلیتے ہیں جو قیادت و سیادت کے اہل نہیں ہوتے۔ قرآن حکیم نے امانت اور دیانت کی صفات کے حامل لوگوں کی سیادت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے۔ (بے شک اللہ حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہوں)۔ قیادت اور سیادت بھی ایک اہم امانت ہے اگر یہ امانت نااہل لوگوں کے سپرد کی جائے تو پھر اس کے نتائج یقیناً خطرناک اور پریشان کن ثابت ہوں گے۔ قوم کا سردار اصل میں وہی ہوسکتا ہے جو اس بار امانت کو اٹھانے سے گھبرائے اور اگر وہ اسے اٹھالے تو پھر وہ صحیح معنوں میں قوم، ملک اور عوام الناس کا خادم بنے ۔

یورپ سے سے مزید