آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زخم زخم کشمیر مجھے پکار رہا ہے۔

کوئی ملالہ کوئی گل مکئی یہاں بھی کسی بند کمرے میں ڈائری لکھ رہی ہوگی۔

انٹرنیٹ کھلے گا تو اس کی درد بھری تحریر پوری دُنیا تک پہنچے گی۔

1965کی جنگ سے پہلے جب مقبوضہ کشمیر سے بے گھر ہونے والے آزاد کشمیر پہنچ رہے تھے تو میں اپنے صحافیانہ فرائض ادا کرنے میرپور کے کیمپوں میں گیا تھا۔ جہاں مائیں بہنوں کے چہروں پر انتظار چیخ رہا تھا۔ میرے فیچر کی سرخی تھی ’وہ محمد بن قاسم کا انتظار کر رہی ہیں۔‘ مجھے یاد ہے کہ قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری اخبار کے دفتر آئے تھے اور میرے ہاتھ چوم کر اس پُراثر تحریر پر مبارکباد دی تھی۔ یہ ہماری صحافت کا سر آغاز تھا۔ میرے لئے یقیناً اعزاز تھا۔

اب بھی مقبوضہ کشمیر میں مائوں بہنوں کے چہروں پر اسی اُداسی کی سطور ابھر رہی ہیں۔ لیکن پاکستان میں مائوں نے اب محمد بن قاسم جننا چھوڑ دئیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں راستہ روک کر کھڑی ہیں۔ بین الاقوامی اصول مانع ہیں مگر بھارت میں مائوں نے فرعون، شداد، نمرود اور مودی جننا نہیں چھوڑے۔ یہ دندنا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ، جمہوریت زدہ دنیا خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ بھارت پر کوئی اقتصادی پابندیاں نہیں لگاتا۔ انسانی حقوق کے علمبردار بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کرتے۔

کشمیر پر قلمی جہاد جاری رہے گا۔ آزاد جموں و کشمیر کو بیدار ہونا ہوگا۔

ادھر کراچی کی چورنگیاں اور گلی کوچے میرے قدم روک رہے ہیں۔ فلائی اوورز، انڈر پاسز اور اوور ہیڈز میرے دامن گیر ہیں۔ یہ شاہراہیں، پاکستان چوک، بروکس چورنگی، پرانی نمائش، فائیو اسٹار چورنگی اور سخی حسن مجھے میرے شب و روز یاد دلا رہے ہیں۔ مجھ سمیت کروڑوں شہر قائد کی آغوش میں پلے بڑھے ہیں۔ اپنے گھر بار پاکستان کے لئے چھوڑ کر آنے والے، پنجاب، کے پی اور بلوچستان سے تلاش معاش میں آمدہ نوجوان اندرون سندھ سے اپنے دارُالحکومت میں ملازمت، تجارت تربیت کے لئے آنے والے سب کو کراچی گود میں لیتا ہے۔ کسی سے ذات، حسب، نسب نہیں پوچھتا۔ یہ اللہ کے بندوں سے عشق کرتا ہے۔ کتنے گمنام اس کے دم سے بڑے نام ہوگئے۔ کتنوں کو عزت شہرت اس کے حوالے سے ملی۔ سمندر روزگار کے دروازے کھولتا ہے۔ سمندر کے کنارے بسنے والے بڑے دریا دل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ساحلی شہروں والے مہمان نواز اور کشادہ دل ہوتے ہیں مگر یہاں سمندری مزاج رکھنے والوں سے زیادہ ریاستی مزاج والے ہوتے گئے ہیں۔ تنگ نظر، تنگ دل۔ کھلے دل اور کھلے بازوئوں والے صرف لیاری میں رہ گئے ہیں۔

کراچی میں کتنی تہذیبیں آکر آپس میں ملی ہیں۔ تہذیبوں میں کشمکش زیادہ ہوئی ہے۔ حسین امتزاج نہیں بن سکا بلکہ بننے نہیں دیا گیا۔

آج کراچی زخم زخم ہے۔ اس سے محبت کرنے والے آپس میں بٹ گئے ہیں۔ لسانی، نسلی، صوبائی اور ثقافتی‘ ہر قسم کے تضادات یہاں سر اٹھاتے ہیں۔ پہلے یہ تضادات کلاشنکوف اور نائن ایم ایم کی زبان اختیار کرلیتے تھے۔ اب اللہ کا شکر ہے کہ بات ہتھیاروں کی زبان میں نہیں ہوتی۔ الفاظ کا استعمال ہوتا ہے جسے میڈیا بار بار اچھالتا ہے۔ مجھ جیسے عمر رسیدہ جنہوں نے کراچی کو ہر حال میں دیکھا ہے پُرامن، پُرسکون، بھیانک دن، خوفناک راتیں، ایک اک دن میں پچاسیوں قتل، کتنے نگینے پاش پاش کر دئیے گئے۔ کتنے عالی دماغ خون میں نہلا دیئے گئے۔

یہ شہر برسلز، پیرس، لندن، ٹورنٹو، بنکاک، بیجنگ اور سڈنی سے کہیں زیادہ آمدنی دیتا ہے۔ وفاق کی طاقت ہے۔ صوبے کی جان ہے مگر اسے ان شہروں جیسی زندگی کی آسانیاں ایک فیصد بھی میسر نہیں ہیں۔ بڑی سازشیں ہوتی رہی ہیں۔ ہو رہی ہیں۔ تاریخ اپنے دانتوں میں انگلیاں داب لیتی ہے کہ سب سے زیادہ پڑھے لکھے پاکستانیوں کا شہر مختلف قوتوں کا یرغمال کتنی آسانی سے بن جاتا ہے۔ عبدالحمید عدم یاد آتے ہیں ۔

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں

سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

کوئی نہیں سوچتا بلکہ ہمیں بھی علم نہیں ہوتا کہ اگر ہم بن سنور رہے ہیں تو کس کے لئے۔ بگڑ رہے ہیں تو کس کے لئے۔ آخر کیا آسیب ہے جو اس شہر پر شاہ لطیفؒ کے عظیم پیغام، شہباز قلندرؒ کے وجد، عبداللہ شاہ غازیؒ کے سرور کا اثر نہیں ہونے دیتا۔ برصغیر کے مختلف شہروں سے علم و دانش کی میراث لے کر آنے والوں کے بیٹے آپس میں کیوں لڑتے ہیں۔ رحمٰن بابا اور خوشحال خٹک کے لازوال نغموں سے سرشار یہاں محبت کا دامن کیوں چھوڑ دیتے ہیں۔ بلھے شاہ، باہوؒ، بابا فریدؒ کی پکار کی گونج ذہنوں میں رکھنے والے یہاں تعصبات میں کیوں الجھ جاتے ہیں۔ سندھو ندی کے کناروں پر آباد صدیوں کی ثقافت کا ورثہ رکھنے والے اس شہر میں الفت کاشت کیوں نہیں کرتے۔ غیرت سرکشی کے امانتدار، پہاڑوں کے بیٹے انسانیت کا تحفظ کیوں بھول جاتے ہیں۔

ہمارا شہر افراتفری میں مبتلا ہے۔ راستے تنگ ہو رہے ہیں۔ گندگی نے ساری بستیوں کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ پینے کا پانی آتا نہیں ہے۔ گندا پانی جاتا نہیں ہے۔ بجلی کمپنی زندگی کم دیتی ہے، زندگیاں زیادہ لیتی ہے۔ وقت تو چیخ رہا ہے کہ سب مل کر اپنے اس شہر کو روشن، صاف ستھرا، آرام دہ بنائیں۔ وسیم اختر جو جیل سے منتخب ہونے والے میئر ہیں، ان کو چاہئے تھا کہ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ سے رہنمائی لیتے۔ مصطفیٰ کمال سے مشاورت کرتے۔ جماعت اسلامی، پی ایس پی، ایم کیو ایم، پی پی پی، اے این پی اور نوزائیدہ پی ٹی آئی مل کر شہر قائد کو پُرسکون، صحت بخش بناتیں۔ شہریوں کے دل جیتتیں۔ سب لکڑی کی تلواریں سونتے بیانات کے میزائل داغ رہے ہیں۔ کراچی کچرے میں دب رہا ہے۔ میٹھا پانی ضائع ہو رہا ہے۔ بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں کے چہرے اُترے ہوئے ہیں۔

ادارتی صفحہ سے مزید