A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: HTTP_REFERER

Filename: front/layout_front.php

Line Number: 246

Backtrace:

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/views/front/layout_front.php
Line: 246
Function: _error_handler

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 351
Function: include

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 294
Function: _ci_load

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/modules/frontend/controllers/Detail.php
Line: 464
Function: view

File: /var/www/js.jang.com.pk/html/index.php
Line: 333
Function: require_once

آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر14؍ صفرالمظفر 1441ھ 14؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کراچی: وزیرِ اعلیٰ ہاؤس جانے والے اساتذہ پر لاٹھی چارج

کراچی میں وزیرِ اعلیٰ ہاؤس جانے والے اساتذہ پر پولیس کا  لاٹھی چارج


کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج پر بیٹھے سندھ بھر کے اساتذہ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے مظاہرین کو وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے سے روک دیا۔

پولیس اور اساتذہ کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی ہے، پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیئے: گھر بیٹھے تنخواہ لینے والے 114 اساتذہ و ملازمین برطرف

پولیس نے متعدد اساتذہ کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ اساتذہ نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا ہے اور وہ فوارہ چوک سے آرٹس کونسل آنے والی دونوں سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

اساتذہ کے احتجاج کے باعث اطراف کے علاقوں اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہو گئی ہے اور اتوار کو کاروباری دن نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹیں بند ہیں ، تاہم ٹریفک کی معطلی سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

سندھ بھر سے آئے ہوئے ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ ٹیچرز کی جانب سے مستقل نہ کرنے پر حکومت سندھ کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاج جاری ہے۔

احتجاجی اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب تک ہمیں مستقل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

سندھ حکومت کی جانب سے 2015ء میں ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈمسٹریس کی خالی اسامیوں کے لیے ٹیسٹ لیے گئے تھے، جن کے بعد چیف سیکریٹری کی جانب سے کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس نے ڈگریوں کی تصدیق کے بعد اساتذہ کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا اور انہیں بعد میں مستقل کرنے کا کہا گیا۔

تاحال ان اساتذہ کو مستقل نہیں کیاجاسکا ہے، اب کنٹریکٹ ختم ہونے کو ہے تو اساتذہ کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہے اور وہ ملازمتوں کو مستقل کروانے کے لیے کراچی پریس کلب پر احتجاج کر رہے ہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ جب تک تمام اساتذہ کو مستقل نہیں کیا جائے گا ان کا احتجاج ختم نہیں ہوگا، سندھ حکومت ایک جانب روزگار دینے کی باتیں کرتی ہے اور دوسری جانب اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کر کے کئی گھروں کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہے۔

اساتذہ نے مطالبات کی منظوری نہ ہونے پر آج وزیر اعلیٰ و گورنر ہاؤس جانے کا اعلان کیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید