آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍محرم الحرام 1441ھ 17؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خوش فہم دائیں بازو کے اور بے فہم خوش بیان مقررین گھر کے اندر ہی شور مچا رہے ہیں جبکہ دنیا نے دیکھا کے ہانگ کانگ میں ایسے مظاہرے ہوئے کہ ایئر پورٹس تک بند کرنا پڑے تو پھر بھی اجلاس چین ہی نے بلایا اور ہم نے شیخ چلی کی طرح ہائو ہو شروع کر دی۔ سنجیدہ پاکستانیوں کو کڑھتے ہوئے اور بھرائی ہوئی آواز میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا، اندر سے سوئے ضمیر نے نہیں کہ وہ تو ہے ہی نہیں، شعور نے میرے قلم کو للکارا۔ اپنی طرف سے بڑا تیر مارا اور دو نظمیں ہو گئیں، میں حبہ خاتون کو یاد کر رہی تھی، میں انڈیا کے دو سو دانشوروں کو بتائوں۔ شکر ہے کہ ابھی تمہارے اندر اس کے باوجود کچھ ہے کہ آئے دن سڑک کے کنارے زندہ لوگوں کو جان سے مارنے والوں کو آپ کی عدالتیں بھی بری کر دیتی ہیں۔ لیجئے نظم کو پڑھیں اور اس دکھ کو یاد کریں جس سے مائیں ڈر گئی ہیں۔ نوجوانوں کو غصے سے غش پڑ رہے ہیں۔ ارون دھتی رائے چیخ رہی ہے، البتہ دبئی ایئر پورٹ پر 15اگست کو دبئی کے لوگ گیروی رنگ کے غبارے، موتیے کے پھول اور مٹھائی کے ساتھ انڈیا کا جھنڈا لئے آنے والے مسافروں میں تقسیم کر رہے تھے۔

یہ ہے مسلم امہ

تاریخ بھری پڑی ہے

ان داستانوں سے

کہ جب غاصب حملہ آور

کمزور فوجوں کو شکست دیدیا کرتے تھے

تاریخ کو ان کے اور اق بھی یاد ہیں

جنہوں نے مزاحمت کی

وہ مزاحمت نسل در نسل چلی

ہر مزاحمت کو تاراج کرنے کے لئے

بہت سے ہری سنگھ

بہت سے شیخ عبداللہ

بہت سےنیتن یاہو

سازشیں کرتے، ناکام ہوتے رہے ہیں

مگر یہ کبھی نہیں ہوا

کہ ایک آرڈر کے ذریعہ

ملک فتح کرنے کا حکم نامہ آجائے

اور اس کے باسیوں کو اپنے ہی

وطن میں بے وطن کرنے کی

سازشیں کی جائیں

ساری دنیا نے دیکھا

لوگوں کو گھروں میں نظر بند کر کے

ٹی وی پر ڈل جھیل میں

تیرتی مرغابیاں دکھائی جائیں

بیت المقدس میں

عیار ٹرمپ کو

دیوار گریہ چومتے دکھایا جائے

سعودی عرب ہمیں

صلح حدیبیہ یاد کرائے

دنیا کے سارے میڈیا، سارے سیاستدان

غاصبوں کو کچھ نہیں کہہ رہے

صرف امن کے ہینڈ آئوٹ

نکال رہے ہیں

کرفیو میں کشمیر

میرے بچے میرے پاس

تمہیں کھلانے کو کچھ نہیں ہے

دیکھو خوبصورت چاندنی پھیلی ہوئی ہے

اسے پی لو، تمہیں نیند آجائے گی

میری بات سن کر تم ہنس پڑے

کاش میرے اندر اتنی جان ہوتی

کہ اپنی بوٹی توڑ کر

تمہیں کھلا سکتی

باہر کا سناٹا

یا پھر گولیوں کی آواز

بس اب تو دن کو دکھ

اور رات کو چاندنی

ہماری خوراک ہے

اب تو ہمارے گھر میں

مکھیاں بھی نہیں

ہمیں غلام بنانے کا وہم ہے

کہ وہ ہماری آزادی چھین سکیں گے

ان کی بندوقوں کے نصیب میں

ہمارے جوانوں کا خون نہیں ہے

ساری دنیا جان لے

یہ حبہ خاتون کی زمین ہے!