آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

وزیراعظم عمران خان کے اعلان پر پورئے ملک کی طرح کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بھی ہفتہ رفتہ کے دوران کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کا دن منایا گیا ۔ دن بھر سیاسی و سماجی تنظیموں سمیت مختلف مکاتب فکر کی جانب سے ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا ، تعلیمی اداروں میں بھی تقریبات کا انعقاد کرکے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی حکومت کے اقدامات کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ۔ مرکزی تقریب کوئٹہ میں ہوئی ۔ بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار پر منعقدہ تقریب میں پاکستان اور کشمیر کے پرچم لہرائے گئے ۔ دن 12 بجے سائرن بجائے گئے اور ٹریفک کی روانی معطل کرکے چند لمحات کے لئے خاموشی اختیار کی گئی اور پاکستان اور کشمیر کے قومی ترانے پڑھے گئے جس کے بعد گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی ۔ ریلی کے شرکاء نے کشمیری عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعرے بلند کئے ، ریلی میں جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی وہاں گورنر بلوچستان امان اللہ یٰسین زئی ، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی ، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سردار یار محمد رند ، اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو ، وفاقی وزیر زبیدہ جلال ، ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل ، صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی ، میر ضیا لانگو ، میر سلیم کھوسہ ، میر عارف جان محمد حسنی ، عبدالخالق ہزارہ ، ملک نعیم بازئی اراکین اسمبلی مبین خلجی ، لالہ رشید بلوچ ، دنیش کمار ، بشریٰ رند ، مہ جبین شیران ، صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی سمیت دیگر نے بھی شرکت کی ۔ ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان امان اللہ خان یٰسین زئی نے کہا کہ کشمیر اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالنے کا مقصد اپنے کشمیری بھائیوں کی ستر سالہ جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرنا اور دنیا پر واضح کرنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداروں کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خو دارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرسکیں ۔ گورنر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا مکمل قبضہ اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 ائے کی منسوخی تمام قوانین اور اقدار کی خلاف ورزی کرکے بھارت نے اپنا وحشی اور غیر جمہوری چہرہ خود بے نقاب کیا ہے ۔ مودی کی فاشٹ پالیسی کشمیریوں کی جد وجہد آزادی کو نہیں روک سکتی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرکے ہم نے پوری دنیا پر اپنا پیغام واضح کردیا ہے کہ جب بھی کشمیر کی بات آتی ہے تو حقیقی معنوں میں پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر پر مرمٹنے کو تیار ہوجاتا ہے اور پوری قوم کی کشمیر پر اتحاد و اتفاق کی مثال سامنے آجاتی ہے۔ کشمیری عوام کو ان کے حق اور پاکستان سے اب کوئی طاقت دور نہیں رکھ سکتی اور کشمیریوں کو ان کی خود مختاری یا ان کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کٹھن وقت میں اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، قوم کا ہر بچہ ، جوان اور بوڑھا یہی پیغام دے رہا ہے کہ بھارتی مظالم و بربریت اور اس مشکل گھڑی میں وہ اپنے کشمیری بھائیوں کو نہیں بھولے بلکہ ہم دنیا کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیریوں اور پاکستانیوں کا رشتہ روز اول سے قائم ہے جسے کسی صورت ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ بھارتی فوج کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا اقوام متحدہ کو نوٹس لینا چاہیے اور اقوام متحدہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے اور بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرے ، ستر سال سے زائد کے عرصے پر محیط کشمیریوں کی نسل کشی اب ختم ہونی چاہئے ، وزیر نے کہا کہ یہ امر باعث اطمنان ہے کہ جب کشمیری عوام کی بات آتی ہے تو پورا پاکستان متحد ہوجاتا ہے اور دشمن یہ نہ بھولیں کہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف پوری قوم متحد ہے جب بھی کشمیر کے عوام پر مظالم اور ان کے حقوق سلب کرنے کی بات آتی ہے تو پوری پاکستانی قوم میں جذبے کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے ، مودی سرکار اور ہندو انتہا پسند آر ایس ایس نے دنیا کے سامنے واضح کردیا کہ بھارتی جمہوریت صرف لفاظی کی حد تک محدود ہے ، بھارت دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کا صرف ڈھونگ رچاتا ہے اور جمہوریت کا علمبردار بنتا ہے لیکن موجودہ بھارتی حکومت خود بھارت میں بھی سنگین انسانی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے جس کی وجہ سے آج بھارت کے اندر سے بھی ہندو انتہا پسند سوچ کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے ، بھارت کشمیر میں اب تک دو لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے اور بھارتی فوج سینکڑوں خواتین کی عصمت دری کی بھی مرتکب ہوئی ہے، بھارت یہ بات سمجھ لے کہ ظلم وجبر، پیلٹ گنز کا استعمال اور کشمیری نوجوانوں کی جبری گمشدگی سے آزادی اور حق خودارادیت کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں واضح کیاکہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ کشمیریوں پر ظلم کی اس گھڑی میں ان کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ دنیا کے سامنے بھارت کا ریاستی جبر نمایاں ہوسکے اور عالمی سطح پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا جائے۔ جس طرح مودی نے کشمیر پر قبضہ کیاہواہے یہ آواز اب انڈیا کے کونے کونے سے آرہی ہے ۔ مودی نے کشمیریوں پر مظالم کو پوری دنیا پر واضح کردیا ہے ، اب انڈیا کے کونے کونے سے قومتیں اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے لگی ہیں ۔سیاسی جماعتوں سمیت مختلف مکاتب فکر کی جانب سے ریلیوں اور مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بھارتی مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم نے دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کو معطل کرکے مودی نے اپنے پیروں پر کلہاڑا ماری ہے ۔ پوری قوم عالمی سطح پر کشمیریوں کی آواز بنے گی۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرکے بھارتی فوج ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ اور انسانی حقوق کو بری طرح پامال کررہا ہے جو تشویشناک عمل ہے ۔ کشمیرنہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے فلش پوائنٹ ہے ۔کشمیریوں کی تاریخی جدوجہدکوبھارت بندوق اورریاستی دہشت گردی کے ذریعے نہیں دباسکتا، وہ دن دورنہیں جب کشمیرپاکستان بنے گا۔مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اگرخطے میں جنگ چھڑ گئی تو دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا ۔ حکومت اور افواج پاکستان بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کریں پوری قوم کشمیر میں جہاد کیلئے تیار ہے ۔ ہم بھارت کی گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والے نہیں ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید