آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مکی آرتھر کی تبدیلی میں وسیم اکرم پیش پیش رہے

سابق کپتان،ریکارڈ ساز فاسٹ بولر اور مشہورکرکٹ مبصر وسیم اکرم ،مکی آرتھر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈکوچ بنانے والی کمیٹی میں بھی شامل تھے اور انہیں ہٹانے کے لیے بھی وسیم اکرم سب سے آگے تھے۔

جس اجلاس میں کوچ کو ہٹانا تھا اس میں وسیم اکرم نے سب سےٹھوس دلائل دیے تھے، ان کے بعد مصباح الحق بھی مکی آرتھر کو تبدیل کرانا چاہتےتھے۔ حیران کن طور پر مکی آرتھر کو کوچ برقرار رکھنے کے لیے احسان مانی نے کرکٹ کمیٹی کی رائے کو ویٹو کرنے سے گریز کیا۔

احسان مانی کا وعدہ اور انکار دونوں رویے مکی آرتھر کو سکتے میں ڈال گئے۔ مکی آرتھر اسی پریشانی میں سامان سمیٹ کر گھر چلے گئے۔

مصباح الحق ایک سال تک مکی آرتھر کی کوچنگ میں پاکستان کے کپتان رہے۔ وسیم اکرم اور مکی آرتھر بھی پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز کراچی کنگز کے لیے ایک ساتھ کام کر چکے ہیں لیکن دونوں کی جوڑی کراچی کی ٹیم کو اوپر نہ لے جاسکی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو سوا تین سال بعد گھر بھیجنے کی کرکٹ کمیٹی کی سفارش کو چیئرمین احسان مانی نے من و عن تسلیم کر لیا۔ اس سلسلے میں ہیڈ کوچ کے عہدے کے سب سے فیورٹ امیدوار اور سابق کپتان مصباح الحق کانام بار بار میڈیا میں آرہا ہے۔ لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔

ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں کرکٹ کمیٹی کی میٹنگ میں مصباح الحق کے علاوہ وسیم اکرم، عروج ممتاز، پی سی بی کے ڈائریکٹر اور سابق ٹیسٹ کرکٹرز مدثر نذر اور ذاکر خان بھی پیش پیش تھے، لیکن وسیم اکرم ، مکی آرتھر کو ہٹانے کے لیے اجلاس میں سب سے متحرک دکھائی دے رہے تھے۔

مکی آرتھر چھ مئی 2016 کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر کیے گئے تھے اور اس وقت یہ عہدہ سابق فاسٹ بولر وقار یونس کے جانے سے خالی ہوا تھا۔ مکی آرتھر کا نام کوچ تلاش کرنے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے تجویز کیا تھا، جس میں رمیز راجہ اور وسیم اکرم شامل تھے۔

جب مکی آرتھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ بنے، اس وقت پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کی باگ ڈور مصباح الحق کے ہاتھوں میں تھی، جنہوں نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا اختتام پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹ کمیٹی نے اتفاق رائے سے یہ تجویز دی تھی کہ مکی آرتھر کو مزید توسیع دینا بے کار ہے، حالانکہ احسان مانی اور وسیم خان، مکی آرتھر سے وعدہ کر چکے تھے کہ انہیں مزید دو سال کی توسیع دی جائے گی۔ لیکن جب کرکٹ کمیٹی کی تجویز احسان مانی کے پاس گئی تو انہوں نے ماہرین کی رائے کو اہمیت دے کر مکی آرتھر کو فارغ کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم نے اچانک مکی آرتھر کے حوالے سے اپنی رائے تبدیل کی۔ جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کوچ کو لانے کا عندیہ دیا۔ جس کے بعد مصباح الحق اس عہدے کے لیے فیورٹ بن گئے۔

مکی آرتھر کے دور میں پاکستانی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی بہت اچھی رہی اور سرفراز احمد کی قیادت میں یہ ٹیم عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر جا پہنچی۔

ون ڈے انٹرنیشنل میں مکی آرتھر کے نام کے آگے چیمپینز ٹرافی کی جیت درج ہے، لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں بطور پاکستانی کوچ مکی آرتھر کا مجموعی ریکارڈ غیر متاثر کن ہے۔ کیونکہ ان کے دور میں کھیلے گئے 66 ون ڈے میچوں میں سے پاکستانی ٹیم صرف 29 میچ جیتنے میں کامیاب ہو سکی، 34 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور تین میچ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید